70

عذاب(نظم) – طاہرہ فاروقی

میں در در جھانکوں بھلا کہیں
مجھے مانگنے والے رہتے ہیں
مرے چاہنے والے رہتے ہیں
جب مجھ سے سارے کہتے ہیں
آکاش پہ رہ کر نا پیکھوں
جب دھرتی آٶں تب دیکھوں
جب راجا دولت لوٹ بھرے
جب پرجا بھوکی بھوک مرے
تم چاہو مجھکو کب ایسے
جو پیار کروگے سب جیسے
جو لُک لُک نین لگاتےہیں
جو گھٹ گھٹ جیا جلاتے ہیں
اور پیار کے یہ پنچھی پل پل
پھر ملن کی آس لگاتے ہیں
پھر پیاپیاہی گاتے ہیں
اورآس ملن کی نا پاکر
پھر نیل گگن اُڑ جاتے ہیں
وہ عشق کے ماتے کہلاٸیں
اور وفا کی لاج نبھا جاٸیں
پرتم تو ایسے پریمی ہو
جو نام کبھی نا سن چاہو
جو اپنے در نہ بُلا چاہو
ہاں دوجے سبکو ساج سکو
اور گھر گھر مجھکوبانٹ سکو
تاکہ وہ سب ہوں دکھیارے
ترے در پہ آٸیں پھر سارے
توُ درماں مہنگا کردے پھر
تو کرماں مہنگا کردے پھر
ترے لُوٹ خزانے بھر جاٸیں
تری گردن سریے پڑجاٸیں
پھر سانچ کوکوٸ آنچ نہ ہو
دل جیسا کوٸ کانچ نہ ہو
کے ٹوٹے تو بھی پانچ نہ ہو
تب تجھ پر مجھکو پیار آۓ
میں آٶں جیسے یار آۓ
اور دل واری دلدار آۓ
یوں پاٶں دبے کہ چاپ نہ ہو
اور واقف اپنا آپ نہ ہو
تو دیکھے مجھکو شاد نہ ہو
اور دل تیرا آباد نہ ہو
پر چارہ تیرے پاس نہ ہو
مرےمالک ایسی یاس نہ ہو
کوٸ سچامخلص پاس نہ ہو
تب کاہےکوٸ ترےگھر آۓ
تو ہا ہا کرتے مرجاۓ
تب خلقت دیکھ کے ڈر جاۓ
اور توبہ تلہ کرجاۓ
اب پھیر پلٹ کر نا آۓ
جو پل اک بار گزر جاۓ

اس بلاگ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں