339

ہلکا نہ لیں – جہانزیب راضی

بچوں کو پالنا اور بچوں کی تربیت کرنا یہ دونوں بالکل علیحدہ علیحدہ کام ہیں۔ کتے، بلی سے لے کر دنیا کا ہر جانور اپنے بچوں کو بہت بہترین انداز میں پالتا ہے، ان تمام جانوروں میں ویسی ہی “ممتا” پائی جاتی ہے جیسی کسی بھی انسان میں ہوتی ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ انسان بھی بچوں کو پالنے کا نام ان کی تربیت سمجھتا ہے۔ اچھے کپڑے، بہترین کھانا اور پرسکون گھر کا نام تربیت نہیں ہے کیونکہ یہ سارے کام تو جانور بھی بخوبی کر رہے ہوتے ہیں۔
میں اکثر والدین سے پوچھتا ہوں کے بطور والدین آپ کی اپنے بچوں کے حوالے سے کیا ذمہ داری ہے؟ تو وہ چہکتے ہوئے جواب دیتے ہیں کہ “ان کی ہر ضرورت اور ہر خوشی کا خیال رکھنا”۔ اکثر والدین تو کہتے ہیں کہ “ہم کماتے ہی بچے کی خوشیاں اور خواہشات پوری کرنے کے لیے ہیں”۔ آپ یقین کریں اگر جانور بول سکتے تو وہ بھی یہی جواب دیتے۔
سب سے پہلے تو اس غلط فہمی کو دماغ سے نکالئیے کہ آپ کو ماں اور باپ اس لیے بنایا گیا ہے کہ آپ بچے کی ہر خوشی اور ہر خواہش کو پورا کرتے پھریں۔ وہ خوشی جو آپ خود کو غم اور تکلیف میں مبتلا کر کے بچے کو دینگے اس کے نتیجے میں بچوں کے اندر دو بڑی خرابیاں جنم لیں گی۔
1) پہلی یہ کہ وہ ہٹ دھرم، ضدی اور خود غرض بننے کے ساتھ ساتھ وہ اس بات کو اپنا حق سمجھنے لگے گا کہ والدین کی قربانی لے کر اپنی خوشیاں پوری کرنا اس کا حق ہے۔
2) دوسری بڑی خرابی یہ پیدا ہوگی کہ بچے کے اندر احساس جرم پیدا ہوتا چلا جائے گا اور اس کے دل میں والدین سے محبت کے بجائے نفرت پیدا ہو جائے گی۔ اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیجئے کہ بچے سب سے زیادہ حساس طبیعت کے مالک ہوتے ہیں ان کو بہت اچھی طرح پتا چل رہا ہوتا ہے کہ وہ کون سے کام ہیں جو آپ بخوشی ان کے لئے کر رہے ہیں اور کون سے کام ہیں جو آپ کو تکلیف میں ڈال رہے ہیں۔ مزید یہ کہ صرف اتنا ہی ہو تو بھی کافی ہے لیکن والدین اپنی ان تمام قربانیوں کو اٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے، ہر جگہ گنواتے اور سناتے رہتے ہیں۔
وہ بچوں کو بار بار احساس دلاتے ہیں کہ ان کی تعلیم کے لیے، ان کی خوشیوں اور خواہشات کو پورا کرنے کے لئے ان کے والدین کتنی قربانیاں دیتے ہیں اور انسانی زبان میں اس کو “احسان جتانا” بولتے ہیں۔ بار بار احسان جتانے کے نتیجے میں بچوں کے اندر والدین سے نفرت اور اپنے لیے احساس جرم پیدا ہونے لگتا ہے ہے اس لیے بچوں کی خوشیاں اور خواہشیں پوری کرنا آپ کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ ان کو ان کو ایک اعلی کردار اور اخلاق کا حامل انسان بنانا آپ کی ذمہ داری ہے۔
میں والدین کو اکثر بولتا ہوں کہ جب بھی بچہ آپ سے کسی بھی چیز کی ڈیمانڈ کرے تو قطع نظر اس سے کہ آپ کتنے مالدار ہیں یا نہیں۔ آپ کو یہ ضرور دیکھ لینا چاہیے کہ گویا یہ بچے کی “خواہش” ہے یا “ضرورت”؟ کبھی کبھی خواہش پوری کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے لیکن ان کی خواہشات کے مزار تلے خود کو دبا لینا بطور والدین آپ کی ذمہ داری نہیں ہے۔
والدین کے ساتھ ایک اور بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ بچوں کو محبت، پیار، کھلونے، کپڑے اور خوشیاں دیتے ہیں، وہ ان کی ہر ضد اور خواہش پوری کرتے ہیں لیکن جو چیز دینے کی ہے وہ نہیں دیتے یعنی “عزت”۔ والدین اور خصوصا باپ جس ٹون اور انداز میں اپنے بچوں سے گفتگو کرتے ہیں مجھے یقین ہے کہ وہ کسی شریف آدمی سے بھی اس انداز سے گفتگو نہیں کر سکتے یعنی آپ کسی کرسی پر بیٹھے انسان کو خواہ مخواہ اٹھا کر کھڑا کر سکتے ہیں؟ کیا آپ کسی بھی انسان کو اپنی محفل میں سے نکال کر باہر بھیج سکتے ہیں؟ کیا آپ کسی بھی بڑے اور سمجھدار شخص کو “تمہاری تو میں ایسی کی تیسی کر دوں گا” بول سکتے ہیں؟ اور کیا آپ چلتے پھرتے کسی بھی انسان کو بات بے بات دھمکیاں یا تڑیاں لگا سکتے ہیں؟ لیکن والدین یہ سب کام اپنے ننھے دل، دماغ اور جذبات رکھنے والے بچوں کے ساتھ کر رہے ہوتے ہیں، وہ اپنے بچوں سے نہایت بد تمیزی اور بدگوئی کے ساتھ پیش آتے ہیں، اور اپنے بچوں کو اتنی عزت دینے کے لئے بھی تیار نہیں ہوتے ہیں جتنی خاندان کے کسی بھی عام سے عاقل، بالغ آدمی کو دی جاتی ہے۔ اس کے بعد آپ اپنے بچوں سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ معاشرے میں اپنی عزت بنا سکیں گے؟
تعریف اور تنقید یعنی محبت اور غصے کا اظہار بھی والدین کے لئے سیکھنے کی چیز ہے۔ المیہ یہ ہے کہ جب والدین تعریف کرتے ہیں تو مبالغے سے کام لیتے ہیں اور جب تنقید کرتے ہیں توعزت نفس مجروح کرتے ہیں۔ اگر کسی بچے نے گھر کی چیزیں جگہ پر رکھی ہیں تو “میرا بیٹا ہر کام کرتا ہے” یہ کہنا سراسر جھوٹ ہے اور بچہ بھی یہ بات بہت اچھی طرح جانتا ہے کہ وہ گھر کا ہر کام نہیں کرتا بلکہ اس نے صرف ایک چیز جگہ پر رکھی ہے۔ بچی کی کسی بھی ڈرائنگ کو دیکھ کر جب آپ بولتے ہیں کہ “اس سے زیادہ خوبصورت ڈرائنگ کوئی نہیں بناتا” تو آپ اس کے ساتھ زیادتی کرتے ہیں جب آپ یہ جملے اپنی زبان سے ادا کرتے ہیں۔
کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ بچوں میں احساس کمتری اور مختلف قسم کے کمپلیکس کیوں پیدا ہوتے ہیں؟ کیونکہ والدین ان کی تعریف ان چیزوں پر کرتے ہیں جن میں ان کا نہ کوئی کمال ہے اور نہ ہی اختیار یعنی “میرا بیٹا بہت خوبصورت ہے”، “میری بچی کے بال بہت حسین ہیں”، “تم سے زیادہ پیارا تو آج کی تقریب میں کوئی لگ ہی نہیں رہا تھا” وغیرہ وغیرہ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ آپ کے بیٹے سے زیادہ خوبصورت، آپ کی بیٹی کے بالوں سے زیادہ حسین بال اور آپ کے بچوں سے زیادہ پیارے کپڑوں میں کوئی دوسرا بچہ ملبوس نہیں تھا؟ لیکن آپ کے ان جملوں کی وجہ سے جو یقینا اس کے لئے بہت سے دوسرے لوگوں نے نہیں بولے یا اس کے بجائے کسی اور بچے کے لئیے یہ جملے ادا کئیے گئے تو کیا بچہ احساس کمتری اورمحرومی کا شکار نہیں ہوگا؟
تعریف ہویا تنقید ہمیشہ وضاحتی انداز میں کریں۔ مثلا: “میرا بیٹا اپنا ہوم ورک وقت پر مکمل کر لیتا ہے”، “میری بچی کھانے کے برتن جگہ پر رکھتی ہے”، “آپ نے ڈرائنگ میں جو پہاڑ بنائے ہیں بالکل شمالی علاقہ جات جیسے لگ رہے ہیں اب سمندر بھی ایسا بناؤ جیسا ہم نے سی- ویو پر دیکھا تھا” وغیرہ وغیرہ۔ اسی طرح تنقید اور غصہ بھی کام کی بنیاد پر ہونا چاہیے “تم بالکل نکمے ہو”، “تم سے تو کوئی کام نہیں ہوتا”، “تمہاری شکل کام والی ہے ہی نہیں”، “تم ہمیشہ چیزیں توڑ دیتی ہو”، “کوئی ایک کام بھی ڈھنگ سے نہیں کرتیں”۔ یہ سب بےعزتی اور عزت نفس مجروح کرنے والے جملے ہیں۔ اس کے بجائے “بیٹا! آپ کو گلاس مضبوطی سے پکڑنا چاہئیے تھا اس سے پہلے بھی آپ سے گلاس اسی لئیے ٹوٹا تھا”، “اگر آپ کا دھیان اپنی جیب پر ہوتا تو آپ راستے میں پیسے گم نہ کرتے”، “بیٹی! اگر آپ دل لگا کر دھیان سے صفائی کرسکتی ہیں تو ٹھیک ہے مجھے یہ اوپری صفائی بالکل بھی پسندنہیں ہے”۔ اس کے نتیجے میں آپ کا فوکس بچے کی اصلاح پر زیادہ ہوتا ہے اور آپ کا اپنے بچوں کے ساتھ کمیونیکیشن گیپ بھی پیدا نہیں ہوتا۔ یہاں آپ کو ایک راز کی بات بتاتا چلوں اور وہ یہ کہ چھوٹے بچوں کو ہر بات پر نہ بولنا یا نفی میں سر ہلانا اچھا لگتا ہے یعنی ان کا فطری عمل ہے. ان کی “نہیں” کو بہت زیادہ دل پر لینے کے بجائے بچے کے سامنے آپشنز رکھیں وہ کسی نہ کسی کو ضرور اختیار کرلیتا ہے۔ یاد رہے کہ ایک اعلی کردار اور اخلاق کا انسان آپ نےتیار کرکے اپنے پیچھے چھوڑنا ہے اس لیے اس “مشن” کو بالکل بھی ہلکا نہ لیں۔

اس بلاگ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں