105

شادی کا کھانا – جہانزیب راضی

وہ صاحب اتفاق سے میرے ہی برابر میں آ کر بیٹھ گئے تھے۔ ان کی شخصیت نے مجھے بے انتہا متاثر کردیا تھا، وہ یقیناً ان لوگوں میں سے تھے جو صرف اپنے “جثے” سے لوگوں کو چند لمحوں میں متاثر کرنا جانتے ہیں۔ ان کے ہاتھ میں بندی مہنگی سی گھڑی، پاؤں میں موجود برانڈڈ جوتے، کسی اعلی ترین بوتیک سے خریدا گیا تھری پیس سوٹ اور ناک کو مسحور کر دینے والی خوشبو یہ بتانے کے لیے کافی تھی کہ یا تو اس شخص کا ذوق بہت اعلی ہے یا پھر بینک بیلنس۔
بہرحال جو بھی تھا کمال کا تھا۔ میں ابھی ان کی شخصیت کا مشاہدہ کر ہی رہا تھا کہ کھانا کھل گیا۔ زمانہ ہوا کہ میں شادیوں میں کھانے کے پہلے مرحلے میں “ہلہ” بولنے والوں میں شامل نہیں ہوتا، لوگوں کی ہوس، ٹیبلز پر موجود رش اور دھکم پیل کی وجہ سے میں اس “ٹڈی دل” کے چھٹنے کا انتظار کرتا ہوں اور جب “مطلع” صاف ہوجاتا ہے تو خاموشی سے جا کر ایک پلیٹ میں تھوڑا نکال کر لے آتا ہوں، لیکن میرے پڑوس میں بیٹھے “نفیس” صاحب نے پہلی ہی دفعہ میں ہلہ بول دیا تھا۔
جب وہ واپس آئے تو بلند ترین چوٹیوں میں سے بریانی اور تکوں کی چوٹیاں انہی کی پلیٹ میں تھیں۔ وہ ایک ہاتھ سے کولڈرنک اور دوسرے سے میٹھے کی پلیٹ کو بھی مینیج کر رہے تھے، وہ سنبھلتے سنبھلتے اپنی نشست پر پہنچے اور پلیٹس رکھتے ہی انھوں نے دوبارہ کھانے کی ٹیبل کی جانب واپس دوڑ لگادی۔ اس دفعہ سلاد کی ایک بھرپور پلیٹ، مزید کولڈرنک اور کڑاہی گوشت مع تافتان بھی ان کے ہمراہ تھی۔
یہ سب دیکھ کر میری اپنی بھوک بھی چمک اٹھی لیکن پلیٹ والے اصول کو یاد کرتے ہوئے میں اتنا ہی لایا جتنا میرا خیال تھا کہ میں کھا سکتا ہوں۔ ویسے ان موقعوں پر لوگوں کی اکثریت اپنے “پیٹ” سے سوچتی ہے۔ اگر آپ نے کم کھانا نکالا ہے تو آپ یقیناً بعد میں اور نکال سکتے ہیں لیکن اگر آپ نے زیادہ بلکہ بہت زیادہ کھانا نکال لیا ہے اور اس پر جگہ جگہ اپنا ہاتھ اور منہ بھی “مار” رکھا ہے تو خود سوچیں بھلاوہ کیسے واپس ہو سکتا ہے؟
میرے پڑوسی کھانے کے ساتھ مکمل انصاف کرنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن وہ بھی “انصاف” کا نعرہ مارنے کی باوجود انصاف نہ کرسکے۔پلیٹوں میں ہر چیز کم یا زیادہ پڑی رہی، انہوں نے زور کی ڈکار ماری اور اپنی کمر کو پیچھے سے تھوڑا اور نیچے کرلیا۔
یہ صرف ان صاحب کا مسئلہ نہیں تھا۔ میں نے کافی سالوں پہلے ایک تقریر سنی تھی جس کا عنوان تھا “بھوک تہذیب کے آداب بھلا دیتی ہے” اسوقت میں یہ سمجھا تھا کہ یہ تقریر شاید بلکل ہی غریب اور فاقہ زدہ لوگوں کے لئیے کی گئی ہے لیکن مجھے بعد میں آہستہ آہستہ یہ اندازہ ہوگیا کہ دو دن سے تیزابیت کے شکار اور پیٹ کی خرابی میں مبتلا لوگ بھی تھوڑی سی بھوک میں ہی تہذیب کے آداب بھلا کر ایسے بد تہذیبی اور بد تمیز ہو جاتے ہیں گویا زندگی میں پہلی دفعہ ان کو اچھا کھانا کھانے کو نصیب ہوا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ولیمے کے لیے فرمایا “برا کھانا ولیمہ کا کھانا ہے” کیونکہ اس میں غرباء اور فقراء کے بجائے سارے پیٹ بھرے ہی آتے ہیں۔ اکثر لوگ تو اپنے غریب رشتہ داروں کو اس لیے “کٹا” دیتے ہیں کیونکہ وہ کچھ دینے دلانے کے لائق نہیں ہوتے اور مہنگائی کے اس دور میں رکشوں ٹیکسیوں کا سفر کرکے اپنے “معزز” رشتے داروں کے ہاں بھی نہیں جا پاتے۔ اس لیے انہیں “کٹا” دینا سب سے آسان طریقہ ہے۔
آپ المیہ ملاحظہ کریں کہ 2016 کے گلوبل فوڈ سکیورٹی کے مطابق پاکستان 113 ملکوں کی فہرست میں 78 ویں نمبر پر ہے جہاں لوگ دو وقت کی روٹی کے لیے پریشان رہتے ہیں، ورلڈ فوڈ پروگرام کی رپورٹ بتاتی ہے کہ پاکستان کی 43 فیصد آبادی غذائی قلت کا شکار ہے، نوبل ہنگر انڈیکس نے پاکستان کو 119 میں سے 106 نمبر پر رکھا ہے جہاں لوگوں کو ڈھنگ کی خوراک تک نصیب نہیں ہے اور ہم افغانستان سے صرف 32.6 کے سکور کے فرق کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔
اس سب کی وجہ حکمرانوں سے لے کر عوام تک کی بے حسی ہے۔ جو اقتدار میں آکر غیر صحتمند اور لاغر بچوں کی تصاویر اور ایکس-ریز دکھاتے ہیں اور پھر روٹی تک کو عام آدمی کی پہنچ سے دور کردیتے ہیں۔ مڈل کلاس آبادی کے علاقوں میں ہونے والی متوسط طبقے کی شادیوں میں صرف کھانے پر 8،10 اور 15 لاکھ تک لگ جاتے ہیں کیونکہ جب تک اپنا بھرم اور شوشا نہیں دکھائیں گے اس وقت تک برادری، محلے اور خاندان میں ہماری ناک بھلا کیسے اونچی ہوگی؟
نبی مہربان صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا “بابرکت ہے وہ نکاح جس میں خرچ کم سے کم ہو”۔ فرمایا “ایک مومن کا کھانا دو کافی ہوجاتا ہے” اور یہاں 500 “مومنوں” کے لیے 600 لوگوں کا کھانا بنایا جاتا ہے۔ انہی مومنوں کے لئے اقبال نے کہا تھا؛
یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کر شرمائیں یہود
آقائے دو جہان صلی علیہ وسلم نے تو یہ بھی فرمایا جس کا مفہوم ہے کہ؛ پلیٹ کے آخری نوالے میں برکت ہوتی ہے اور ہم وہ بدقسمت لوگ ہیں جو گلے تک پیٹ بھر کر بھی برکت سے محروم رہتے ہیں۔ ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ؛ “پلیٹ میں بچ جانے والا کھانا اپنے بچانے والے کو بددعا دیتا ہے کہ اللہ تجھے بھی ویسے ہی ضائع کرے جیسے تو نے مجھے ضائع کیا”۔
اس کی سب سے بڑی وجہ چھوٹی سوچ، تنگ دلی اور اللہ پر توکل نہ ہونا ہے کہ اگر میں نے سارے کا سارا کھانا اپنی پلیٹ میں نہیں بھرا تو شاید میں بھوک سے مر جاؤں گا یا شاید یہ جتنے لوگ تقریب میں آئے ہیں یہ سب میرا کھانا “چھیننے” کے لئے ہی آئے ہیں۔ کتنی عجیب بات ہے کہ زندگی کا تعلق عمر سے نہیں بلکہ رزق سے ہے اور کوئی انسان اسوقت تک دنیا سے نہیں جاسکتا جب تک وہ اپنا آخری نوالہ اور رزق پورا نہیں کر لیتا۔
کتنی دلچسپ بات ہے کہ دنیا میں ہر سال 33 ملین لوگ بے ڈھنگا اور خراب کھانا کھانے کی وجہ سے بیمار ہوتے ہیں جبکہ 4 لاکھ 20 ہزار لوگ صرف کھانے کی وجہ سے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ انبیاء سے لے کر صحابہ اور اولیاء اللہ تک کوئی ایک بھی کبھی ولایت کے مقام پر نہیں پہنچا جب تک اس فاقے نہ کرلئیے ہوں۔ یہ انبیاء کی سنت ہے، دنیا کی کسی بھی مذہب میں ریاضت کے اعلی مراتب تک پہنچنے کا ایک بہت بڑا ذریعہ بھوکا رہنا رہنا اور کبھی آپ خود غور کرلیں صبح سے شام تک بھوکا رہ کر آپ تھوڑا سا کھالیں آپ صحت مند رہیں گے لیکن بے وقت کا کھانا، ہر وقت کا کھانا اور حد سے زیادہ کھانا آپ کو بیماریوں کا مجموعہ بنا دے گا، یہی وجہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا “اپنے پیٹ کو جانوروں کا قبرستان نہ بناؤ”۔
حضرت امام حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ نے قرآن میں 90 مقامات پر انسان کو یقین دلایا کہ اس کا رزق میرے ہاتھ میں ہے، صرف ایک جگہ اللہ خود فرماتا ہے کہ شیطان تمھیں فقر و فاقہ سے ڈراتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں حیران ہوتا ہوں کہ انسان اللہ تعالی کے 90 وعدوں کے مقابلے میں ابلیس پر بھروسہ کرتا ہے۔ اس معاملے میں کچھ اہم نکات پر عمل کرکے ہم خود اپنی زندگیوں میں بھی آسانیاں پیدا کر سکتے ہیں:
جیسا کہ لاہور کے “منال ریسٹورنٹ” میں وہاں کی انتظامیہ نے لکھ کر لگایا ہوا ہے کہ کھانا بچانے کی صورت میں 2 روپے پر گرام کے حساب سے آپ کے بل میں شامل کیا جائے گا، جبکہ کھانا پورا ختم کرنے والوں کے بل میں 10 فیصد رعایت دی جائے گی”۔ اس سے نہ صرف ہوٹل انتظامیہ کو آسانی ہے بلکہ بے انتہا کھانے کی بچت بھی ہے۔
میں نے حیدرآباد کی کئی شادیوں میں دیکھا کہ کھانا ٹیبلز پر رکھ دیا جاتا۔ سالن اور میٹھے کی ڈشز ٹیبل پر آجاتی ہیں، جس سے لوگوں میں اطمینان رہتا ہے، لوگ آرام و سکون کے ساتھ کھانا نکال اور کھا بھی لیتے جب کے باقی کھانا ضائع بھی نہیں ہوتا ہے۔
میں نے ایک شادی میں کھانے کی ٹیبل پر کارڈز فریم ہوئے رکھے دیکھے جو غالباََ میزبان کی طرف سے رکھے گئے تھے اور ان پر رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی وہ احادیث پوائنٹس کی صورت میں درج تھیں جو اوپر ذکر کی گئی ہیں۔
ان سب کاموں سے کھانے نکالنے والوں پر کچھ نہ کچھ اثر تو ضرور ہوگا اور کھانا پلیٹوں میں پڑے رہنے سے بھی بچ جائے گا۔ بطور مسلمان ہمیں اس رزق کا جواب دہ بھی ہونا ہے جو ہم نے ضائع کردیا، حلال میں بھی فضول خرچی کرنے والوں کو اللہ “مسرف” کہتا ہے اور اللہ “مسرفین” کو پسند نہیں کرتا۔ یاد رکھیئے! جس طرح کھانا کھلانے اور کھانا “دکھانے” میں فرق ہے ٹھیک اسی طرح کھانا کھانے اور کھانا “اڑانے” میں بھی بہت فرق ہے، اسلئیے کھانا کھلائیے کہ یہ ثواب کا ذریعہ ہے اور کھانا پورا کھائیے کیونکہ یہ بھی اجر کا باعث ہے۔

اس بلاگ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں