329

پاکستان کا سرپرائز – ملک جہانگیر اقبال

پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں بہت حد تک کمی آچکی ہے ( بظاہر) . حالانکہ جس طرح کا غیظ و غضب بھارتی ریاست اور میڈیا میں نظر آرہا تھا وہ اک محدود جنگ کو کھلی دعوت تھی . پر پھر ایسا کیا ہوا جو جنگ کے آغاز میں بھارت نہ صرف اپنے ارادوں سے باز آگیا بلکہ اس پورے ایڈونچر میں سیاسی حکومت اور بھارتی افواج کے درمیان سخت عدم ہم آہنگی محسوس کی گئی . جہاں مسلح افواج کی ہائی کمان خود پریس کانفرنسز کرتی رہی جبکہ نریندر مودی بلکل خاموش رہا .
ہوا کچھ یوں کہ 26 تاریخ کو پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کیخلاف ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس کی کہ ہم آپکو سرپرائز دیں گے .
اس کا مطلب پاکستان اور بھارت میں یہ لیا گیا کہ شاید سرحد پر کوئی جھڑپ وغیرہ ہو پر ایسا کچھ نہیں ہوا بلکہ اگلے روز بھارت کا جنگی جہاز مار گرایا گیا اور ونگ کمانڈر ابھی نندن زندہ گرفتار کرلیا گیا .
پر ابھی نندن نے پاکستان کے فضائی حدود کی خلاف ورزی کیوں کی ؟
تو جناب ماجرہ کیوں ہے کہ پاکستانی خفیہ ایجنسی کے پاس اطلاعات تھیں کہ مودی سرکار الیکشن سے قبل کوئی سخت ایڈونچر کرنا چاہتی ہے . پس پردہ مہینوں سے اسکی تیاریاں جاری تھیں اور انہی تیاریوں کے دوران نکیال سیکٹر کے قریب بھارتی فوج نے اپنا ٹیک ہیڈ کوارٹر (جہاں دوران جنگ ڈویژن یا کور ہیڈ کوارٹر بنتا ہے ) تیار کیا . ایسا عموماً دوران جنگ کیا جاتا ہے تاکہ محاذ کا قریب سے مشاہدہ کیا جاسکے اور ساتھ ہی فوجی قیادت بوقت ضرورت یہاں مشاورت وغیرہ کیلئے جمع ہوسکیں .
ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کے اگلے ہی روز بھارتی فوج کی ہائی کمان یہاں مشاورت کیلئے جمع ہوئی کہ جنگ کی ابتدا کہاں سے کی جائے اس اجلاس میں بھارت کے علاوہ اک اور ملک کے سینیئر فوجی افسر موجود تھے . ابھی یہ اجلاس جاری ہی تھا کہ سارا علاقہ خوفناک دھماکوں سے گونج اٹھا .
یہ دھماکے دراصل پاکستانی ایئر فورس کے Jf-17 تھنڈر طیاروں کے گرائے NEW (نان ایکسپلوزیو ویپن ) کے تھے جو مرکز کے ارد گرد دائروں کی شکل میں گرے .
جواباً بوکھلائی ہوئی بھارتی فضائیہ نے بنا سوچے سمجھے پاکستانی شاہینوں کا پیچھا کیا تو پاکستانی حدود میں داخل ہوتے ہی انکے جہاز مار گرائے گئے .
نیچے موجود تصاویر اس مقام کی سیٹلائٹ تصاویر ہیں جہاں بھارتی فوج کا “خفیہ” ٹیک ہیڈکوارٹر “تھا” جبکہ مارکنگ سے اندازہ لگائیے کہ کتنے مستعدد نشانے داغے گئے.

تو جناب یہ تھا وہ سرپرائز جس کا اشارہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے دیا تھا .
بھارتی فوجی قیادت اس وقت سخت تذبذب کا شکار ہے . مودی سرکار کی ہدایات کے باوجود سرحد پار کرنے کی ہمت نہیں کر پا رہی . بھارتی فوجی قیادت یقین نہیں کر پارہی کے آئی ایس آئی تک ٹیک ہیڈکوارٹر اور وہاں سینیئر ترین فوجی قیادت موجودگی کی اطلاع کیسے پہنچی ؟
بھارتی فوجی قیادت کو یہ بھی معلوم ہے کہ پاکستان چاہتا تو اک میزائل مار کر پوری سینیئر فوجی قیادت کو صفحہ ہستی سے ہی مٹا دیتا پر اس طرح کا ہلکا حملہ کرکے محض پیغام دیا گیا کہ ہم جب چاہیں جیسے چاہیں جنگ کی بساط لپیٹ سکتے ہیں .
بھارتی فوجی قیادت کو اس بات پر شک کہ مودی سرکار نے ہی کسی طرح یہ خبریں پاکستان تک پہنچائی تاکہ پاکستانی فوج بھارتی فوج کی قیادت مارے تاکہ جنگ کا جواز پیدا ہوسکے . اور اس میں بھارتی فوج کے ہندو انتہاپسند آفیسرز کی خدمات حاصل کی گئیں لہذا اک طرف تو فوج نے سیاسی قیادت سے انٹیلیجنس معلومات کا تبادلہ ختم کیا تو دوسری جانب فوج کے اندر اکھنڈ بھارت کے انتہاپسند نظرئے کیخلاف کومبنگ آپریشن شروع کردیا ہے تیسری جانب امن پسند سیاسی طاقتوں کو مودی کیخلاف سیاسی مواد دینا شروع کردیا ہے (نوجوت سنگھ سدھو کی حالیہ پریس کانفرنس اسکی پہلی کڑی ہے) جبکہ چوتھی جانب بھارتی ایئر فورس کے چیف نے آج پریس کانفرنس میں مودی سرکار کے 350 جیش والوں کے مارے جانے کے دعویٰ کو یہ کہ کر مکمل رد کردیا کہ ایئرفورس والے لاشیں نہیں گن سکتے … !!
اس وقت مودی سرکار مشکل ترین دور سے گزر رہی ہے . تمام عالمی آزاد فورمز بھارت کو پاکستان کے سامنے کمزور مان چکے . امن کا خواہاں کون اور جنگی جنون میں مبتلا کون ہے یہ ساری دنیا جان چکی جبکہ بھارتی فوجی قیادت اور حکمران سیاسی طاقت تاریخ میں پہلی بار اندرون خانہ اک دوسرے سے بیزار ہوچکے ہیں !!

اب یا تو بوکھلا کر بھارتی ریاست پاکستان کے اندر دوبارہ کاروائی کریگی تاکہ ساری توجہ پھر سے جنگ کیجانب موڑی جائے یا پھر اپنے اس اڈونچر کا سیاسی خمیازہ بھگتے گی !!

اس بلاگ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں