231

ولایت بٹ رہی ہے – جہانیزب راضی

وہ مسکرایا اور کہنے لگے؛ “برخوردار! زندگی میں تبدیلی دو میں سے کسی ایک طریقے سے آتی ہے” میں نے پوچھا ؛ “وہ دو طریقے کون سے ہیں؟”

 انہوں نے غور سے مجھے دیکھا اور بولے؛ “فیصلے سے یا پھر پروسیس سے”۔

 میں نے کچھ نہ سمجھنے کے انداز میں ان کی طرف دیکھا تو انہوں نے دوبارہ گفتگو شروع کردی اور کہنے لگے؛ حضرت فُضیل بن عیاض رحمتہ اللہ علیہ کو دیکھ لو وہ ایک ڈاکو تھے ان کا پورا “گینگ” تھا جو راستے میں قافلوں کو لوٹتا تھا وہ خود رات میں اپنی معشوقہ کے گھر چوری چھپے دیوار پھاند کر جایا کرتے تھے، پھر ایک دفعہ جب وہ دیوار کودنے لگے تو ان کے کانوں سے سورۃ الحدید کی آواز ٹکرائی

” کیا مومنین پر ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کے خوف سے لرز جائیں؟(94:16)”

 فضیل بن عیاض رحمتہ اللہ علیہ کی زندگی کا فیصلہ صرف ایک لمحے میں ایک آیت نے کر دیا۔ انہوں نے ڈکیتی چھوڑ دی ،اپنے سارے گینگ کو بھی اپنے ساتھ دین کے کاموں میں لگایا اور لمحے کے فیصلے نے انہیں قیامت تک کے لئے ولایت عطا کردی۔

وہ دوبارہ بولے؛ “تم حضرت ابراہیم بن ادھم رحمۃ اللہ علیہ کو لے لو وہ بادشاہ آدمی تھے۔ روزانہ ان کے بستر پر پھولوں کی پتیاں ڈالی جاتی تھیں خوشبو کا چھڑکاؤ ہوتا تھا تب جا کر کہیں سویا کرتے تھے۔ ایک دن ان کی کنیز جو یہ سارے لوازمات انجام دیتی تھی اسے شوق ہوا کہ بستر پر لیٹ کر دیکھنا چاہیے وہ جیسے ہی لیٹی اس کی آنکھ لگ گئی جب آنکھ کھلی تو ابراہیم بن ادھم  کو سامنے نے کھڑا کیا یا وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی مگر ابراہیم نے اپنے کوڑے سے اس کی پٹائی شروع کردی۔ ابراہیم بن ادھم کی کنیز کبھی ہنستی اور کبھی روتی جاتی۔ ابراہیم بن ادھم نے پوچھا تیرا رونا تو سمجھ میں آتا ہے مگر تو ہنستی کیوں ہے کنیز نے زور کا قہقہہ لگایا اور بولی رونا تو اس بات پر ہے کہ آپ مار رہے ہیں اور جسم پر تکلیف کی وجہ سے رو رہی ہوں لیکن حسن اس بات پر رہی ہوں کہ چند لمحوں کے لیے میری آنکھ لگ گئی تھی تو مجھے اتنا پٹنا پڑھ رہا ہے ہے آپ تو روز اس بستر پر گھنٹوں سوتے ہیں نجانے آپ کو کتنا پٹنہ پڑے گا یہ سنتے ہی ابراہیم بن ادھم رحمۃ اللہ علیہ کے ہاتھوں سے کوڑا چھوٹ گیا، لمحے کے فیصلے نے انہیں ولی کامل بنا دیا۔

 پھر تو ایک دفعہ ابراہیم بن ادھم   نے  راستے میں  کہیں  “پبلک ٹوائلٹ”استعمال کرنا چاہا تو دروازے پر کھڑے نگران نے کہا ” جناب! بیت الخلا استعمال کرنے کے دو درہم ہیں”۔ ابراہیم بن ادھم رحمۃ اللہ علیہ  بے ہوش  ہو کر گرگئے۔ ہوش میں آئے تو لوگوں نے بے ہوشی  کی وجہ پوچھی کہنے لگے؛ “ایک بدبودار جگہ جانے گے دو درہم مانگ رہا ہے میں سوچ رہا ہوں کہ جنت میں جانے کی نہ جانے کیا قیمت ادا کرنی پڑے گی؟ میں نے ان کی گفتگو میں دخل دیتے ہوئے کہا ؛”تو پھر پراسیس سے تبدیلی کا کیا مطلب ہے؟”

انہوں نے کرسی سے ٹیک لگائی اور فرمایا؛ “اخروٹ کا بیج زمین میں جانے کے ڈیڑھ مہینے بعد صرف حرکت شروع کرتا ہے جبکہ لیموں کا بیج ڈیڑھ مہینے میں ہی زمین سے باہر آ جاتا ہے مگر حیران کن بات یہ ہے کہ اخروٹ کا درخت پہلی دفعہ میں ہی من بھر سے زیادہ اخروٹ لے آتا ہے اور لیموں دس دفعہ میں بھی اتنا پھل نہیں لا سکتا جتنا اخروٹ  پہلی دفعہ میں لے کر آ تا ہے۔”

میں نے حیرت سے ان کی طرف دیکھا اور بولا: “حضرت میں کچھ سمجھا نہیں؟ اور پھر گویا ہوئے؛ “مطلب یہ کہ اللہ تعالی کچھ لوگوں پر خصوصی کرم کرتے ہیں اور انہیں لمحوں میں ولایت عطا ہو جاتی ہے مگر اللہ تعالی کی سنت اور طریقہ یہ ہے کہ اگر کسی شخص کے اندر بگاڑ بتدریج آیا ہے تو تبدیلی بھی بتدریج ہی آئے گی”۔

 صبر ولایت کے درجے پر پہنچنے کی پہلی سیڑھی ہے اور شکر ہے دوسری۔

 وہ بولے جس شخص کی زندگی میں شکایت کا “ش” ہوتا ہے اسے کبھی بھی شکر کا “ش” نصیب نہیں ہوتا ہے۔

 مخلوق کی شکایت مخلوق سے  کرنے والے سے خالق کی دوری بڑھتی چلی جاتی ہے۔ جب آپ اپنے والدین کی، بہن بھائیوں کی، بیوی بچوں کی، پڑوسیوں کی، خاندان والوں کی اور ساتھ میں کام کرنے والوں کی شکایتیں ایک دوسرے سے کرنے لگتے ہیں تو پھر آپ کو کبھی “شکر” کی توفیق نصیب نہیں ہوتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی نے “زمانے” تک کو گالی دینے یا برا بھلا کہنے سے منع کیا ہے حدیث کا مفہوم ہے کہ؛ “زمانے کو برا مت کہو کیونکہ زمانہ خدا کی طرف سے ہے”۔ اسی لئے تو فرمایا؛  “مخلوق خدا کا کنبہ ہے” اور آپ کنبے والوں کی شکایت اگر ایک دوسرے سے ہی لگاتے رہیں گے تو خالق کے نزدیک محبوب کہاں سے بنیں گے؟

یاد رکھیں شکایت جتنی بڑی ہو گئی خالق سے دوری  اتنی زیادہ ہو گئی۔

 اہم بات یہ ہے کہ انسان کو جتنا اپنی “مادی زندگی” کی بہتری کی فکر ہے اتنی ہی فکر اسے اپنی “روحانی زندگی” میں بہتری کی بھی ہونی چاہیے۔ میرا لباس، میرا رہن سہن اور میرا کھانا پینا  اچھا ہو مگر میری روح دن بدن مضمحل  ہوتی چلی جائے۔ ایسی  کامیابی  کبھی بھی قلبی اور روحانی سکون کا ذریعہ نہیں بن سکتی ہے اس لیے ولی بن جائے کیونکہ ولایت بٹ رہی ہے۔

اس بلاگ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں