185

فرصت کے لمحات اور ہم – محمد سنین حسن

بہت پہلے اسٹیفن کووے کی کتاب میں پڑھا تھا کہ انسان اپنی زندگی میں دو دائروں میں دوڑ بھاگ کرتا ہے۔ ایک دائرہ افکار (CIRCLE OF CONCERN) اور دوسرا دائرہ اختیار (CIRCLE OF INFLUENCE) ۔ دائرہ افکار میں وہ کام آتے ہیں جن پر ہم فکر مند تو ہو سکتے ہیں لیکن فکر کے علاوہ کچھ کر نہیں سکتے۔ مثلاً عالمی منڈی میں سونے کی بڑھتی قیمتیں ، پاکستان کی سیاسی صورت ِحال ، امریکہ اور ایران کی جنگ وغیرہ وغیرہ۔ اور دائرہ اختیار میں وہ کام آتے ہیں جن پر ہمارا پورا پورا اختیار ہوتا ہے۔ سر انجام دینے کا بھی اور تبدیل کرنے کا بھی۔ مثلاً اپنے گھر کا کچرا کسی اور کے گھر کے سامنے نہ پھینکنا، غصہ کے وقت اپنے آپ کو قابو میں رکھنا، اپنے گھر میں کسی اچھے کام کا آغاز کرنا وغیرہ۔ یہاں یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ یہ دونوں دائرے ہر فرد کیلئے مختلف ہوتے ہیں۔ مثلاً ایک دکاندار کیلئے پاکستان کا ایٹمی تحفظ دائرہ افکار میں ہوگا لیکن وزیرِ اعظم کیلئے یہ دائرہ اختیار میں ہے۔
سمجھ میں یہ آیا کہ جتنی بڑی ذمہ داری ، طاقت اور صلاحیت ہو گی، دائرہ اختیار اتنا ہی بڑا ہوگا۔ لیکن کوئی بھی شخص عام حالات میں ایک بڑا دائرہ اختیار لے کر پیدا نہیں ہوتا یا یہ کہنا زیادہ مناسب ہے کہ عام حالات میں دائرہ اختیار ہمیشہ چھوٹا اور دائرہ افکار بہت بہت بڑا ہوتا ہے۔ پھر ہو تا یہ ہے کہ ہم اپنے دائرہ اختیار میں کام کرتے جائیں اور وہ بڑا ہوتا جائے گا۔ پھر سفر ماں کے جنازے کو اٹھانے سے شروع ہو کر ایدھی فاؤنڈیشن بن جاتا ہے اور دس ہزار کے قرض سے شروع ہو کر دنیا کا سب سے بڑا بلا سود مائیکرو فنانس کا ادارہ ، اخوت فاؤنڈیشن بن جاتا ہے۔
اب آتے ہیں اصل بات کی طرف۔ اب تک کی گفتگو کا مقصد یہ تھا کہ ہم سب ایک صفحہ پر آ جائیں۔
کرونا وائرس کی صورتحال بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ ہم میں سے اکثر اپنا بہت سارا وقت اس بحث میں ضائع کر رہے ہیں کہ لاک ڈاؤن ہونا چاہئے تھا یا نہیں، مساجد بند کرنے کا فیصلہ ٹھیک ہے یا غلط یا پھر یہ کہ دکانیں پانچ بجے بند کرنی چاہیئں یا دس بجے۔ رہی سہی کسر WRG (Whatsapp Research Group) کے قابل اور مایہ ناز مفکرین جھوٹی افواہیں انتہائی پْر اعتماد لہجے میں پھیلا کر پوری کر رہے ہوتے ہیں ۔ جسے بغیر تحقیق کے آگے بھی بھیجا جا رہا ہوتا ہے۔ اور بالفرض آپ پورے دن کی محنت اور تحقیق کے بعد یہ ثابت کر لیں کہ لاک ڈاؤن غلط ہے ، یہ بتائیں کہ کیا اس سے کوئی فائدہ ہوگا؟ جب تک یہ آپ کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے آپ کو اس پر بحث کر کے وقت کو ضائع ہونے سے بچانا ہے۔ اس کے علاوہ ایسی تمام پوسٹ اور ویڈیوز بھی پھیلانے سے بچیں جو لوگوں میں خوف، مایوسی، غم اور انزائیٹی (ANXIETY) کو فروغ دیں۔
تو ابھی ہمارے دائرہ اختیار میں کیا ہے؟
وہ واحد چیز جسے آپ قابو کر سکتے ہیں وہ آپ کی سوچ ہے۔ اس پوری صورتحال میں اپنی سوچ کو مثبت رکھیں۔ یہ جان لیں کہ یہ صورتحال اپنے ساتھ بہت سارے مواقع لے کر آئی ہے جس سے میں اور آپ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ ذیل میں نکات کی شکل میں کچھ ایسے کام ہیں جو ان اوقات میں آپ کی بہترین سرمایہ کاری ثابت ہو سکتے ہیں۔
1۔ ہماری ریس نما زندگی میں یہ چند گھڑیاں واقعی کسی نعمت سے کم نہیں۔ کچھ دیر کیلئے رْکیں اور اپنی زندگی پر غور کریں کہ یہ کیسی گزر رہی ہے؟ کوئی مقصد بھی ہے یا صرف بھاگے جا رہے ہیں؟یا جو مقصد بنایا تھا وہ زندگی کی بھاگ دوڑ میں بھول تو نہیں گئے؟ اللہ سے تعلق کیسا ہے؟ رزق کی تلاش میں رازق کو کھو تو نہیں دیا؟ اگر ایسا ہے تو آپ بہت خوش نصیب ہیں کہ اللہ نے آپ کو واپس بلانے والوں میں شامل کیا۔ اپنے ایمان کو تازہ کیجیے۔ قرآن کی تفسیر کا مطالعہ کیجیے۔ اس کے لئے سید ابو الاعلٰی مودودی، ڈاکٹر اسرار احمد، نعمان علی خان اور عمر سلیمان بہترین انتخاب ہو سکتے ہیں۔ ان کی تحریریں اور ویڈیوز باآسانی انٹرنیٹ پر دستیاب ہیں۔
2۔ مصروف ترین زندگی میں ہم جنہیں سب سے زیادہ نظر انداز کرتے ہیں وہ ہمارے گھر والے ہیں۔ ان چھٹیوں کو غنیمت سمجھتے ہوئے اپنے گھر والوں کے ساتھ تعلقات کو دوبارہ استوار کیجیے۔ اگر آپ شادی شدہ ہیں تو کچھ وقت نکال کر اپنی زوجہ/ شوہر کے ساتھ بیٹھ کر اب تک کے سفر کا احاطہ کریں۔ اس سفر میں شریک ِ سفر کے کردار کا شکریہ ادا کریں ۔بچوں کو سمجھانے کے بجائے انہیں سمجھنے کی کوشش کریں۔ ان کے ساتھ وقت گزاریں۔ ان کے آگے کے پلان سنیں۔ نہیں بنائے ہوئے تو پلان بنانے میں یا (GOAL SETTING) میں ان کی مدد کریں۔ اپنے بچوں کو نمبروں کی دوڑ سے نکال کر زندگی کے بڑے مقاصد کی طرف لے کر آئیں۔ اگر آپ اس چیز میں اچھے نہیں ہیں تو قدرت نے آپ کو ایک حسین موقع دیا ہے اس مہارت کو سیکھنے کا۔ تعلقات بنانے اور (GOAL SETTING) کے حوالے سے مختلف ماہرین کے لیکچرز سنیں اور ان سے فائدہ اٹھائیں۔ تاکہ آپ کی زندگی بھی بامقصد ہو اور آپ کے بچوں کی بھی۔ اس کے لیے قاسم علی شاہ اور سلمان آصف صدیقی (سی ای او ERDC ) بہت بہترین انتخاب ہو سکتے ہیں۔
3۔ جب آپ نے اپنی سوچ کو بدل دیا ہے، اپنے مقصد کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا ہے تو اب ضروری ہے کہ بقیہ دنوں کیلئے اپنا ایک ٹائم ٹیبل بنا لیں۔ کچھ اہم چیزوں کیلئے کچھ وقت مخصوص کر لیں۔ مثلاً کچھ وقت اپنے اوپر دینے کیلئے (کتابیں پڑھنا، قرآن پڑھنا، آن لائن لیکچر وغیرہ)، کچھ گھر والوں کیلئے مخصوص کر لیں۔ وقت کا کچھ حصہ کوئی نیا کام کرنے کے لئے بھی مختص کریں۔ مثلاً اگر آج تک روٹی نہیں پکائی ہے تو ایک دن روٹی پکائیں یا بچوں کے ساتھ کھیلے ہوئے عرصہ ہو گیا تو ان کے ساتھ چھپن چھپائی یا کوئی کارڈ گیم کھیلیں۔ وقت کی تنظیم کے حوالے سے محمد بشیر جمعہ کی تحریر یں اور ویڈیوز آپکی رہنمائی کر سکتی ہیں۔
4۔ ماہِ شعبان کا آغاز ہو چکا ہے۔ اس وقت کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے ماہِ رمضان کی تیاری کیجیے۔ صبح دفاتر اور اسکول کی بھی چھٹیاں ہیں۔ انفرادی اعمال کے ساتھ ساتھ اجتماعی طور پر بھی اللہ سے تعلقات کو مضبوط بنائیں۔ جس کے لئے فرائض کے ساتھ ساتھ تہجد اور نفلی روزوں کا اہتمام کریں۔ کچھ سورتیں آپ خود بھی یاد کر سکتے ہیں اور گھر والوں کو بھی یاد کروا سکتے ہیں۔
میرے استاد خالد زمان کہتے ہیں کہ تبدیلی جتنی آہستہ اور مسلسل ہوگی اتنی ہی دیر پا ہوگی۔ یقین کریں، جس بے سکونی کے دور میں ہم زندہ ہیں، یہ چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں ہماری زندگی اور تعلقات میں سکون بھی لے کر آئیں گی اور برکت بھی۔
تو کیا آپ اس تبدیلی کیلئے تیار ہیں؟

ہیڈ آف ڈپارٹمنٹ ، شعبئہ تربیت ، دی مسلم جنریشن اسکول
کنسلٹنٹ ، خطیب

اس بلاگ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں