107

غلطی کس کی ہے؟ – جہانزیب راضی

27 مارچ 1977 سول ایوی ایشن کی تاریخ کا سب سے ہولناک دن تھا۔ نیدرلینڈ سے گرین کنریا ایئرپورٹ، اسپین پہنچنے والا بوئنگ کے-ایل-ایم 4805 تقریبا 234 مسافروں کو لےکر بروقت پہنچنے ہی والا تھا کہ معلوم ہوا گرین کنریا پر دھماکے کی وجہ سے تاحال ایئرپورٹ بند کردیاگیاہے جبکہ فی الحال لاس – راڈیوس ایئرپورٹ پر تمام طیارے لینڈ کریں گے۔
ٹھیک اسی طرح لاس اینجلس سے آنے والا پان – ایم پی پی اے- 1736 بھی گرین کنریا ائیرپورٹ پہنچنے والا تھا لیکن اس کو بھی فی الحال لاس – راڈیوس ایئرپورٹ پر قیام کرنے کو کہا گیا۔ پان – ایم کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس اتنا فیول ہے کہ ہم دو گھنٹے مزید ہوا میں رہ سکتے ہیں لیکن پھر بھی انھیں لاس – راڈیوس ایئرپورٹ پر ہی رکنے کا سگنل دیا گیا ۔
لاس- راڈیوس ایک چھوٹا سا ایئرپورٹ تھا۔ وہاں سہولیات کا بھی فقدان تھا جبکہ دھند کی وجہ سے کنٹرول ٹاور اور رن – وے دونوں ہی نظروں سے اوجھل تھے۔ گرین کنریا ایئرپورٹ کی بندش کی وجہ سے طیارے وہیں آکر پارک ہورہے تھے۔ ایسے میں نیدرلینڈ سے آنے والے کے – ایل – ایم نے بھی اپنا رخ لاس – راڈیوس کی طرف کر لیا، کنٹرول ٹاور نے دو دفعہ کے- ایل- ایم کو ہدایات بھی جاری کیں کہ اس وقت رن – وے پر ایک جہاز پہلے سے موجود ہے اور شدید دھند کے باعث جہاز کا اترنا بھی مشکل ہوگا لیکن دونوں دفعہ طیارے کے پائلٹ نے ان ہدایات کو نظرانداز کرتے ہوئے طیارہ رن- وے پر لینڈ کروادیا اور پان – ایم کے پائلٹ کو اس کا احساس تب ہوا جب طیارہ بالکل ان کے عقب میں پہنچ چکا تھا۔ پائلٹ نے اپنی پوری کوشش کر کے طیارے کو رن- وے سے الٹے ہاتھ کی طرف اتارنے کی کوشش کی لیکن اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی اور پیچھے سے آنے والا طیارہ کے- ایل- ایم 4805 اتنی شدت سے ٹکرایا کہ دونوں جہازوں میں شدید آگ بھڑک اٹھی۔
کے- ایل- ایم کے پائلٹ سمیت تمام کے تمام 234 مسافر جاں بحق ہوگئے جبکہ پان- ایم کا اگلا حصہ جو خوش قسمتی سے رن- وے سے اتر گیا تھا اس میں موجود 61 مسافر زندہ بچ گئے مگر باقی تمام مسافر ہلاک ہو گئے اور اس طرح پائلٹ کی ذرا سی غفلت کے نتیجے میں 583 لوگ موقع پر ہی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور یہ ایوی ایشن کی تاریخ کا بھیانک ترین دن بن کر رہ گیا۔
آپ 28 جولائی 2010 کو کراچی سے اسلام آباد جانے والی ایئربلو کی فلائٹ 202 کا ہی تجزیہ کرلیں۔ پائلٹ صاحب کی ساری گفتگو کو- پائلٹ کو نصیحتیں کرنے اور اپنی بڑائی جتانے پر مشتمل رہی حتی کہ جب جہاز کے آٹو سسٹم نے “ٹین آہیڈ پُل اپ” کا سگنل دیا اور کو- پائلٹ نے اپنے سینئر پائلٹ کو سمجھانے کی کوشش بھی کی کہ “سر! آگے پہاڑیاں ہیں خیال کریں” جبکہ دوسری طرف سے کنٹرول ٹاور بھی مسلسل ہدایات دیتا رہا لیکن جہاز کے 13 دفعہ سگنلز دینے کے باوجود پائلٹ صاحب کی حد سے بڑھی ہوئی خود اعتمادی نے بالآخر 152 لوگوں کی جان لے لی اور یہ پاکستان کی ایوی ایشن کی تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا جب کسی طیارہ حادثے میں اتنے لوگ شہید ہوئے۔
آپ 20 اپریل 2010 کو بھوجا ائیر کی فلائٹ 213 کی مثال لے لیں۔ آپ کمال ملاحظہ کریں کہ موسم کی انتہائی خرابی کی وجہ سے کنٹرول ٹاور نے پائلٹ کو ہدایت دی کہ آپ جہاز لینڈ کروانے کے بجائے واپس موڑ لیں کیونکہ موسم شدید خراب ہے مگر ان واضح ہدایات کے باوجود پائلٹ نے اپنا رخ مسلسل اسلام آباد کی طرف کئیے رکھا اور جلد ہی ان کو یہ احساس ہو گیا کہ وہ “مائیکروبسٹ” کی زد میں آچکے ہیں۔ مائیکرو بسٹ ہوا کی وہ کیفیت ہوتی ہے جو اپنی زد میں آنے والی ہر چیز کو پوری قوت سے نیچے کی طرف دھکیلنے کی کوشش کرتی لیکن جب تک نور اللہ آفریدی صاحب کو اس کا احساس ہوتا تب تک بہت دیر ہو چکی تھی اور یہ ایسی “دیرآید” نہیں تھی جو کسی حال میں درست ثابت ہو سکتی۔
میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ ہر دفعہ غلطی پائلٹ کی ہی ہوتی ہے لیکن 80 سے 90 فیصد کیسز میں بہرحال غلطی پائلٹ کی ہی ہوتی ہے وہ ہزاروں گھنٹوں کی فلائٹس لے چکے ہوتے ہیں اس لئے جہاز کے ساتھ ساتھ ان کا خود پر اعتماد بھی “آسمان کو چھو رہا ہوتا ہے”۔
آپ اگر 22 مئی 2020 والے حادثے پر گہرائی سے نظر ڈالیں گے تو آپ کومحسوس ہوگا کہ کہیں نہ کہیں پائلٹ سے غلطی ہوئی ہے یقینا وہ دانستہ نہیں ہوسکتی مگر پھر بھی مسلسل شواہد بتا رہے ہیں کہ پائلٹ پہلے تو خود اعتمادی کا شکار ہوا اور پھر گھبراہٹ کا مگر سلام ہے سجاد گل صاحب کوکہ ان کی آخری آواز میں بھی کمال کی ہمت تھی اور کہیں سے گھبرانے کا شائبہ تک موجود نہیں تھا۔
پاکستان ایئرلائن کے سابقہ ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے آپ جہاز کی خرابی کو بھی نظر انداز نہیں کر سکتے یقینا 7دسمبر2016 والے حادثے پی-کے 66 گلگت سے اسلام آباد آنے والا اے- ٹی- آر طیارہ صرف اور صرف پی آئی اے کی غفلت کا نتیجہ تھا جس میں جنید جمشید سمیت 47 افراد لقمہ اجل بن گئے اور 4 سال گزر جانے کے باوجود بھی وہ کیس تاحال زیر تفتیش ہے۔
پچھلے ایک سال میں پی آئی اے کے ہی 3 طیاروں کے پائلٹس نے لینڈ کرتے وقت اپنی “تھریش ہولڈ اسپیڈ” میں اچھا خاصا اضافہ کیا ہوا تھا اور اس میں پی – کے 8303 والا بدقسمت جہاز بھی شامل تھا۔ 1400سے 1500 کی اسپیڈ کے بجائے لینڈنگ کے وقت طیارے کا “تھریش ہولڈ” 3500 تک تھا اور جب کنٹرول ٹاور سے ہدایت دی گئی کہ آپ اپنا “تھریش ہولڈ”کم کریں تو جواب میں “سب اچھا ہے” کا سگنل دے دیا گیا اس سے بھی زیادہ بدقسمتی یہ تھی کہ طیارے کے لینڈنگ گیئر ہی نہیں کھل سکے لیکن ایسا نہیں ہے کہ یہ صرف پی آئی اے کے طیارے کے ساتھ ہی ہوا ہے۔ آپ گوگل کر لیں آپ کو اندازہ ہوجائے گا کہ دنیا کے تقریبا ہر ملک اور کم و بیش ہر ائیر لائن کے جہاز کے ساتھ کبھی نہ کبھی ایسا ہو ہی جاتا ہے اور اگر آپ کریش لینڈنگ کرنے والے طیاروں کی تاریخ پڑھیں گے تو آپ کو خود پتہ چل جائے گا کہ یا توان طیاروں کے سارے ہی مسافر بچ گئے یا کچھ نہ کچھ ضرور بچ گئے اور آبادی بھی محفوظ رہی ۔
جس جہاز کا انجن ایک دفعہ زمین پر رگڑ کھا گیا تھا جیسا کہ موجودہ شواہدسے ظاہر ہوا ہے تو 107 لوگوں کے ساتھ جہاز کو دوبارہ ٹیک آف کروانا اور پھر اس کی بلندی کو مستقل رکھنا بھلا کیسے ممکن ہو سکتا تھا؟ پھر اس بات کی بھی کیا ضمانت تھی کہ دوسری دفعہ میں اس جہاز کے لینڈنگ گیئر کھل جائیں گے جس کے بالکل صحیح سالم حالت میں بھی نہ کھل سکے؟
اس اندوہناک واقعے کی شفاف تحقیقات ضرور ہونی چاہیے اور اگر پائلٹس کی تربیت میں کمی ہے تو اس کی ذمہ داری بھی بہرحال پی آئی اے ہی کی ہے۔ 1965 سے لے کر اب تک صرف پی آئی اے کی جہازوں کے 18 بڑے کریشز ہوئے ہیں اور 2 پرائیوٹ جہازوں کے۔ آپ پائلٹس کو بار بار ان کی فوٹیجس دکھائیں اور ان غلطیوں کو وبارہ نہ دہرانے کی تربیت بھی کروائیں یہ بات بھی اپنی جگہ ہے کہ جہاز کے پہیوں سمیت کموڈ کے ڈھکن تک پی آئی اے کے جہازوں میں ہل جل رہے ہوتے ہیں۔ اس لئیے پہلے آپ اپنا قبلہ درست کریں ورنہ جس طرح جنید جمشید والے واقعے کے بعد پائلٹ نے اے- ٹی- آر طیارہ عدم اطمینان کی وجہ سے اڑانے سے منع کردیا تھا اسی طرح کوئی اور پائلٹ بھی منع کرسکتا ہے۔
سب سے آسان کام تو ہم نے لگایا ہوا ہے۔ کوئی سڑک پرمرجائے یا جہاز میں سب کو “اللہ کی مرضی”، “قسمت کا لکھا” اور “شہادت کی موت” جیسے لیبل لگا کر بس کنڈکٹر کی طرح “جانےدو! جانےدو” کی آوازیں لگاتے رہتے ہیں۔ عوام کو بھی اپنا رویہ بدلنا ہوگا جنید جمشید کے طیارے کی تفتیش جس طرح چار سال بعد بھی منظر عام پر نہیں آسکی ہے کہیں یہ تفتیش بھی اسی کا شکار نہ ہوجائے اور ہم دوبارہ بکرے ذبح کرکے طیارے اڑانے میں لگ جائیں۔

اس بلاگ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں