147

مایوسی کفر ہے – جہانزیب راضی

یکم ستمبر 1939 ہٹلر نے پولینڈ پر حملہ کر دیا۔ اس سے پہلے ہٹلر نے روس کے ساتھ ایک معاہدہ طے کیا جس کے تحت روس بھی پولینڈ پر ٹھیک اس وقت حملہ کرے گا جب جرمنی پولینڈ پر حملہ آور ہوگا۔ جیسے ہی ہٹلر نے پولینڈ پر حملہ کیا تو برطانیہ اور فرانس پولینڈ سے طے شدہ معاہدے کے تحت اسے بچانے کے لیے جنگ میں کود پڑے اور انہوں نے جرمنی پرحملہ کر دیا لیکن جرمنی کو روس کی حمایت حاصل تھی، اس لیے پولینڈ پر باآسانی قبضہ کرلیا گیا جبکہ جرمنی اور روس نے معاہدے کے مطابق پولینڈ کو آدھا آدھا بانٹ لیا۔
اسی طرح جاپان، اٹلی اور جرمنی کے درمیان جنگی معاہدہ طے پا گئے اور تینوں نے مل کر ایک “ٹرائکا” بنالیا۔ جاپان نے نہ صرف چین میں ہونے والی خانہ جنگی سے فائدہ اٹھاکر چین پر حملہ کردیا بلکہ برطانیہ اور امریکہ کی باجگزار ریاستوں اور کالونیوں پر بھی دھاوا بول دیا۔
تیسری طرف اٹلی نے بھی فرانس کے ماتحت کالونیوں پر حملہ کرکے جنگ کا آغاز کر دیا۔ 1939 کے بعد دنیا واضح طور پر دو حصوں میں تقسیم ہو چکی تھی۔ اٹلی، جرمنی اور جاپان ایک طرف جبکہ باقی ساری دنیا جس میں امریکہ، چین، فرانس اور برطانیہ شامل تھے دوسری طرف تھے۔ ایڈولف ہٹلر نے اتاؤلےاور جذباتی پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے ہی حلیف روس پر حملہ کر کے اسے بھی اپنے خلاف کرلیا اور اس طرح تینوں “سپر پاورز” ایک طرف ہو چکی تھیں، جبکہ جنگی جنون میں مبتلا باقی تینوں ریاستیں جاپان، جرمنی اور اٹلی دوسری طرف موجود تھیں۔
سپرپاورز سے مشتمل الائنس جو کہ “ایکسس” کہلاتا تھا نے بقیا تینوں ممالک پر مشتمل الائنس “الائیڈ” پر حملہ کرکے ان کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔ بالآخر 29 اپریل 1945 کو فرانس کی فوجیں جرمنی میں داخل ہوگئیں اور 30 اپریل کو ہٹلر نے اپنی بیوی کے ساتھ خودکشی کرلی، جبکہ امریکہ نے جاپان کے دو بڑے صنعتی اور تجارتی شہروں پر نیوکلیئر بم مار کر اس کے جنگی جنون کو بھی زمین بوس کر دیا اور اس طرح 6 سالوں اور 1 دن تک جاری رہنے والی اس جنگ کا اختتام 2 ستمبر 1945 کو ہوگیا۔
بہرحال اس وقت ہمارا موضوع جنگ عظیم دوم کے بجائے اس کے بعد کی صورتحال ہے۔ جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد جرمنی کے 35 شہر صفحہ ہستی سے مٹ چکے تھے، جبکہ جاپان کے دونوں شہر نیوکلیئر کا نشانہ بن کر کچھ بھی اگانے سے قاصر ہو چکے تھے۔
ونسٹن چرچل اور ہٹلر نے مل کر ایک دوسرے کے لگ بھگ آٹھ سے دس کروڑ لوگ مارے تھے اور اس میں بہت بڑی تعداد سیویلینز کی تھی لیکن 2 ستمبر 1945 کے بعد سارے یورپ نے مل کر قسم کھائی کہ اب ہم نہ صرف یہ کہ لڑیں گے نہیں بلکہ ایک ایسا مثالی اتحاد قائم کریں گے کہ دنیا حیران رہ جائے گی۔ ان 26 ممالک نے مل کر یورپی یونین بنا لی اور اس طرح ایک دوسرے کے آٹھ کروڑ انسانوں کو مارنے والوں نے اپنا ویزا، کرنسی اور سرحدیں تک ایک کرلیں اور اس کے پیچھے بہت بڑا ہاتھ ان کی اپنی عوام کا بھی تھا۔
ان 6 سالوں میں ان لوگوں نے خود کو مستقبل کے لئیے تیار کیا۔ نئے نئے ہنر سیکھے، اپنا وقت اور پیسہ دونوں کو بچایا۔ اس تباہی کے دوران اپنا محاسبہ کرتے رہے کہ انہوں نے کیا کھویا اور کیا پایا؟ اور وہ ساتھ ہی ساتھ اچھے وقت کی منصوبہ بندی ہے پلاننگ بھی کرتے رہے۔
ڈاکٹر وکٹر فرینکل جو کہ ہٹلر کے ہی “گیس چیمبر” میں جاتے جاتے رہ گئے اور ایک اذیت ناک زندگی جرمنی میں موجود نازی کیمپ میں گزاری۔ انھوں نے بعد ازاں “امید کی تلاش” کے نام سے کتاب لکھی اور اپنے ان تجربات کو اپنے روزگار اور کامیابی کا ذریعہ بنا لیا۔
آج ایک دفعہ پھر دنیا اور اس دنیا میں موجود انسان یقینا کسی حد تک اسی جنگی کیفیت کا شکار ہیں۔ پوری دنیا کی معیشت تباہ ہوچکی ہے۔ سیاحت کی 17 ارب ڈالر کے انڈسٹری زمیں بوس ہوگئی ہے، ایمرٹس جیسی ایئرلائن جولائی تک کے لئے گراؤنڈ ہوچکی ہے، تیل کی قیمتیں صفر ہوگئی ہیں۔ دنیا کے 80 فیصد بحری جہاز تیل لے کر صرف سمندروں میں گھوم رہے ہیں اور ان میں مزید ایک قطرہ تیل ڈالنے کی بھی گنجائش نہیں بچی ہے۔ امریکہ میں تاریخی بےروزگاری ہے، آئی- ایم- ایف اور ورلڈ بینک کے مطابق دنیا میں لاک ڈاؤن ختم ہوتے ہی غریبوں کی تعداد دوگنی سے بھی زیادہ ہوچکی ہوگی۔ مقروض ممالک مزید مقروض ہو چکے ہوں گے اور امریکہ میں امن تلاش کرنے والے امریکہ سے بھاگ کر امن تلاش کرنے کی کوششوں میں ہونگے۔
اللہ تعالی قرآن مجید میں فرماتے ہیں کہ “یہ دنوں کے ہیر پھیر ہیں، جو ہم لوگوں کے درمیان کرتے رہتے ہیں” اور فرمایا “بے شک ہر مشکل کے بعد آسانی ہے”۔ جس طرح دوسری جنگ عظیم جیسا تباہ کن وقت گزر گیا اور اس وقت کو یورپ نے اپنے لئیے ایک موقع کے طور پر لیا۔ یقینا 2 ستمبر 1945 سے پہلےاور بعد کے یورپ میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
انہوں نے اس موقع کو غنیمت جانا اور مسائل میں سے اپنے لیے امید تلاش کرلی۔ آپ یقین جانیے یہ وقت بھی گزر جائے گا بلکہ وقت تو ہوتا ہی گزرنے کے لیے ہے اور جس طرح کسی گھر کے اہم ترین فرد کے گزر جانے اور مر جانے سے چند دن کے علاوہ کسی کی زندگی پر کوئی اثر نہیں پڑتا بالکل اسی طرح “کرونا” سے بھی کچھ عرصے کے بعد کسی کو کوئی اثر نہیں پڑنے والا ہے لیکن اصل چیز تو ان حالات میں ہمارا اور آپ کا ردعمل ہے۔
کیا ہم نے اور آپ نے ان دنوں میں اپنے آپ سے کوئی مکالمہ کیا؟ کہ ہم نے اپنا محاسبہ کیا؟ کیا ہم نے کوئی نیا ہنر سیکھا؟ مستقبل کی منصوبہ بندی اور پلاننگ کی؟ یہ وہ اہم سوالات ہیں جو ہمیں خود سے ضرور پوچھ لینے چاہیے۔ ایک بات اور بھی ذہن میں رکھیں دنیا میں صرف ناامیدی ہی نہیں ہے ان حالات میں بے شمار صنعتیں، افراد اور کاروبار تیزی سے ترقی کی جانب بھی گامزن ہیں۔
ایمازون نے 75000 نئے ملازمین کی بھرتی کااعلان کردیاہے۔ نیٹ فلکس نے تین مہینوں میں اپنے اتنے ممبرز بنائے ہیں جتنے وہ پچھلے 7 سالوں میں نہیں بنا سکا تھا، “ڈزنی پلس” نے تو خیر تین مہینوں میں ہی اتنے ممبرز بنا لیے جتنے نیٹ فلکس نے پچھلے 7 سالوں میں بنائے تھے اور آسٹریلیا میں سائیکل انڈسٹری اتنی تیزی سے ترقی کر رہی ہے کہ سائیکل بنانے والوں سے لے کر بیچنے والے تک خوشحال ہوگئے ہیں۔ جبکہ انٹرنیٹ فراہم کرنے والی والی بڑی کمپنیوں سے لیکر چھوٹے ادارے تک بےپناہ فائدہ اور منافع میں جارہے ہیں۔
اگر آپ اب بھی ناامیدی اور مایوسی کا شکار ہیں تو صبح صبح گھر سے باہر کسی کھلی فضا میں جائیے، کائنات کی خوبصورتی اور رعنائیاں دیکھئیے، اس زندگی کے لیے اپنے رب کا شکر ادا کیجئے اور خود کو کل کے لئے تیار کرنے میں لگ جائیے کیونکہ امید عبادت اور مایوسی کفر ہے۔

اس بلاگ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں