115

سوشل انٹرپرنیورشپ – جہانزیب راضی

وہ نوجوان خاصا پریشان تھا، وجہ واقعی پریشانی والی تھی۔ اس نے پاکستان ائیرلائن کے کسی کورس میں تین سال لگائے تھے اور پچھلے تین سالوں سے وہ اس حسرت میں تھا کہ آج نہیں تو کل جب تبدیلی کا سورج طلوع ہوگا تو پو پھٹتے ہی پہلی کرن اس کے ہی منہ پر پڑے گی، تبدیلی کی کرن تو خیر کیا پڑنی تھی خود اس کی اپنی “کرن” کے بھی اب تک دو چار رشتے آچکے تھے۔ میں نے اسے سمجھایا کہ بھائی!
ان حسرتوں سے کہہ دو کہیں اور جا بسیں
اتنی جگہ کہاں ہیں “تبدیلیء” داغدار میں۔
اور اصل بات تو یہ ہے کہ تبدیلی تو آپ کے اپنے اندر ہوتی ہے۔ آخر کوئی تو وجہ ہوگی ہی نا کہ ناصر کاظمی نے اتنی بڑی بات کہہ دی کہ؛
دل تو اپنا اداس ہے ناصر
شہر کیوں سائیں سائیں کرتا ہے؟
خوشی، غمی، انقلاب اور تبدیلی یہ سب کچھ آپ کے اپنے ہی اندر ہوتی ہے۔ جب ہی تو اقبال نے کہا تھا کہ؛
تیری خودی میں ہو گر انقلاب پیدا
عجب نہیں کہ چہارسو بدل جائے
اور
اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی
بہرحال میں نے اس سے کہا کہ بھائی، اپنی دنیا آپ پیدا کرنے کی کوشش کرو۔ جس معاشرے میں مسائل زیادہ ہوتے ہیں وہاں مواقع بھی زیادہ ہوتے ہیں، جہاں لوگ سرے سے جوتے ہی نہ پہنتے ہوں وہاں مایوسی کی بات نہیں ہے بلکہ خوشی کی بات ہے کہ آپ کے پاس جوتے بیچنے کی کتنی بڑی مارکیٹ ہاتھ آگئی ہے۔
ڈیل کارنیگی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ میں نے ایک دفعہ ایک انشورنس کمپنی کے مالک سے پوچھا کہ آپ لوگوں کا کاروبار کیسے چلتا ہے؟ اس نے ہنس کر جواب دیا “خوف” سے۔ میں نے حیران ہو کر پوچھا کیا مطلب خوف سے؟اس نے زور کا قہقہہ لگایا اور بولا میں آپ کو سمجھاتا ہوں ۔”میرے پاس پانچ سال سے ایک ٹرک کی کمپنی انشورڈ ہے، کیونکہ وہ امپورٹ، ایکسپورٹ کا کام کرتے ہیں راستے میں ٹرکوں کو حادثہ بھی ہوسکتا ہے، وہ جل بھی سکتے ہیں اور تباہ بھی ہوجاتے ہیں۔ ٹرک کی اس کمپنی کے ہفتے بھر میں پانچ ہزار سے زیادہ ٹرکس نکلتے ہیں اور ان پانچ سالوں میں اس کے مجموعی طور پر صرف پچاس ٹرکوں کو حادثہ پیش آیا ہے، یعنی ہر سال وہ کمپنی مجھے ان تمام ٹرکوں کی انشورنس کی رقم دیتی ہے جبکہ میں نے اب تک اس کے صرف پچاس ٹرکوں کی رقم بھری ہے”۔
آپ کے پاس ہر چوتھے، پانچویں دن کسی نہ کسی انشورنس کمپنی سے فون آئے گا اور وہ آپ کے “خوف” کے ذریعے اپنا کاروبار آپ کو بیچ دیں گے۔ یعنی جو چیز سرے سے موجود ہی نہیں ہے دنیا اس کے سہارے کاروبار کر رہی ہے، روزگار چلا رہی ہے بلکہ دن دگنی رات چوگنی ترقی کر رہی ہے اور آپ اب تک پی – آئی – اے کے آسرے میں اپنی جوانی برباد کررہے ہو۔
دنیا میں کچھ بھی کرنے اور چار پیسے کمانے کے لیے آپ کو دو میں سے کوئی ایک کام کرنا پڑتا ہے۔
1) غور سے معاشرے میں، اپنے اردگرد دیکھو، جائزہ لو کہ سوسائٹی کو کس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے؟
2) یا پھر جس چیز کی ضرورت نہ بھی ہو اس کو لوگوں کی ضرورت بنا دو۔
دیکھو! لوگوں کو ایک زمانے تک یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ شیمپو کس بلا کا نام ہے۔ اشفاق صاحب لکھتے ہیں کہ میں اپنے خاندان کا سب سے پہلا آدمی تھا جس کے گھر میں سب سے پہلے شیمپو آیا تھا، میں اور بانو “تبّرک” کی طرح اس کو استعمال کرتے تھے۔ پھر شیمپو ہی نہیں آیا بلکہ “حجاب” والی لڑکیوں کے لئے لئے الگ اوربال دکھانے والی لڑکیوں کے لیے الگ الگ شیمپو آیا اور؛
سادگی اپنوں کی دیکھ
کہ حجابی خواتین کو واقعی یہ احساس ہونے لگا کہ ارے! یہ تو ہمارے لیے ہی بنا ہے۔ انٹرپرنیور بننے کے بھی دو طریقے ہیں:
1) ملین ڈالر لاؤ اور بزنس میں کھپا دو۔
2) یا پھر ملین ڈالر آئیڈیا لاؤ اور اپنے آپ کو اس میں کھپادو۔
تمہارا کھپنا آج نہیں تو کل ملین ڈالرز والوں کو تم تک لے ہی آئے گا۔
یاد رکھنا کیپٹل ازم اور انٹرپرنیورشپ میں بنیادی فرق یہ ہے کہ سرمایہ دار غریب کی مجبوری سے فائدہ اٹھاتا ہے جبکہ انٹرپرنیور غریب کی مجبوری کو دور کرنے کی فکر کرتا ہے، اسی کو “مارکیٹ گیپ” کہتے ہیں۔ آپ کسی بھی فیلڈ کا “گیپ” تلاش کریں اور اسے بھردیں۔ آپ اس خلا کو جتنی اچھی طرح بھرنے میں کامیاب ہوگئے آپ اتنے ہی شاندار انٹرپرنیور بن جائیں گے اور بقول جیک ما “امیر آدمی بکواس بھی کرے تو بھی حکمت کے موتی بن جاتے ہیں”۔ اس سب میں انٹرپرنیورشپ کی ایک دوسری قسم بھی ہے اور میں اسے “سوشل انٹرپرنیور شپ” کہتا ہوں۔ جب آپ نے مارکیٹ میں گیپ دیکھ لیا، لوگوں کی مجبوری بھی دیکھ لی، تو ان کے لئے اپنے دل میں ہمدردی اور تڑپ بھی پیدا کر لیں۔ کہیں جانے انجانے میں انھیں فائدہ پہنچانے کی کوشش کریں، اشفاق صاحب کے بقول اپنا درجن 13 کا کردیں۔ اپنے بزنس ماڈل کو کچھ ایسا ترتیب دیں کے معاشرے کا غریب طبقہ بھی آپ کی کمائی سے فائدہ اٹھائے۔
اس کائنات میں اللہ تعالی کا قانون بڑا ہی عجیب ہے، جو صرف اپنے بارے میں سوچتا ہے، اپنے بیوی بچوں کی فکر کرتا ہے اور صرف اپنی ہی ذات کے حصار میں قید رہتا ہے اللہ تعالی اس کو اسی میں پریشان رکھتے ہیں۔ مگر جو شخص دوسروں کے بارے میں سوچتا ہے، دوسروں کو نوکری دینے، ان کے گھر چلانے، ان کے گھر بنانے اور دوسروں کی زندگیوں میں آسانیاں بانٹنے والا بن جاتا ہے، اس کے اپنے مسائل تو اللہ تعالی خود ہی حل کروا دیتے ہیں۔ اس کا گھر، اس کے بیوی بچے اور اس کی عیاشیاں خود بخود پوری ہونے لگتی ہیں۔
ہندوستان کے دو نوجوانوں نے مل کر “اولا” کے نام سے ایک ٹیکسی ایپ بنائی ہے جس نے ہندوستان میں “اوبر” کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اوبر بھارت کے 38 جبکہ اولا 110 شہروں میں دس لاکھ گاڑیوں کے ساتھ سرفہرست ہے اور اس سے بھی زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ “بھوش اگروال” جو اولا کے بانی ہیں، ان کے اپنے پاس کوئی ذاتی گاڑی تک نہیں ہے کہ اب ان کو ذاتی گاڑی کی کوئی حاجت بھی نہیں۔ آپ مارکیٹ میں میں “گیپ” ڈھونڈیں، ملین ڈالر آئیڈیا لے کر آئیں، اپنی جوانی جلائیں کہ دانہ خاک میں مل کر گل و گلزار بنتا ہے پھر اس آئیڈیے کو ملین ڈالر کمپنی بنتا دیکھیں اور ایک “سوشل انٹرپرنیور” بن کر اپنی دنیا اور آخرت دونوں سنوار لیں کیونکہ اس امت کا اصل مسئلہ عمل نہیں ہے بلکہ نیتوں کا فتور ہے۔

اس بلاگ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں