99

بڑی والی محنت – جہانزیب راضی

سُندر پچائی کا تعلق چنائی سے ہے یہ تامل ناڈو چنائی میں پیدا ہوئے۔ 10 اگست 2015 میں انہیں گوگل کا چیف ایگزیکیٹیو ہائر کر لیا گیا۔ یہ اپنے انٹرویو کے لیے گوگل کے ہیڈ آفس پہنچے تو سامنے بیٹھی گوگل کی ٹیم نے ان سے صرف ایک سوال پوچھا سوال بڑا سادہ سا تھا اور اس کے جواب کے لئے ان کے پاس آدھا گھنٹہ تھا گوگل کی مینجمنٹ نے ان سے پوچھا؛ “آپ کی زندگی کی سب سے بڑی ناکامی کیا تھی، اور آپ نے اس پر کیسے قابو پایا؟”

آدھے گھنٹے بعد سُندر پچائی نے گوگل کی ٹیم کو جو جواب دیا وہ بڑا دلچسپ تھا اور ان کا جواب ہمارے معاشرے اور قوم کے لئے بھی باقاعدہ سبق کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہی وہ جواب تھا جس کے بعد گوگل نے نہ صرف انہیں اپنا سی-ای-او بنایا بلکہ کچھ ہی عرصے بعد وہ ایک اور کمپنی “ایلفابیٹ” کے سی- ای- او بھی بن گئے۔ یہی نہیں بلکہ وہ دنیا میں سب سے زیادہ تنخواہ لینے والے ملازم بھی ہیں۔

ان کی سال 2019 کی آمدن 650000 ڈالرز تھی جبکہ ان کے اثاثے 281 ملین ڈالرز کی حد پار کر چکے ہیں۔ اگلے سال ان کی آمدن میں مزید دو ملین ڈالرز کا اضافہ بھی متوقع ہے۔

اب ہم آتے ہیں اس جواب کی طرف جو سُندر پچائی نے نے گوگل کی مینجمنٹ کو دیا سُندر پچائی نے کہا کہ؛ “میری زندگی کی سب سے بڑی ناکامی میرا حد سے زیادہ محنتی ہونا تھا۔ میں ایک دیہاتی گھرانے میں پیدا ہوا تھا صبح چار پانچ بجے اٹھ جاتا اور اپنے ابا کے ساتھ کھیتوں میں کام کرتا رہتا، آٹھ بجے اسکول جاتا واپس آنے کے بعد اماں کے ساتھ مل کر گھر کے سارے کام کرواتا اور پھر پڑھنے بیٹھ جاتا۔”

زیادہ محنت کرنے والوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ان کو اپنے علاوہ کسی کے بھی ہاتھ کا کام پسند نہیں آتا اور نہ ہی وہ کسی اور کے کیے ہوئے کام پر بھروسا کر سکتے ہیں۔ مجھے یہ احساس ہونے لگا کہ میرا حد سے زیادہ محنتی ہونا مجھے مفلوج کر رہا ہے اور پھر میں نے آہستہ آہستہ لوگوں سے کام لینا شروع کر دیا۔ میں نے ٹیم ورک کو یقینی بنایا، اور آج صورتحال یہ ہے کہ میں سوائے اپنے ذاتی کاموں کے کوئی بھی کام اپنے ہاتھ سے نہیں کرتا ہوں۔”

آپ کمال دیکھیئے کہ ہم اپنے بچوں کو، نوجوانوں کو تصویر کا صرف ایک رخ دکھاتے ہیں۔ ہم انہیں صرف محنتی بنانے پر تلے بیٹھے ہیں اور مسئلہ یہ ہے کہ محض “محنتی آدمی” دنیا  میں کبھی کوئی بڑا کام انجام نہیں دے سکتا ہے۔ بچوں کو بتائیں کہ؛ “بیٹا! ہاتھ اور پاؤں چلانے سے کہیں زیادہ اہم دماغ اور انسانوں کو چلانا ہوتا ہے”۔

 یہ سوال ہمیشہ سے میرے ذہن میں رہتا تھا۔ جب میں اداروں یا تعلیمی اداروں میں جا کر بچوں سے یہ سوال پوچھتا ہوں تو وہ بھی سوچ میں پڑ جاتے ہیں۔ میں ان سے پوچھتا ہوں کہ “زیادہ محنت کون کرتا ہے؟ گلی گلی سبزی بیچنے والا یا پھر وہ جو ایئرکنڈیشنڈ کمرے میں لیپ ٹاپ کے سامنے بیٹھا وہ انسان جو صبح بہترین سی گاڑی میں آتا ہے اور انہیں کلف لگے کپڑوں میں واپس چلا جاتا ہے؟ وہ مزدور جو 5، 5 اینٹیں کمر پر لاد کر چوتھی منزل تک جاتا ہے؟ یا پھر وہ کانٹریکٹر جو تھری پیس سوٹ میں گھومتا ہے؟” اور بچے بتاتے ہیں کہ سبزی والا اور مزدوری کرنے والے زیادہ محنتی ہیں۔

پھر میں ان سے سوال کرتا ہوں کہ جب محنتی زیادہ وہ ہیں تو پیسے زیادہ کون کماتا ہے؟

یہ وہ سوال ہے جو ہمیں اپنے بچوں کے ذہنوں میں ضرور ڈالنا چاہیے اور وقتاً فوقتاً خود سے بھی پوچھتے رہنا چاہیے۔ اگر آپ سالوں سے محنت کر رہے ہیں اور پھر بھی نتیجہ نہیں پا رہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ صرف ہاتھ پاؤں سے محنت کر رہے ہیں شاید آپ کو دماغ اور بندے چلانا نہیں آتا ہے۔

دنیا میں سب سے زیادہ قدر سب سے زیادہ سوچنے والے آدمی کی ہوتی ہے، آج آپ دنیا میں جتنی ایجادات دیکھتے ہیں اور وہ تمام فیسلٹیز جو آپ انجوائے کرتے ہیں کسی نہ کسی کی سوچ کا ہی نتیجہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے جا بجا انسان کو سوچنے پر مجبور کیا ہے اور کمال تو یہ ہے کہ قرآن میں جتنی دفعہ نماز کا ذکر ہے کم و بیش اتنی ہی دفعہ “غوروفکر” کرنے کا بھی ذکر ہے۔

اسی لیے میں اکثر یہ بات اپنی ٹریننگز میں بتاتا ہوں کہ کسی کام کا تجربہ ہونا اور کسی کام کے دہرانے کا تجربہ ہونا یہ دو الگ الگ باتیں ہیں اگر آپ پچھلے کئی سالوں سے ایک ہی کام کو دہرائے جارہے ہیں اور آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کو اس کام کا تجربہ ہے تو آپ غلط فہمی کا شکار ہیں دراصل آپ کو اس ایک کام کو بار بار دہرانے کا تجربہ ہے ہاں لیکن اگر آپ نے روزانہ کچھ نہ کچھ نیا سیکھا ہے، اپنے تجربے، مشاہدے اور مطالعے کے نتیجے میں اپنے کام میں کچھ نہ کچھ اضافہ کیا ہے اور آپ چند قدم آگے بڑھ گئے ہیں تو پھر یقینا آپ نے اس کام میں تجربہ حاصل کر لیا ہے۔

لہذا میں اپنے شاگردوں کو کبھی بھی صرف محنت کرنے کا نہیں بولتا ہوں میں انہیں صرف ان کے ہاتھ پاؤں اور زبان چلانے کا مشورہ نہیں دیتا ہوں بلکہ انہیں انسانوں کو ڈیل کرنے اور دماغ چلانے کا مشورہ دیتا ہوں۔ ان کو کلاس روم سے باہر کے تجربے، مشاہدے، تجزیے اور مطالعے میں اضافہ کرنے کا کہتا ہوں میں اکثر کلاس میں کوئی نہ کوئی نئی کتاب کے کر جاتا ہوں اور کورس کے بجائے اس دوسری کتاب اور اس کے مصنف کے بارے میں بتاتا ہوں۔

آپ محنت کیجیے۔ مگر ہمہ جہت کیجیے۔ ہاتھ پاؤں، دل اور دماغ ہر سمت میں اپنی محنت کو بڑھائیے اور ہر جگہ جان لگائیے۔ اس ملک کے نوجوان کا مسئلہ یہ نہیں ہے کہ اس ملک کا نوجوان خواب نہیں دیکھتا ہے بلکہ اس ملک کے نوجوان کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ خواب اتنے چھوٹے دیکھتا ہے کہ اسے جلد پورا کر لیتا ہے۔ آپ کے خواب بڑے ہوں گے تو آپ کی محنت بڑی والی ہو گی ورنہ دوسری صورت میں آپ اپنے دہرائے ہوئے کو ہی ساری زندگی محنت سمجھتے رہیں گے۔

اس بلاگ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں