318

یہ بتا کہ قافلہ کیوں لُٹا؟ – جہانزیب راضی

محترمہ کا خیال تھا کہ بچوں کی تربیت میں سب سے بڑی رکاوٹ ان کے شوہر اور انکی ساس ہیں۔ ساس کے بے جا لاڈ پیار اور بہو کی طرف سے اٹھائے جانے والے ہر اقدام کی مخالفت کی وجہ سے وہ بچوں کی خواہ مخواہ طرفداری کرتی ہیں، جبکہ شوہر کی ترجیحات بالکل دوسری ہیں اس لئے اس تمام صورتحال میں بچوں کی تربیت “دیوانے کے خواب” سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہے۔
وہ جس بات پر بچوں پر سختی کرتی ہیں ساس اسی بات میں بچوں کی ہمنوا بن جاتی ہیں۔ شوہر ہر اس بات کو مذاق اور غیر سنجیدگی کا شکار بنا دیتے ہیں جو خاتون خانہ کی طرف سے سب سے زیادہ اہم اور سنجیدہ ہوتی ہے۔ اس سب کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ ان کی شخصیت گھر میں “مذاق” بن کر رہ گئی ہے۔ بچوں کی تربیت “خرافات” میں کھو گئی ہے اور بچوں کے بگاڑ کی تمام تر ذمہ داری اب ان کے والد اور دادی کی ہوگی۔
یہ صرف ان کی کہانی نہیں تھی۔ ہمارے معاشرے کی 90 فیصد ماؤں کا “رونا” یہی ہے کیونکہ ہم جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہتے ہیں اس لئے خاندان کے ہر فرد کا مزاج، پسند ناپسند، تربیت کے معیارات اور ترجیحات کا تعین سب ایک دوسرے سے جدا ہیں۔ بچوں کے باپ نے ساری زندگی ایک دوسرے ہی قسم کے ماحول میں زندگی گزاری ہوتی ہے جبکہ ماں بالکل علیحدہ ماحول میں پرورش پا کر آئی ہوتی ہے۔ ان کو پہلے دن سے ہی اپنی ساس اور شوہر “حرف غلط” کی طرح نظر آرہے ہوتے ہیں جبکہ ساس اور شوہر کو بہو اور اور بیوی کا رویہ توہین اور ہتک آمیز محسوس ہورہا ہوتا ہے۔ والدہ حضور پہلے دن سے اس غلط فہمی کا شکار ہوتی ہے کہ یہ بچے صرف “میرے” ہیں، ان پر صرف میرا “حق” ہے اور ان کی تربیت صرف اور صرف میری “ذمہ داری” ہے۔
تربیت کی غلط “تعریف” کے تعین کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بچوں کے سامنے ہی بچوں کی ماں اپنی ساس اور شوہر کو ٹوکنے اور ان کی غلطیاں نکالنے لگتی ہے، وہ بچوں کے سامنے ہیں اپنے “مجازی خدا” اور اس مجازی خدا کی “ماں” کو یہ باور کرواتی ہے کہ آپ کے نظریات، عقائد، معلومات اور پیچھے سے حاصل کی گئی تربیت سب کی سب ناقص ہے اور اب اپنے بچوں کی “تربیت” تو میں صحیح طورپر کر کے دکھاؤں گی۔
مجازی خدا کے احترام اور ساس صاحبہ کے رعب کی وجہ سے اگر وہ یہ باتیں ان کے سامنے کرنے سے قاصر رہیں تو پھر ان کے پیٹھ پیچھے ان کا ذکر خیر کرتے رہنا، بچوں کے سامنے ہر وقت جلتے کڑھتے رہنا، اپنے گھر والوں اور خصوصا ماؤں اور بہنوں کے سامنے اپنے بچوں کی موجودگی میں اپنے سسرال اور شوہر کی “خامیاں” گنوانا اور پھر اس “خام خیالی” میں بھی رہنا کہ “میں بچوں کی تربیت کر رہی ہوں” اس سے بڑا دھوکہ اور بھلا کیا ہوگا جو کوئی ماں اپنے آپ کو دے گی؟
بچوں کی تربیت سے کہیں پہلے والدین اور خصوصاً والدہ کی تربیت زیادہ ضروری ہے۔ دنیا میں کسی بھی اچھے اور بڑے انسان کے باپ کے بارے میں نہیں بلکہ ماں کے بارے میں پوچھا اور بتایا جاتا ہے، والدہ حضور کو جتنی فکر، غم اور حزن اپنے بچوں کی تربیت کا ہے کم از کم اتنی فکر، غم اور حزن اپنی تربیت کا بھی ضرور ہونا چاہیے۔
اللہ تعالی نے قرآن میں جابجا جنت کے لیے “صبر” کی شرط لگائی ہے اور کمال یہ ہے کہ دنیا میں صبر آپ کو آپ کی مرضی کا نہیں ملتا ہے، بلکہ صبر ہوتا ہی وہ ہے جو آپ کی مرضی کے خلاف ہو اور آپ اس پر حکمت کے ساتھ صبر کر کے دنیا اور آخرت دونوں میں جنت کے مستحق بن جائیں۔
ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم فوری تبدیلی چاہتے ہیں جبکہ حقیقی اور دیرپا تبدیلی صبر کے راستوں سے ہو کر آتی ہے۔ اپنے بچوں کی اس سے بڑی تربیت آپ اور کیا کریں گی جو آپ اپنی ساس، سسرال اور شوہر کی کڑوی کسیلی باتوں پر صبر کرکے اور پوری خندہ پیشانی کے ساتھ ان کے کام آ کر عملاً اپنے بچوں کو دکھائیں گی۔
جب بچہ اپنی ماں کو دیکھے گا کہ ابا سے لے کر دادی تک سب میری ماں کی مخالفت کرتے ہیں، سخت جملے تک بول جاتے ہیں لیکن نہ ان کے چہرے سے مسکراہٹ جاتی ہے، نہ ان کی خدمت میں کمی آتی ہے اور نہ ہی وہ پیٹھ پیچھے کسی کا ذکر برے انداز سے کرتی ہیں۔
یاد رکھیں ماں اور باپ کے بعد سب سے بڑی یونیورسٹی جو آپ اپنے بچوں کو دے سکتے ہیں وہ ان کے نانا، نانی اور دادا، دادی ہوتے ہیں۔ دنیا کی کوئی یونیورسٹی نہ وہ ڈگری دے سکتی ہے اور نہ ہی وہ سبق پڑھا سکتی ہے جو بچے ان یونیورسٹیز سے حاصل کرتے ہیں۔
کہتے ہیں کہ لوگ جتنی محنت اور فکر شادی کے لئے کرتے ہیں اتنی شادی کے بعد کے لئے کر لیں تو ان کی زندگی جنت بن جائیں۔ اصل کرنے کا کام یہ بھی ہے کہ میاں اور بیوی دونوں بیٹھ کر سنجیدگی سے اس بات پر بھی ایک دوسرے ڈسکس کریں کہ وہ اپنے بچوں کو کیا اور کیسا بنانا چاہتے ہیں؟ اس سے بھی زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ وہ ایسا کیوں بنانا چاہتے ہیں اور خدا کے لئے ڈاکٹر اور انجینئر بنانے کے علاوہ کوئی بات کریں۔ اس ملک میں ڈاکٹرز کی کمی ہے اور نہ ہی انجینئرز کی اس ملک میں سب سے زیادہ فقدان انسانوں کا ہے، بچوں کو ایک اچھا با عمل اور با کردار مسلمان اور انسان بنانے کی گفتگو اور فکرکریں۔
یہ بھی طے کریں کہ دونوں ایک ہی سمت میں بچوں کی تربیت کریں گے۔ جب ماں کچھ بولے گی تو باپ اس کا دست و بازو بنے گا اور جب باپ کوئی بات کرے گا تو ماں اس کی پشت پناہ ہوگی۔ اگر دونوں کو ایک دوسرے میں کہیں کوئی غلطی، کمی یا کوتاہی نظر آئے تو اکیلے میں ایک دوسرے کی اصلاح کریں، مگر بچوں کے سامنے اپنے اختلافات کو سات پردوں میں چھپا کر رکھیں۔
وہ بچے اخلاقی اور شخصی طور پر سب سے زیادہ کمزور اور بودے ہوتے ہیں جنہوں نے اپنے والدین کو زندگی بھر لڑتے اور چیختے چلاتے دیکھا ہوتا ہے۔ اگر بچوں کا کوئی بڑا، چاچا، ماموں، نانی، دادی وغیرہ بچے کو کسی بات پر ٹوکیں یا سمجھائیں تو آپ ان کے غلط ہونے کے باوجود بھی خاموشی اختیار کرلیں اور بعد میں بھی بچے کو یہی سمجھائیں کہ وہ تمہارے بڑے ہیں اور ان کا احترام کرنا تم پر واجب ہے۔
آج کل سب سے زیادہ مسئلہ اسکولوں میں اساتذہ کی عزت و احترام کا ہے، کیونکہ والدین اساتذہ کے لئے گھروں میں بے دھڑک بدزبانی کرتے ہیں، نتیجتاً بچوں کے دلوں سے بھی اساتذہ کی عزت نکل گئی ہے۔ بات بات پر لڑنے کے لیے سکول آجانا، آنکھیں بند کر کے بچوں کی باتوں پر اندھا یقین کرنا اور بچے کے سامنے اس کے ٹیچر کی بےعزتی کرنا یا ڈانٹ دینے سے آپ کے خیال میں آپ کونسی “تربیت” کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں؟
اسوقت معاشرے میں سب سے زیادہ کمی بزرگوں کی عزت و احترام کی ہے۔ آج کی نسل یہ سمجھتی ہے کہ ان کے پاس بے انتہا معلومات اور علم ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کا سارا علم ملا کر بھی ان بزرگوں کےتجربے اور دوراندیشی کے برابر نہیں ہوسکتا ہے جو انہوں نے اپنے بال سفید کرکے گھاٹ گھاٹ کا پانی پی کر اور بھانت بھانت کے لوگوں سے مل کر جو حکمت اور بصیرت حاصل کی ہے وہ یونیورسٹیزکی کئی ڈگریوں سے زیادہ قیمتی ہے۔
یاد رکھیں رشتوں کا احترام، بزرگوں کی عزت اور تعلقات کے لحاظ سے بڑھ کر کوئی تربیت نہیں ہے جو آپ اپنے بچوں کو دے سکتے ہیں اور وہ تربیت بھی بھلا کیا تربیت ہوئی کہ جس میں اصلاح سے زیادہ دوسروں پر تنقید ہی ترجیح رہی۔ بچے کے ہر غلط کام پر شوہر سے لے کر ساس تک جس پر چاہا انگلی اٹھا دی اور اپنا دامن جھاڑ کر نکل گئے، کبھی میڈیا کو، کبھی سوشل میڈیا کو، کبھی خاندان والوں کو اور کبھی اسکول والوں کو اپنے بچے کی تربیت پر موردِ الزام ٹھہرایا اور اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآء ہو گئے۔ سوال تو قافلہ لوٹنے والوں سے نہ پہلے تھا اور نہ ابھی ہے۔ راہزنوں سے گلہ کرنے سے بڑی بیوقوفی بھی بھلا اور کیا ہوگی؟ اسی لیے تو شاعر نے کہا تھا؛
نہ ادھر ادھر کی تو بات کر یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا؟
مجھے راہزنوں سے گلہ نہیں، تیری رہبری کا سوال ہے؟

بچے دن بدن غیر سنجیدہ، غیر ذمہ دار، لاپرواہ، بے حس اور چھوٹے بڑوں کی عزت و احترام سے لاتعلق ہوتے جا رہے ہیں۔ بچوں کو موبائل نے ہم سے خرید لیا ہے، ہر بند اور ہر حد کو پار کرنا ان کے لیے آسان ہوتا چلا جا رہا ہے اور ماؤں کا ملبہ اور نزلہ صرف دوسروں پر ہی گررہا ہے۔ دنیا ہو یا آخرت بچوں کا سوال بہرحال نہ سوشل میڈیا سے ہوگا اور نہ ہی میڈیا سے بلکہ صرف اور صرف ان کے والدین خصوصاً ماؤں سے ہوگا اگر آپ کے پاؤں تلے جنت ہے اور آپ کا رتبہ بڑا ہے تو ذہن میں رہے کہ احتساب اور ذمہ داری بھی اتنی ہی بڑی ہے اور اس ذمہ داری سے راہِ فرار کا حساب، جواب اور عذاب بھی اتنا ہی بڑا ہے۔

اس بلاگ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں