72

فیصلہ آپ کا – جہانزیب راضی

شہر پر بجلی مافیا کا قبضہ تھا۔ حکومتیں باریاں لینے میں مصروف تھیں، گویا دو جوڑے تھے اور وہی تبدیل ہوتے رہتے تھے۔ غنڈہ گردی کرنا، بدمعاشی کرنا، بھتہ خوری اور رشوت خوری اس شہر کی واضح اکثریت رکھنے والی جماعت کا وطیرہ تھا۔ اول تو پورے پورے دن شہر میں اور خصوصاً مضافاتی علاقوں میں بجلی نہیں آتی تھی اور جہاں آتی بھی تھی تو بجلی کے بلوں نے عوام کی ناک میں دم کر رکھا تھا۔ شہر ویسے ہی کوڑے کا ڈھیر بنا ہوا تھا، ماحولیاتی آلودگی اپنے عروج پر تھی اور اوپر سے تمام اداروں میں بھتہ خوروں اور غنڈوں کا راج تھا۔
ان حکومتوں نے اپنے مفادات اور باریاں لینے کے لیے شہر کو پرائیویٹ کمپنیوں کے ہاتھوں گروی رکھوا دیا تھا۔ ان پرائیویٹ کمپنیوں کے مالکان کیونکہ پیسے والے اور ملک کے نامی گرامی لوگ تھے اس لیے وفاقی حکومت ان کو فائدہ پہنچا کر عوام کی کمر پر لات مارنے پر تلی ہوئی تھیں۔ ان پرائیویٹ کمپنیوں کو نوازنے کے لیے نہ صرف ان کو بجلی کے نام پر سبسڈی دی گئی بلکہ بجلی کے بلوں میں من مانے اضافے کی اجازت بھی ان کو مل گئی۔
مگر اس شہر کی بظاہر گمنام اور ملک میں ایک بھی سیٹ نہ رکھنے والی پارٹی نے ان حکومتوں اور بجلی مافیا کے گٹھ جوڑ کے خلاف دھرنا دینے اور بھوک ہڑتال پر جانے کا فیصلہ کیا۔ لوگ مذاق اڑاتے رہے کہ جس پارٹی کی پورے ملک میں ایک بھی سیٹ نہیں ہے
وہ بھلا “بجلی مافیا” کا کیا کر سکتی ہے؟ مگر کیونکہ اس پارٹی کا لیڈر ایماندار تھا اور سب سے بڑھ کر عوام کو اس کی ایمانداری اور دیانتداری پر نہ جانے کیوں یقین سا ہوگیا تھا۔
اس نے 15 دن تک بھوک ہڑتالی کیمپ لگانے اور دھرنا دینے کا فیصلہ کیا۔ وجہ یہ تھی کہ شہر کے مضافاتی علاقے کی غریب آبادی میں بجلی نہ ہونے کے باوجود اضافی بل بھیجے گئے تھے۔ شہری پہلے ہی اس “بجلی مافیا” سے تنگ تھے انھیں تو اس نوجوان راہنما میں گویا اپنا مسیحا نظر آ رہا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے عوام کی تعداد ہر آنے والے دن کے ساتھ بڑھتی چلی گئی، اس بھوک ہڑتالی کیمپ اور دھرنے میں سب سے زیادہ نوجوان شریک تھے، تقریبا تین لاکھ سے زیادہ لوگ تھے جو کل وقتی یا جزوقتی پندرہ دنوں میں اس بھوک ہڑتال اور دھرنے میں شریک رہے تھے۔ وہ بار بار لوگوں کو یہ یقین دلاتا تھا کہ بھائی صرف ایک دفعہ مجھے موقع دے دو اس شہر میں بجلی کا کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے صرف ایماندار قیادت کا مسئلہ ہے۔ جن پارٹیوں کو آپ اپنا ہمدرد اور خیر خواہ سمجھتے ہو، جنہیں جھولیاں بھر کے ووٹ دیتے ہو یہ سب کے سب ان بجلی چوروں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔
بظاہر ایماندار نظر آنے والا آپ کا یہ وزیراعظم سب سے بڑا بے ایمان ہے کیونکہ اس کی ناک کے نیچے ساری کرپشن آپ کے شہر میں ہوتی ہے اور یہ سارے بڑے بڑے بزنس ٹائیکونز اس کے دوست اور یار ہیں اس لیے یہ کبھی بھی اس شہر کی بجلی مافیا پر ہاتھ نہیں ڈالے گا۔ عوام کو اس بغیر سیٹ والے ایماندار رہنما پر یقین آنے لگا تھا اور آخرکار سولہویں دن اس نے پانی اور جوس اس کے علاوہ پہلا لقمہ کھا کر اپنی بھوک ہڑتال ختم کی اور بجلی مافیا سے اضافی رقم بھی عوام کو واپس دلوا دی۔
اب عوام کی باری تھی، دو مہینے بعد الیکشنز تھے۔ عوام نے اس کو بھرپور ووٹ دیا مگر بہرحال تعصب کا اپنا ہی اثر اور نشہ ہوتا ہے۔ “وزیراعلی تو اپنا ہونا چاہئے” اور “وزیراعظم شہر سے مخلص ہے” وغیرہ وغیرہ جیسے نعروں نے اپنا اثر دکھایا اور وہ بھاری اکثریت لینے میں ناکام رہا، مل جُل کر حکومت بنائی، کام کرنے اور اصلاحات لانے کی کوششیں کیں مگر بھتہ مافیا نے اس کے ہاتھ پاؤں باندھ کر رکھ دیئے۔ اس نے صرف دو مہینے بعد استعفیٰ دے کر دوبارہ الیکشن لڑا اور شہر کی 80 فیصد نشستیں عوام کے اعتماد کی وجہ سے جیت گیا۔
اس نے آتے ہی ان تمام لوگوں کے بل آدھے سے بھی کم کر دیے جو 200 یونٹس بجلی استعمال کرتے تھے جبکہ 400 یونٹس والے بھی تمام لوگوں کے بلوں میں 25 فیصد تک رعایت دے دی کچھ ہی عرصے میں پورا شہر “لوڈشیڈنگ فری” ہوگیا۔ اس کا پہلا دور حکومت 2013 سے 2018 تک رہا اور پھر وہ دوسری دفعہ وہاں سے 85 فیصد نشستیں لے کر منتخب ہوگیا۔
اس نے فروری 2019 میں ایک دفعہ پھر پریس کانفرنس کر کے اعلان کیا کہ آج کے بعد شہر میں ہراس گھر کی بجلی مفت ہے جو 200 یا 200 یونٹس سے کم بجلی استعمال کرے گا۔ جس گھر میں 201 سے 400 یونٹس بجلی استعمال ہوگی ان کا بل بھی صرف ایک ہزار پچاس روپے آئے گا۔ دلچسپ بات تو یہ کہ اس کے نتیجے میں حکومت کو نہ ہی سبسڈی میں اضافہ کرنا پڑا اور نہ ہی بجلی کی پیداوار میں کیونکہ جو لوگ پہلے 240 یا 250 یونٹس تک بجلی استعمال کر رہے تھے وہ بھی کوشش کرنے لگے کہ کسی طرح 200 پر لا کر روک دو تاکہ ہمارا بل بھی مفت ہو جائے۔ آپ کمال ملاحظہ کریں اس مفت اور سستی ترین بجلی کی فراہمی کے باوجود شہر میں ایک لمحے کی لوڈشیڈنگ بھی نہیں ہے۔ عوام خوشحال ہیں روز اپنے منتخب نمائندے کو جی بھر کر دعائیں دیتے ہیں اور اس کی درازی صحت کے لیے دعا گو بھی رہتے ہیں۔
یہ ذکر ہے دہلی اور اس کے موجودہ وزیر اعلی اروند کیجریوال صاحب کا لیکن میں اس سے بھی زیادہ اس کا کریڈٹ دہلی کی عوام کو دیتا ہوں جو ایماندار اور بے ایمان کا فرق جانتے ہیں، جو اچھے برے کی تمیز رکھتے ہیں، جو تعصب اور نسل پرستی کے جھوٹے اور بدبودار نعروں کے بجائے کام اور حقیقی کاموں پر ووٹ دیتے ہیں، جو اپنے “پردھان منتری” کی تقریروں پر خوش ہونے کے بجائے اس کی پارٹی کو شہر سے اٹھا کر پھینک دیتے ہیں اور ڈیلیور کرنے والے مخلص لوگوں کو حکومتی نشستوں پر براجمان کرواتے ہیں۔ وہ ہندو ہو کر شر اور خیر کا فرق کراچی کے مسلمانوں سے زیادہ اچھی طرح سمجھتے ہیں۔
اس شہر میں بھی یقینا کوئی تو ہے جو “بجلی مافیا” کے خلاف بدترین گرمی بھی سڑکوں پر ہوتا ہے، کوئی پارٹی تو ہے جس کے لوگ کبھی دھرنا اور کبھی گرفتاریاں دیتے ہیں جو بالکل وہی باتیں عوام کو سمجھاتے ہیں جو اروند کیجریوال سمجھاتا تھا مگر تُف ہے اس ڈھائی کروڑ سے زیادہ آبادی رکھنے والے گونگے بہروں کے شہر کو جو صبح سے شام تک اپنے منتخب نمائندوں کے ہاتھوں ذلیل ہوتے ہیں مگر پھر دوبارہ دم ہلاتے وہیں پہنچ جاتے ہیں۔ چلو ہڈی بھی ملے تو سمجھ آئے مگر ہر دفعہ صرف دھتکار اور پھٹکارہی واپس لے کر آتے ہیں۔
پہلے 30 سال تک “اپنوں” کے نام پر دھوکا کھاتے ہیں اور پھر مہینوں مہینوں کے بعد کراچی کو ڈھاکہ سمجھ کر دورہ کرنے والے وزیراعظم کو واقعی کراچی کا ہمدرد اور غمخوار سمجھتے ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا تھا کہ “ظلم کےخلاف جتنی دیر سے اٹھو گے قربانی اتنی زیادہ دینی پڑے گی”۔
دیجئے قربانی کبھی اپنی جانوں کی، کبھی اپنے مالوں کی اور کبھی اپنی عزتوں کی مگر ایک دفعہ بھی ڈھنگ سے کسی ایماندار کا ساتھ نہ دیجیے۔ کراچی کو دہلی کی طرح چمکا دو یا پھر اسی طرح کچرے اور اندھیرے میں سڑتے رہو فیصلہ آپ کا، فیصلہ آپ کے ضمیر کا.

اس بلاگ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں