333

زندگی آپ کی، فیصلہ بھی آپ کا! – جہانزیب راضی

ایک زمیندار کو اپنی زمینوں کی دیکھ بھال کے لئیے ایک کسان کی ضرورت تھی۔ بہت سارے کسان نوکری کے حصول کے لئیے اس کے پاس آئے لیکن اس کا دل کسی پر بھی نہ ٹھک سکا، بالآخر ایک کسان پر وہ مطمئن ہوگیا۔ زمیندار نے سوال و جواب کی اس نشست میں اس سے آخری سوال پوچھا۔
“اپنی کوئی خوبی بتاؤ؟”
“سرکار! جب کبھی آندھی، طوفان آجائے یا موسلادھار بارش ہو تو میں اطمینان سے سوتا رہتا ہوں”۔ کسان نے مسکرا کر جواب دیا۔
ایک لمحے کے لئیے زمیندار کو جھٹکا لگا لیکن مذاق سمجھتے ہوئے زمیندار نے اس کے جواب کو نظر انداز کیا اور خود بھی ہنس دیا۔
کسان واقعی بہت محنتی اور ذمہ دار آدمی تھا۔ ہر کام وقت پر کرتا، زمینوں کی دیکھ بھال، پانی کا خیال، کیڑوں سے بچاؤاور فصل کی کٹائی غرض ہر لحاظ سے وہ ایک قابل انسان تھا۔
اچانک ایک رات زور کی آندھی آئی، تیز ہوا کے جھکڑ چلنا شروع ہوئے اور تھوڑی ہی دیر میں رم جھم شروع ہوگئ۔ بارش کیا تھی آسمان سے سمندر برس رہا تھا، گرج چمک دل دہلارہی تھی۔ زمیندار کی آنکھ کھلی تو وہ آندھی اور بارش کی پرواہ کئیے بغیر کسان کی کٹیا کی طرف بھاگا اور کٹیا پر پہنچتے ہی اس نے زوردار طریقے سے دروازہ پیٹنا شروع کردیا۔
کسان نے دروازہ کھولا، آنکھیں ملتا ہوا باہر آیا اور ہڑبڑا کر پوچھا، “مالک! خیریت آپ اس وقت یہاں؟”
زمیندار نے دو چار لمبی لمبی گالیاں سنائیں اور بولا، “ابے بیوقوف! نظر نہیں آتا،کیسی آندھی اور بارش ہے۔ تم مویشیوں کا خیال رکھنے، بیجوں کو گیلے پن سے بچانے ، ٹریکٹر اور مشینوں کو بارش سے محفوظ کرنے کے بجائے ادھر لمبی تان کر سورہے ہو؟”
کسان نے قہقہہ لگایا اور بولا، “حضور! یہ تو میں نے آپ کو پہلے ہی دن بتادیا تھا کہ جب کبھی آندھی، طوفان یا بارش آتی ہے تو میں اطمینان سے سوتا ہوں”۔ اس بیوقوفی کے جملے کا کیا مطلب ہے؟ زمیندار نے چیخ کر پوچھا۔
“اس کا مطلب بڑا واضح ہے جناب! مجھے معلوم تھا کہ مون سون کا موسم ہے اور کسی بھی وقت بارش ہوسکتی ہے، اسلئیے میں نے پہلے ہی جانوروں کو پکی چھت کے نیچے باندھ کر ان کے پاس چارہ ڈال دیا تھا، بیجوں کی بوریاں گودام میں رکھوادی تھیں جبکہ ٹریکٹر سمیت ساری مشینری بالکل خشک جگہ پر موجود ہے۔ اسلئیے اب آپ بھی جاکر اطمینان سے سوجائیں۔
ہم سب اپنی زندگیوں میں دو قسم کی تکلیفوں کا سامنا کرتے ہیں۔
1) ایک تکلیف وہ ہوتی ہے جو ڈسپلن اور نظم و ضبط کی تکلیف ہوتی ہے۔ وقت پر اٹھنا، وقت پر سونا، کاموں کو ذمہ داری سے انجام دینا۔ اپنی زندگی کا مقصد طے کرنا، مقصد کے ساتھ مخلص ہونا ، چیزوں کو جگہ پر رکھنا ، وقت آنے پر وہیں سے لے لینا اور تمام کاموں کو وقت پر انجام دینا۔ آپ ان تکالیف کو برداشت کرلیں آپ بھی بارش میں گھوڑے بیچ کر سوسکتےہیں۔
2) جبکہ دوسری تکلیف پچھتاوے کی تکلیف ہوتی ہے ۔ یہ اس سے کہیں زیادہ بڑی تکلیف ہے جو ڈسپلن اور نظم و ضبط کے نتیجے میں ہوتی ہےکیونکہ چند ہی دنوں میں یہ ڈسپلن اور نظم و ضبط آپ کی عادت بن کر آپ کی زندگی کا حصہ بن جائیگا لیکن پچھتاوے کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ کبھی بھی آپ کی عادت نہیں بن سکتا۔ پچھتاوا حسرت ہوتا ہے اور حسرتوں کو شاعر کہیں اور ہی بسانے کا بولتا ہے کیونکہ دل داغدار میں پھر اتنی جگہ ہی کہاں ہوتی ہے کہ وہ ان پچھتاؤں کا بوجھ اٹھا کر گھوم سکے۔
اسٹیو جابز کے الفاظ ہیں کہ “میں روز رات کو سونے سے پہلے خودسے پوچھتا ہوں کہ اگر آج رات میں مرگیا تو کیا آج دن بھر میں نے ایسے کام کئیے ہیں کہ جن کی وجہ سے میں اپنی موت پر مطمئن ہوجاؤں؟”
اللہ کے نبیﷺ نے اس بات کو اس طرح فرمایا کہ: ” مرنے کا احساس کرو قبل اس کے کہ تمھیں موت آجائے اور اپنا محاسبہ خود کرلو قبل اس کے کہ تمھارا محاسبہ کیا جائے”۔ ہر وہ چیز جس کا حساب دینا پڑے اس کا مطلب ہے کہ وہ آپ کی تھی ہی نہیں بلکہ آپ کے پاس تو وہ امانت تھی۔ آپ کا وقت، آپ کی صلاحیتیں ، آپ کا دل، دماغ، جسم اور روح یہ سب امانت ہیں، ہمیں ان سب کا جواب دینا ہے۔
یہاں “میرا جسم، میری مرضی” اور “جیسے چاہو جیو” نہیں چل سکتا۔ اگر تو آپ اپنی خواہش پر پیدا ہوئے ہیں اور اپنی خواہش پر دنیا سے چلے جائینگے پھر تو ٹھیک ہے لیکن اگر آپ اپنی مرضی سے نہیں آئے اور جا بھی اپنی خواہش پر نہیں سکتے ہیں تو پھر اس درمیان کے وقت میں آپ کے جسم پر آپ کی مرضی کیسے چل سکتی ہے؟ اور آپ جیسے بھی چاہیں ویسا کیسے جی سکتے ہیں؟
ایک دفعہ مجھ سے کسی نے پوچھا کہ اگر آپ کو اختیار دیا جائے کہ بچوں کے 100 فیصد نمبروں کو تقسیم کریں تو آپ کیسے کریں گے؟ میں نے کہا 50 فیصد مارکس ہر کلاس میں صرف ڈسپلن اور وقت کی پابندی کے کردونگا یا تو پوری قوم سدھر جائیگی ورنہ دوسری صورت میں اسکولز خالی ہوجائینگے۔مجھے خود اس بات کا شدت سے احساس ہوتا ہے کہ ڈسپلن نہ سیکھنے کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ کئی جگہ صرف پچھتاوا ہی پیچھے رہ جاتا ہے۔
ہم بھی عجیب قوم ہیں۔ موٹر سائیکل کو بیوی بچوں کی موجودگی میں لٹا لٹا کر چلائیں گے لیکن وقت پر پیٹرول نہیں ڈلوائیں گے، گھر میں بجلی کے تار اور کھٹکے کرنٹ لگنے کے بعد ٹھیک کروائیں گے، نہ ہیلمٹ پہنیں گے اور نہ ہی سیٹ بیلٹ لگائیں گے لیکن قصوروار صرف اور صرف حکومت اور سرکاری ادارے ہیں۔
دنیا کے تمام مہذب ملکوں میں اسکولز، کالجز اور یونیورسٹیز میں اکاؤنٹنٹ کی طرح ایک کاؤنسلر رکھنا بھی لازم ہے جو بچوں کے شوق اور ان کی دلچسپیاں دیکھ کر ان کے لئیے زندگی کے شعبوں میں جانے کی تجاویز اور مشورے دیتا ہے لیکن ہمارے اسکول، کالج تو ایک طرف یونیورسٹی سے نکلنے والے تک کو نہیں پتا ہوتا کہ اسے کس طرف جانا ہے۔
ہماری قوم کے بچوں کے مستقبل کا فیصلہ وہ خود نہیں کرتے بلکہ ان کی “پرسنٹیج” اور فیلڈ کا “اسکوپ” کرتا ہے اور بچوں کی کیا بات بقول واصف علی واصف صاحب یہاں تو بڑے بڑوں کی آنکھیں اسوقت کھلتی ہیں جب ان کی آنکھیں بند ہونے کا وقت آجاتا ہے۔
بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے پاس سارے جہان کے لئیے وقت ہے۔ ٹی- وی پر آنے والے ہر شو کودیکھنے کا ٹائم ہے، فیس بک، انسٹا گرام اور واٹس ایپ پرساری دنیا کی دوستیاں اور رشتے داریاں نبھانے کا وقت ہے لیکن اپنے ہی لئیے وقت نہیں ہے۔ کبھی ہفتے میں ایک آدھ گھنٹہ بالکل سکون، خاموشی اور اطمینان کے ساتھ کسی پُرسکون جگہ پر بیٹھ کر اپنے بارے میں بھی سوچیں کہ میں کیوں پیدا ہوا ہوں؟ مجھےکیوں پیدا کیا گیا ہے؟ میرے اندر کیا صلاحیتیں اور خوبیاں ہیں؟ کیاکمزوریاں اور خامیاں ہیں؟ کیا میں ایک سطحی زندگی گزارنے کے لئیے پیدا ہوا ہوں؟ صبح کو شام اور شام کو صبح کرکے عمر یونہی تمام کرنے کو پیدا ہوا ہوں؟ اس چار دن کی زندگی میں اپنے “کمفرٹ زون” سے باہر بھی آنا ہے یا بقول اکبر الہ آبادی، ڈبل روٹی کھا کر اور کلرکی کر کے ہی پھولے نہیں سمانا ہے؟
مردہ مچھلی کی طرح زندگی کے سمندر کی لہروں پر ڈولتے ہی رہنا ہے، ہمیشہ ہواؤں کے رُخ پر ہی اڑنا ہے یا کبھی ہواؤں کا رُخ بدلنے کی بھی کوشش کرنی ہے؟اپنی زندگی کو دوسروں کی خواہشات کی نذر کرنا ہے، خود کو زمین پر رکھا ہوا “میٹ” بنانا ہے جس پر ہر کوئی پاؤں پونچھتا ہوا چلا جائے ، مندر کا گھنٹا بننا ہے کہ ہر آتا جاتا “بجاتا” ہوا جائے یا پھر اپنی دنیا آپ پیدا کرنی ہے؟
اپنی دلچسپیوں، خوبیوں اور صلاحیتوں کا جائزہ لیں، اللہ تعالی کی رضا کو پیش نظر رکھیں اور پھر اس کام پر لگ جائیں جس کے لئے آپ پیدا کیے گئے ہیں یاد رکھیں زندگی اور عمر کا تعلق وقت سےنہیں بلکہ رزق سے ہے۔ رزق کے حصول میں جلدی نہ مچائیں، لمبی عمر کے لئے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسروں پر خرچ کرنا، صلہ رحمی کرنا اور حسد نہ کرنا جیسی خوبیاں بتائی ہیں۔
اپنے نوالے میں سے دوسروں کو کھلانا اور بھوکے پیٹ ہونے کے باوجود کسی کو روٹی دے دینا، بھرے پیٹ روٹی دینے سے زیادہ افضل ہے۔ اصل نیکی محض پیسوں کی صورت میں صدقہ و خیرات کرنا نہیں ہے بلکہ اپنے جیسے دس لوگ تیار کر دینا بہت بڑی نیکی ہے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ایسے جیو کے لوگ تم سے ملنے کی آرزو کریں اور جب مر جاؤ تو لوگ تمہاری میت پر آنسو بہائیں۔ لوگوں کی ناکامی کی وجہ یہ نہیں ہے ہے کہ وہ محنت کم کرتے ہیں بلکہ ناکامی کی وجہ یہ ہے کہہ وہ سوچتے بہت چھوٹا ہیں۔
زندگی آپ کی ہے، اور فیصلہ بھی آپ ہی کا ہے! بارش میں سوجائیں یا زندگی بھر گیلے کپڑے سُکھانے میں نکال دیں.

اس بلاگ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں