369

تبدیلی ایسے آتی ہے – جہانزیب راضی

سید ابوالاعلی مودودی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا تھا کہ “اگر کہیں پچاس لوگ بندوق کے زور پر زبردستی اقتدار پر قبضہ کریں گے تو کچھ دن بعد سو لوگ بندوق کے زور پر ہی ان سے اقتدار چھین لیں گے، ایسا اقتدار جو طاقت کے زور پر حاصل کیا جاتا ہے وہ جلد یا بدیر طاقت کے زور پر ہی واپس لے بھی لیا جاتا ہے”۔ اسلیئے اصل اقتدار وہ ہے جو لوگوں کے سروں کے بجائے لوگوں کے دلوں پر کیا جائے۔
1989 میں پاکستان میں طاقت کے زور پر اقتدار قائم کیا گیا بلکہ اس کو “خلافت” کا نام بھی دیا گیا۔ یہ اقتدار ملک پاکستان کے طول و عرض میں گیارہ سال تک بلاشرکت غیر قائم رہا اور اس دوران اسلام کو “اپنانے” کے بجائے “دکھانے” کی جتنی شکلیں ہو سکتی تھیں وہ ساری اختیار کی گئیں۔ اوپر سے لے کر نیچے تک کیا فوج، کیا بیورو کریسی اور کیا وزیر و سفیر۔ سب کے سب “پکے نمازی” بن گئے، حکومت میں موجود ہر شخص کو تقوی کا بخار چڑھ گیا اور وہ اسی تقوی کی کیپسول عوام کو صبح و شام کھلانے لگا۔ گیارہ سال تک بظاہر ایسا نظر آتا تھا گویا “ریاست مدینہ” قائم کردی گئی ہے۔
کوڑے مارنے سے لے کر نماز ادا کرنے تک اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسلام کا نفاذ کر دیا گیا لیکن پھر کیا ہوا؟ جیسے ہی اس طاقت کا زور ٹوٹ اوہ سارا بخار جو تقوی اور اسلام کا چڑھا تھا سب کا سب کا فور ہو گیا حتی کہ پورے ملک میں کوئی اس کے خلاف مزاحمت کرنے والا اور پچھلے گیارہ سالوں کے اقتدار کا دفاع کرنے والا تک موجود نہ تھا۔
اب آپ تصویر کے دوسرے رخ کو دیکھیے 1997میں سعادت پارٹی پر پابندی لگا دی گئی۔ جمہوریہ ترکی کے نائب وزیر اعظم نجم الدین اربکان کو اسلام سے ہمدردی رکھنے کی بنیاد پر تاحیات پابند سلاسل کر دیا گیا اوران کا دایاں بازو رجب طیب ایردوان کو چار مہینے کی جیل کر دی گئی۔ طیب ایردوان چار مہینے کی جیل کے بعد باہر نکلے ایک “سیکولر” پارٹی کی بنیاد رکھی، پانچ سال تک بطور مئیر صرف استنبول کی تعمیر و ترقی کے لیے کام کیا، پورے ترکی سے لے کر ساری دنیا تک استنبول آنے والا ہر شخص انگشت بدنداں رہ گیا۔
محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہوجائے گی۔
3 نومبر 2002 کو ترکی میں عام انتخابات ہوئے جس کے نتیجے میں میں طیب اردوان کی انصاف و ترقی پارٹی نے 34.8 فیصد ووٹ حاصل کیے اور 363 نشستوں پر کامیابی حاصل کی مگر طیب اردوان پر کیونکہ انتخابات میں حصہ لینے پر بھی پابندی عائد تھی اس لئے عبداللہ گل بطور وزیراعظم پارلیمنٹ میں پہنچے طیب اردوان پر سے پابندی ہٹائی اور اس طرح 2003 میں طیب اردوان ترکی کے وزیر اعظم منتخب ہو گئے۔ اس دوران بھی وہ صرف لوگوں کے دلوں کو مسخر کرنے اور اپنی عوام کی ہمدردیاں جیتنے میں مصروف رہے باوجود اس کے کہ وہ پانچ وقت کے نمازی تھے حتی کہ فجر کی نماز بھی باجماعت مسجد میں ادا کرتے اور پورے رمضان کے روزے رکھتے لیکن کبھی بھی ان کا یہ عمل قانون کے طور پر ترکی میں نہیں لیا گیا۔
27 جولائی 2007 کو ہونے والے انتخابات میں 46 فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل کئیے 341 نشستوں پر کامیاب حاصل کی اور دوسری دفعہ ترکی کے وزیر اعظم منتخب ہوگئے۔ 12 جون 2011 کو ترکی میں ہونے والے عام انتخابات میں طیب ایردوان کی انصاف و ترقی پارٹی نے 331 کے بجائے 327 نشستوں پر کامیابی حاصل کی مگر وہ 49 فیصد زیادہ آبادی کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے اب اسلام سے متعلق آہستہ آہستہ بڑی تبدیلیاں رونما ہونا شروع ہو گئی تھیں۔
ترکی میں اسلام کا نام لیے بغیر عوامی مقامات پر رومانس کرنے یا بوس و کنار کرنے پر پابندی لگادی گئی۔ اسی طرح شراب پی کر عوامی مقامات پر آنے پر پابندی لگا دی گئی، 90سال بعد ترکی میں اسکارف پر سے پابندی اٹھا لی گئی یاد رہے کہ کسی بھی داڑھی والے مرد اور حجاب والی خاتون کو ترکی کے کالج، یونیورسٹی اور کسی بھی سرکاری ادارے میں جانے کی اجازت نہیں ہوتی تھی یہ تمام بندشیں ختم کردیں۔ اسی طرح ترکی فوج میں آن ڈیوٹی انفرادی نماز کی اجازت بھی نہیں تھی مگر طیب اردوان نے باجماعت نماز کی اجازت دیدی ذہن میں رہے کہ ترکی کے قانون میں نماز کی “دعوت” دینا جرم تھا مگر اب کھلے عام نماز ادا کی جانے لگی اور یہی سب سے بڑی دعوت تھی۔
2014 میں ایردوان نے 3 دفعہ وزیر اعظم بننے کے بعد صدر کا الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا کیونکہ اب وہ قانونی طور پر بھی وزیر اعظم نہیں بن سکتے تھے۔
2015 میں ایک دفعہ پھران کی پارٹی ٹھیک ٹھاک اکثریت کے ساتھ ایوانوں میں جیت کر آئی اور اس دفعہ ترکی سمیت پوری دنیا میں اسلام دشمنوں کو یہ بات سمجھ میں آ چکی تھی کہ جتنے بھی انقلابات اور تبدیلیاں رونما ہونی ہیں وہ انھی پانچ سالوں میں ہیں کیونکہ اگلے الیکشن کے بعد ترکی کا وہ سو سالہ معاہدہ بھی بے حثیت ہوجائے گا جس نے ابھی تک طیب اردوان کے ہاتھ پاؤں باندھ رکھے ہیں۔
16 جولائی 2016 کو فوج میں بغاوت پیدا کر کے مسلسل پانچویں دفعہ منتخب ہونے والی اس حکومت پر شب خون مارنے کی کوشش کی گئی مگر طیب اردوان نے صرف لوگوں کے سروں پر حکومت نہیں کی تھی بلکہ مسلسل ان کے دلوں پر دستک دی تھی۔ ان کے نظریات پر کام کیا تھا اور پھر دنیا نے دیکھا کہ پوری ترک عوام یک جان ہو کر سڑکوں پر آ گئی پولیس نے فوج کا مقابلہ کیا اور باغی فوجیوں سمیت تمام افسروں کو زندان میں پھینک کر اس بغاوت کو ناکام بنادیا۔ طیب اردوان کی محنت رنگ لے آئی وہ لوگوں کے دلوں کو مسخر کرنے میں کامیاب ہو چکا تھا اور اس دفعہ عوام آزمائش میں سرخرو ہو کر نکلے تھے اب وقت کم اور مقابلہ سخت تھا۔
2014 سے ارطغرل کے نام سے ایک طرف میڈیا کے محاذ پر کام جاری تھا اور ارطغرل تو مشہور ہوگیا اس لیے معلوم ہوگیا ورنہ تو اس جیسے سینکڑوں ڈرامے اور فلمیں ہیں جو مستقل ترک نوجوانوں کی ذہن سازی میں مصروف ہیں دوسری طرف بہت بڑی تعداد میں علماء کو ساری دنیا سے جمع کر لیا گیا ہے اور وہ نئی نسل کی تربیت میں مشغول ہیں۔ کبھی چالیس دن تک فجر کی نماز باجماعت ادا کرنے والے بچوں کو ایردوان صاحب خود سائیکلوں کا تحفہ دیتے ہیں اور کبھی کسی حفظ کی تقریب میں پہنچ کر ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔
عوام سے تعلق کا یہ حال ہے کہ 1997 سے لے کر آج تک آنے والے ہر رمضان میں وہ ترکی کے مضافاتی علاقوں کا دورہ کرکے کسی نہ کسی سفید پوش آدمی کے گھر افطار کرتے اور اس کی ضروریات کو پورا کرتے ہیں محض ایک نوجوان کے ٹویٹ کے جواب میں یونیورسٹی کے ہاسٹل تک پہنچ جاتے ہیں اور ان کے ساتھ سحری کرتےہیں۔
عوام کا یہ والہانہ پن دیکھتے ہوئے اردوان نے 2018 میں ایک صدارتی ریفرنڈم کروا کر چیف جسٹس سے لیکر چیف آف آرمی سٹاف کی تعیناتی تک اپنے ہاتھ میں لے لی ہے اب صدر کا صرف ایک حکم کسی کو بھی کسی بھی عہدے پر لگا سکتا ہے اور اسے ہٹا بھی سکتا ہے۔ ان تمام اقدامات کے بعد ایردوان صاحب کی پیش قدمی خاصی تیز ہوگئی ہے کیونکہ عوام ان کے ساتھ کھڑی ہے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ وہ عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔
بالآخر جمعہ 24 جولائی 86 سال بعد کمال اتاترک کے نظریات کا جنازہ بھی آیا صوفیا میں پڑھا دیا گیا۔ آپ کمال دیکھیں کہ ابھی بھی کمال اتاترک کی تصویر ایردوان صاحب کے پیچھے لگی ہوتی ہے، ابھی بھی قومی دن پر ان کی مقبرے پر حاضری بھی ہوتی ہے اور تمام سرکاری دفاتر میں ان کی تصاویر بھی آویزاں ہیں لیکن عملاً صورتحال یہ ہے کہ اتاترک کے نظریات اب آہستہ آہستہ اپنی موت آپ مر رہے ہیں۔ جس خلافت کا خاتمہ بڑی محنت سے 1924 میں اس نے کیا تھا اب سارے ترکی کو اس کے احیاء میں لگا دیا گیا ہے۔بڑی خاموشی کے ساتھ کمال اتاترک کے بجائے سلیمان شاہ، ارتغل اور عثمان کو ہیرو بنا دیا گیا ہے۔
ذرا سوچئے! کتنا فرق ہے صبح شام اور دن رات ریاست مدینہ کا راگ الاپنے والے جھوٹے دعوے داروں میں اور ایک دفعہ بھی “ریاست مدینہ” اور سلام کی جھوٹی لولی پاپ دینے کے بجائے اس کی عملی تصویر پیش کرنے والوں میں۔ مگر سچ تو یہ ہے کہ طیب اردوان بھی اسی قوم کو نصیب ہوتے ہیں جو ترکوں کی طرح جھوٹی تقریروں سے متاثر ہونے کے بجائے پرفارمنس کو منتخب کرتے ہیں۔

اس بلاگ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں