205

نظر اور نظریہ – محمد سنین حسن

نظر اور نظریہ میں لکھنے میں تو محض دو حرف کا فرق لیکن دونوں معنی کے لحاظ سے زمین و آسمان کا فرق رکھتے ہیں۔ پہلے ذرا معنی پر بات ہو جائے بھر اہمیت پر نظر ڈالیں گے۔
نظر اللہ تعالی کا وہ تحفہ ہے جو اس نے ہر بینا کو دو آنکھوں کی صورت میں عطا کیا۔ انسان دیکھ سکتا ہے اور اس کے ذریعہ زندگی کے حسین رنگوں سے لطف اندوز ہو سکتا ہے ۔دوسری طرف نظریہ انسان کا نقطہ نظر ہوتا ہے ۔یہ انسانی دماغ کی آنکھ ہے جو ہر فرد کی مختلف ہوسکتی ہے۔ یہ وہ عینک ہے جو آنکھ کے پیچھے ہوتی ہے۔ یہ حالات و واقعات کو سمجھنے اور معنی اخذ کرنے کی صلاحیت ہے ۔مطلب دو افراد ایک ہی چیز کو دیکھ کر مختلف معنی اخذ کر سکتے ہیں ۔ یہاں فرق نظریہ کا آتا ہے ۔ اب اہمیت کی بات کرتے ہیں۔
نظر کی اہمیت سے کسی کو انکار نہیں ہے اس لئے ہمارا موضوع ِگفتگو نظریہ پر زیادہ ہو گا۔ یہ نظریہ اتنا اہم ہوتا ہے کہ انسان کی زندگی بدل سکتا ہے۔ اس بات کو ایسے سمجھیں کہ انسانی دماغ کو اللہ نے اتنا طاقتور بنایا ہے کہ وہ کسی بھی لمحے کچھ بھی سوچ سکتا ہے ۔ مثلاً آپ یہاں بیٹھے بیٹھے پاکستان کی مشہور ترین جگہوں کی سیر کر سکتے ہیں۔ دنیا کا بہترین کھانا کھا سکتے ہیں یا اپنی گاڑی میں اپنی پسند کے انسان کے ساتھ ایک لمبے سفر پر نکل سکتے ہیں ۔ تصوّر(IMAGINATION) کی یہ طاقت اللہ نے صرف انسان کو دی ہے۔ مطلب آپ جب چاہیں اپنی مرضی کی چیزیں سوچ سکتے ہیں۔
بالکل اسی طرح جب ہم کسی بھی قسم کے حالات کا سامنا کرتے ہیں تو ہمارا دماغ اس کی ایک تصویر بنانے لگ جاتا ہے ۔ عام حالات میں یہ تصویر ہمارے گذشتہ تجربات کی مدد سے بنتی ہے۔ یہی تصویر بعد میں ہمیں اپنی آنکھوں سے نظر آتی ہے۔ اگر ہم اس چیز کودھیان میں نہیں رکھیں تو عموماً ہمارا دماغ ہمیں پہلے وہ پہلو دکھاتا ہے جسے ہم نقصان دہ سمجھتے ہیں ۔ مثلا ً آپ کوئی نیا تجربہ کرنے لگیں تو آپ کو خیال آئےکہ نا کام ہو گیا تو کیا ہو گا؟ یا اگر آپ تقریر کرنے کھڑے ہوں اور آپ کو خیال آئے کہ اگر مجھ سے غلطی ہوگئی تو سبب مجھ پر ہنسیں گے وغیرہ وغیرہ۔ اب آپ کیلئے وہ حالت ناقابل ِبرداشت ہو جاتی ہے اور بہت مرتبہ ڈپریشن (DEPRESSION) اور انزائیٹی (ANXIETY) کی بھی وجہ بن جاتی ہے۔
اس سے بچنے کا ایک مفید طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنا نظریہ بدل لیں ۔ یہ ہمارے دائرہ اختیار (CIRCLE OF INFLUENCE)میں بھی ہے۔ مطلب تجربہ کرنے کھڑے ہوں تو یہ سوچیں کہ اگر کامیاب ہو گیا تو کیا ہوگا! یا اگر ناکام بھی ہو گیا تو مجھے ایک طریقہ معلوم ہو جائے گا جس سے یہ کام نہیں ہو سکتا۔ یہ بھی ایک کامیابی ہے۔ کوئی بیماری آئے تو یہ سوچیں کہ اس سے آپ کے گناہ دھل رہے ہیں۔ آپ اللہ کے اور قریب آ رہے ہیں۔ اگر کوئی چیز چلی جائے تو یہ دیکھیں کہ کتنی چیزیں اور نعمتیں ابھی بھی آپ کے پاس موجود ہیں۔ کوئی آپ سے مددمانگے تو سوچیں کہ اللہ نے آپ کو اس قابل بنایا ہے کہ آپ دوسروں کی مدد کر سکتے ہیں۔ اس طرح ہر حالت میں آپ کا نظریہ اور آپ کی سوچ آپ کوالگ احساس دے گی اور یہ احساس آپ کو سکون کی طرف لے جائے گا۔
حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو ان کی زوجہ نے فرمایا “ہائے! کتنا بڑا غم ہے! ” حضرت بلال رضی اللہ عنہ کہنے لگے “(یہ نہ کہوبلکہ یہ کہو) کتنی بڑی خوشی ہے! میں اپنے عزیز ترین لوگوں سے ملنے والا ہوں۔ رسول اللہ ﷺ اور ان کے صحابہ رضوان اللہ عنہما سے”۔ سبحان اللہ! نظریہ کی معراج دیکھیں!
یاد رکھیں چیزوں کو عام نظریہ سے ہٹ کر دیکھناآسان نہیں ہے۔ لیکن مسلسل کوشش سے آپ اس کو آسان بنا سکتے ہیں۔ اس کے لیے یہ پانچ نکات آپ کی مدد کر سکتے ہیں
1۔ سب سے پہلے تو اللہ پر کامل ایمان رکھیں۔ اس نے آپ کو تخلیق کیا ہے ۔ وہ آپ سے محبت کرتا ہے۔ وہ کبھی آپ کا برا نہیں چاہے گا۔
2۔ اچھی صحبت اختیار کریں۔ ان لوگوں میں وقت گزاریں جو مثبت نظریہ رکھتے ہوں۔
3۔ اپنے تجربات میں سیکھنے کا پہلو تلاش کریں۔ کچھ دیر بیٹھ کر سوچیں کہ آپ نے جو کام کئے اس میں کیا بہتر تھا اور کس میں بہتری کی گنجائش ہے۔
4۔ اپنے ساتھ وقت گزاریں اور اپنی سوچ کو وقتاً فوقتاً پرکھتے رہیں۔ بہت مرتبہ کسی کام یا انسان کے بارے میں ہماری جو سوچ بن چکی ہوتی ہے ہم اسے بدلنے کیلئے تیار نہیں ہوتے۔
5۔ اپنی روزمرّہ عادات کو بہتر بنائیں۔ اچھی عادات اچھی سوچ کو جنم دیتی ہیں اور اچھی سوچ ،اچھے نظریہ کی بنیاد بنتی ہے۔
آج ہی سے اپنے نظریہ پر کام شروع کریں۔ یقین مانیے آپ کو اپنی زندگی کی ہر چیز خوبصورت لگنے لگے گی۔

اس بلاگ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں