122

کرنے کے کام “کرونا” – جہانزیب راضی

دنیا میں سب سے زیادہ بکنے والی چیز “خوف” ہے۔ ڈیل کارنیگی نے اپنی کتاب “پریشان ہونا چھوڑیئے اور جینا شروع کیجیے” میں اپنی تحقیق لکھی ہے کہ؛ میں 500 ڈاکٹروں سے ملا اور میں نے ان سے پوچھا کیا آپ کے پاس آنے والے تمام مریض واقعی کسی نہ کسی بیماری کا شکار ہوتے ہیں؟ ڈاکٹروں نے جواب دیا کہ 70 فیصد صرف بیماری کا خوف لے کر آتے ہیں جبکہ باقی 20 فیصد بھی اگر چاہیں تو خود سے گھر بیٹھے کسی چھوٹے موٹے ٹوٹکے، دوا یا پھر صبر کے ذریعے سے اپنا علاج کرسکتے ہیں۔
دنیا میں سیلف ہیلپ لکھی جانے والی سب سے بہترین کتابوں میں سرِ فہرست کتاب “سوچیئے اور امیر ہو جائیے” کہ مصنف نے نپولین ہل نے اپنی کتاب کے آخری مضمون میں 6 خوفوں کا ذکر کیا ہے جس میں موت کا خوف سب سے زیادہ اور فوری اثر کرنے والا ہے۔ ایک مارکیٹنگ کمپنی نے ایک ریسرچ کی اور مختلف لوگوں کو مختلف جملے سکھاکر بھکاری کے بھیس میں سگنلز پر کھڑا کردیا، شام میں جس شخص کے پاس سب سے زیادہ بھیک جمع ہوئی اس کا جملہ بڑا دلچسپ تھا۔ وہ سگنل پر رکنے والی ہر گاڑی کے ڈرائیور کو بولتا؛ “بھائی! خدا کے نام پر کچھ دے جاؤ، ہوسکتا ہے کہ اگلے سگنل پر موت تمھاری منتظر ہو”۔
ٹھیک ایک صدی پہلے 1918 جنوری سے 1920 دسمبر تک “انفلوئنزا” کی وباء پھوٹ پڑی اس کو “اسپینش فلو” بھی بولا جاتا ہے۔ اس نے تقریبا پورے یورپ کو اور دنیا کی کل آبادی کے 27 فیصد حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، 500ملین لوگ اس سے متاثر ہوئے اور 200 ملین کے قریب لوگ اس میں ہلاک ہوگئے۔ اٹلی کی چار لاکھ سے زیادہ آبادی اس وباء سے تباہ ہوگئی جبکہ امریکہ کے ایک لاکھ 75 ہزار لوگ اس وباء کے باعث مارے گئے۔
اس سے پہلے 1520 میں میکسیکو میں اسمال پاکس کی وباء نے جنم لیا، جس نے میکسیکو کی 5.8 ملین آبادی کو دنیا سے فنا کردیا۔ 1616 سے لیکر 1620 تک جنوبی برطانیہ میں “یلو فیور” نمودار ہوا جس نے 70 فیصد آبادی کو موت کی نیند سلا دیا۔ آپ گوگل کرلیں آپ کو اندازہ ہوجائے گا یہ تمام وبائیں اور پھیلاؤ کی شکل اختیار کرنے والی بیماریوں کا مرکز و محور آپ کو وہ ممالک ملیں گے جہاں کھانے پینے سے لے کر تعلقات قائم کرنے تک کسی حدودوقیود کا نہ پاس رکھا جاتا ہے اور نہ ہی احتیاط برتی جاتی ہے۔
سترہویں صدی عیسوی تک تو یورپ کے لوگ نہانے کو” گناہ” سمجھتے تھے اور اندلس میں فتح حاصل کرنے کے بعد انہوں نے پورے اندلس اور یورپ سے مسلمانوں کے تعمیر کیے گئے واش رومز اور حمام تباہ کردئیے۔ دنیا میں سب سے زیادہ مشہور خوشبوئیں فرانس کی ہیں اور اس کی بھی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ وہاں لوگ ایک ایک مہینہ نہیں نہاتے ہیں اور انہیں بغیر نہائے خود کو “معطر” رکھنے کے لیے ایسی خوشبوئیں بنانا پڑتی ہیں۔
آپ کو یورپ میں ایفل ٹاور کی بلندی تک انتہائی صاف ستھرے اور چمکتے دمکتے باتھ رومز مل جائیں گے لیکن اپنی گندگی کو صاف کرنے کے لئے اس باتھ روم میں پانی کا انتظام آپ کو خود ہی کرنا ہوگا ورنہ دوسری صورت میں آپ ٹشو سے پونچھ کر باآسانی باہر آسکتے ہیں۔
عام طور پر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مشہور زمانہ حدیث کا ترجمہ “صفائی نصف ایمان ہے” کرتے ہیں اور پھر اس کی مثالوں میں یورپ کی صفائی ستھرائی میں رطب اللسان ہوجاتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہاس حدیث کا صحیح ترجمہ “پاکیزگی نصف ایمان ہے” اور پاکی کیا چیز ہوتی ہے چین سے لے کر یورپ تک اس کو “ڈیفائن” کرنے میں ناکام ہے۔ یہ مسلمانوں پر اللہ کا کرم ہے کہ اس نے پاکیزگی کا تصور دے کر ہمیں بہت سی ان روحانی بیماریوں سے بچا لیا جن سے یورپ “صفائی” رکھ کر بھی بچنے سے قاصر ہے۔
آپ کھانے پینے کے معاملات دیکھ لیں، پیاز ادرک اور لہسن جیسی حلال چیزیں بھی اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھا کر مسجد آنے سے منع فرمایا تو آپ کے خیال میں وہ دین چمگادڑ کا سوپ، سورکا روسٹ اور بندر کا مغز کیسے برداشت کر سکتا ہے؟ یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ بیماری منجانب اللہ ہوتی ہے اس کا علاج اور احتیاط بھی بطور مسلمان ہم پر واجب ہے کہ ہمیں تو ویسے بھی اونٹ باندھ کر توکل کرنے کا حکم ہے لیکن افسوس تو یہ ہے کہ؛
یورپ کی غلامی پہ رضامند ہوا تو، مجھ کو تو گلہ تجھ سے ہے یورپ سے نہیں ہے
سوائے ایران کے کسی مسلمان ملک میں کوئی موت کرو نا سے واقع نہیں ہوئی ہے۔ مسلمان ممالک میں جتنے بھی کرونا کے کیسسز سامنے آئے ہیں وہ باہر سے آنے والوں میں پائے گئے ہیں اور ان سے بھی کسی میں منتقل نہیں ہو سکے۔ ہم روز صبح سے لے کر رات تک پانچ وقت وضو کرتے ہیں، تین تین بار اپنے منہ سے لے کر پاؤں تک دھوتے ہیں، ہر جمعہ کو غسل کرتے ہیں، جیسے ہی ناپاکی کی حالت میں آتے ہیں فوری غسل کرنے چلے جاتے ہیں، سر کے بال سے لے کر پاؤں کے ناخن تک اپنے جسم کا ہر ہر عضو دھوتے اور صاف کرتے ہیں، ذبح شدہ مخصوص جانوروں کا گوشت کھاتے ہیں، دن میں سینکڑوں بار ناک میں خلال اور حلق میں غرارے کرتے ہیں پھر بھلا کیسے ممکن ہے کہ اس سب کا اہتمام کرنے والے کو بھی کوئی “کرونا” چھو کر گزر جائے؟
خواہ مخواہ اپنی عوام کو خوف و ہراس کا شکار کرنے، سراسیمگی کا ماحول بنانے اور اپنی معیشت کا بھٹہ بٹھانے کے بجائے لوگوں کو حوصلہ دینے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے پر لگایا جانا زیادہ ضروری ہے۔ ویسے سوال تو یہ بھی بنتا ہے کہ وہ سندھ حکومت جسے کراچی سمیت پورے سندھ میں سڑتے کچرے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، جسے ابلتے گٹروں میں بہتی عوام کی عزت نفس کی کوئی پرواہ نہیں ہے، وہ “سائیں سرکار” جسے سندھ دھرتی کے بچوں کی تعلیم اور مستقبل سے کوئی واسطہ اور مطلب تک نہیں ہے اور جو تھرپارکر میں پیاس سے سسکتے، بھوک سے بلکتے اور موت سے تڑپتے بچوں کو اے- ٹی- ایم کارڈ کے طور پر استعمال کرتی ہو۔ اسے اچانک” کرونا کی وجہ سے عوام سے اس قدر ہمدردی اور محبت کہاں سے پھوٹ پڑی؟ سندھ میں ڈائریا سے مرنے والوں اور کتے کے کاٹنے سے موت کے منہ میں جانے والوں کا ڈیٹا نکالیں تو اس کے مقابلے میں میں کرونا بےچارہ تو”کل کا بچہ” ہے جسے سائیں سرکار کو اتنی توجہ دینے کی بھی ضرورت نہیں تھی۔
پھر یہ پھرتیاں، تعلیمی اداروں کی بندش اور پورے صوبے میں لاک ڈاؤن سے کہیں بین الاقوامی اداروں کی توجہ(فنڈز) مبذول کروانا تو مقصود نہیں؟ دنیا کی نظروں میں آپ ہائی- لائٹ ہوں گے، بریکنگ نیوز میں آئینگے، معیشت کا رونا روئینگے، معصوم بچوں کی تعلیم کے نقصان کے ازالے کے لئے ظالم دنیا کے سامنے گریہ و زاری کریں گے، تبھی تو خزانوں کے دہانے کھلیں گے۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ سوائے چین کے شہر ووہان اور اٹلی کے ایک شہر کے دنیا کے کسی شہر میں کوئی لاک ڈاؤں نہیں ہوا ہے اور ان دونوں شہروں میں بھی کرونا سے اموات کی شرح لگ بھگ 400 اور 500 تک پہنچ چکی ہیں۔
ورنہ اس سے پہلے تو یہ “کرم نوازیاں” اس صوبے اور شہر کے باسیوں کے ساتھ تو نہ تھیں، پھر یہ اچانک سارے جہاں کا درد “سائیں سرکار” کے جگر میں اگر کیوں ٹھہرا ہے؟ اللہ کرے کہ میری یہ ساری گفتگو محض گفتگو ہی ٹھہرے لیکن بہرحال دودھ سے جلا چھاج بھی پھونک کر پیتا ہے اور کراچی والے تو ویسے ہی “جلے دودھ” کے سب سے آسان شکار ہیں۔
کرنے کے کام تو یہ تھے کہ سڑک پر کھڑے کھڑے کھانا پینا ویسے ہی اخلاقی طور پر درست نہیں ہے آپ نے پابندی لگائی اچھی بات ہے۔ آپ پورے شہر سے کچرا اٹھوائیے، تمام ڈھابے کے ہوٹل مالکان کو، چپس والوں اور دوکانداروں کو کوڑے کے ڈبے رکھنے کا پابند کیجئے، سڑک پر گندگی پھینکنے والوں پر جرمانہ عائد کریں، مارکیٹوں کے یونین کے ذمہ داران کو پابند کریں کہ وہ دکانداروں کو ماسک دیں اور ہاتھ دھونے کہ سخت انتظامات کرنے کا کہیں۔
ٹی وی پر ہاتھ دھونے، کوڑا کوڑے دان میں ڈالنے، گندی چیزوں سے اجتناب کرنے اور ماسک پہننے کی مہم چلائیں۔ میڈیا کے ذریعے سے توبہ کو عام کرنے، روزانہ 70 بار استغفار کرنے، صدقہ دینے، تلاوت اور ذکر اذکار کے ذریعے خود کو روحانی طور پر مضبوط بنانے کے حوالے سے مہم چلائیں نہ کہ صرف خوفزدہ کرنے کی مہم لانچ کردیں۔
جو دین بارش نہ ہونے پر ،چاند گرہن ہوجانے پر اور تیز بارش آجانے پر لوگوں کو جمع ہوکر نماز ادا کرنے کی تلقین کرتا ہے اس کے پیروکار اللہ کے عذاب اور آزمائش کے آنے پر اسی سے دور بھاگنے کی فکر میں ہیں۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا “وہ غم جس کے آجانے پر تمہارا رجوع اپنے رب کی طرف ہوجائے اس خوشی سے بہتر ہے جس کے مل جانے پر تم اپنے اللہ کو بھول جاؤ”۔

اس بلاگ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں