84

سورج کو شکست دیجئیے – جہانزیب راضی

یہ 1999 کی ایک خوبصورت صبح تھی۔ ہال ایک ضروری کام سے گھر سے نکلا اور جیسے ہی آسٹن کی ایک مرکزی سڑک پر پہنچا تو نہایت تیزی سے آنے والی ایک گاڑی نے ہال کو ستر میل فی گھنٹے کی رفتار سے ہٹ کیا۔
2011 میں میرا ایک ایکسیڈنٹ ہوا تھا۔ میں موٹر سائیکل پر سوار تھا اور سامنے اچانک ایک رکشے والے نے تیزی سے سڑک کراس کرنے کی کوشش کی اور اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی۔ نہ صرف یہ کہ میں کچھ وقت کے لئے شارٹ ٹرم میموری لاس ” میں چلا گیا بلکہ مجھے واپس ریکور ہوتے ہوتے بھی پندرہ سے بیس دن لگ گئے اور میری موٹر سائیکل کو بھی 50 فیصد سے زیادہ نقصان پہنچا۔ یہ ایک معمولی ایکسیڈنٹ تھا جس میں میری اور رکشے والے دونوں کی اسپیڈ کو خاصی تیز نہیں تھی لیکن اس کے باوجود اتنا کچھ ہوگیا۔
جبکہ دوسری طرف ستر میل فی گھنٹے کی رفتار سے ایک مست شرابی نے ہال کو ہٹ کیا جس کے نتیجے میں چھ منٹ تک اس کی دھڑکن رکی رہی اور گیارہ جگہ سے ہڈیاں ٹوٹ گئیں وہ چھ دن تک اسپتال میں کومے کی حالت میں پڑا رہا اور ان ہڈیوں کو جوڑنے کے لیے بھی کم و بیش درجن بھر سے زیادہ سرجریز کی گئیں۔
ڈاکٹرز نے صاف الفاظ میں ہال اور اس کے خاندان کو بتا دیا تھا کہ اب آپ کا بیٹا ساری زندگی وہیل چیئر پر ہی گزارے گا اور اب وہ کبھی بھی ایک نارمل انسان کی طرح زندگی نہیں گزار سکتا لیکن آپ کمال دیکھئیے کہ صرف 7 سال جی ہیں صرف 7 سال کے بعد ہال نے 52 میل کی “الٹرا- میرتھن” جیت کر ڈاکٹرز سمیت ساری دنیا کو ورطہء حیرت میں ڈال دیا۔
اپنی اس ول پاور اور کامیابی کو اس نے 6 عادتوں کا مجموعہ قرار دیا۔ ایرالڈ نے بتایا کہ دنیا میں ہر وہ شخص دوبارہ زندہ(نئی زندگی) بھی ہوسکتا ہے، صحت یاب بھی ہوسکتا ہے اور کامیاب بھی ہوسکتا ہے جو صبح اٹھنے کی عادت اپنے اندر پیداکرلے۔ یاد رکھیں اپنی صبح کو صرف وہی شخص قربان کر سکتا ہے جس کے پاس کم از کم اس کی نیند سے بڑا مقصد ضرور ہو ورنہ بے چارے دو ٹکے کے الارم کی کیا اوقات کہ وہ اتنے بھاری بھرکم اور نیند کے بوجھ سے لدے انسان کو کھڑا کر سکے؟
ایرالڈ نے لکھا کہ دنیا میں جتنے بھی لوگ صبح اٹھتے ہیں وہ ان 6 عادتوں میں سے کوئی نہ کوئی ایک ضرور اپناتے ہیں:
1) وہ ہبڑ دھبڑ اور جلد بازی میں فوری بھاگنا دوڑنا شروع نہیں کردیتے بلکہ کچھ دیر کے لئے خاموشی اختیار کرتے ہیں اور بالکل پر سکون ہو کر بیٹھ جاتے ہیں۔
2) یا پھر وہ اپنے آپ سے گفتگو کرتے ہیں، خود سے باتیں کرتے ہیں، اپنی خوی کو تلاشتے ہیں اور اپنے آپ کو پہچاننے کی کوشش کرتے ہیں۔
3) انہوں نے زندگی میں جو مقاصد اور اہداف طے کیے ہوتے ہیں انہیں دل کی آنکھ سے دیکھتے ہیں۔ ان کا ایک “مینٹل میپ “بناتے ہیں کہ وہ اپنے مقاصد کو کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟
4) یہ تمام ہی ورزش کو، ہلکی پھلکی چہل قدمی کو یا پھر جاگنگ اور واک کو اپنا معمول بناتے ہیں۔
5) ان میں سے اکثریت ایسی ہے جو کسی نے کسی کتاب کی ورق گردانی یا مطالعہ کرتی ہے۔
6) اور ایک بہت بڑی تعداد ان کامیاب ہونے والے لوگوں میں ایسی ہوتی ہے جو صبح اٹھ کر اپنے مشاہدات، تجربات اور مطالعہ کو صفحات پر قلمبند کرتے ہیں کیونکہ تحریر کرنا تخلیق کرنے کی سب سے پہلی سیڑھی ہے۔ دنیا میں سب سے زیادہ تخلیقی ذہن قلمکاروں کا ہوتا ہے کیونکہ وہ نت نئی چیزوں کو بہت گہرائی سے دیکھ کر اپنے انداز میں انہیں قلمبند کرتے ہیں۔
ایرالڈ نے طے کیا کہ کیوں نہ وہ ان 6 عادتوں کو اپنا لے اور ہوسکتا ہے اس کی زندگی بھی ایک حسین، خوبصورت اور نارمل زندگی بن جائے۔ وہ روز صبح سورج سے پہلے اٹھ کر خاموشی کے ساتھ تمام چیزوں کا مشاہدہ کرتا، دماغ کو پرسکون کرتا، پھر خود سے بہت دیر تک گفتگو کرتا رہتا، اپنے خوابوں کو حقیقت کا روپ دھارتے دیکھتا، اپنی استطاعت کے مطابق ہلکی پھلکی ورزش کرتا، کسی نہ کسی کتاب کا مطالعہ کرتا اور اپنے ان احساسات اور جذبات کو قرطاس پر منتقل کر دیتا۔
7 سال کے بعد اس کی کتاب “مریکل مارننگ” مارکیٹ میں آچکی تھی۔ اس کتاب کا 37 زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے، 3000 فائیو اسٹار ریٹنگ صرف ایمازون کی ویب سائٹ پر موجود ہیں 70ممالک کے بیس لاکھ سے زیادہ لوگوں کی زندگی اس کتاب نے تبدیل کرکے رکھ دی ہے مگر کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی۔
نومبر 2016 میں ایرالڈ کی طبیعت اچانک بگڑ گئی۔ چیک اپ کروانے پر معلوم ہوا کہ اسے جگر، گردوں اور دل کا بھی کینسر ہے جبکہ اس کے بچنے کی بھی صرف 30 فیصد امید باقی ہے۔ اس دفعہ اس نے اپنے فارمولے میں ایک اور چیز کا اضافہ کر دیا اور وہ تھا “میں نہیں بدل سکتا”۔
جی ہاں دنیا کا کوئی انسان کسی واقعے، حادثے سے یا رشتوں کو نہیں بدل سکتا وہ صرف ان چیزوں کو بدل سکتا ہے جس کا اختیار اس کے اپنے پاس ہے۔ اس لیے دوسروں سے شکوے شکایتیں کرنے کے بجائے بندہ ان پر فوکس کرے جو اس کے اختیار میں ہے اور وہ اتنا کچھ ہے کہ اگر انسان واقعی ان پر سوچنا اور شکر کرنا شروع کردے تو جو نہیں ہے شاید اس کا خیال بھی زندگی میں کبھی نہ آئے۔
اس سوچ کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہال نے ایک دفعہ پھر کینسر کو شکست دے دی اور اب وہ اپنی بیوی اور دو بچوں کے ساتھ دوبارہ ایک نارمل زندگی گزار رہا ہے۔ مجھے نہیں معلوم کے ہال ایرالڈ کا خدا پر کتنا یقین اور بھروسہ ہے لیکن اس کو اپنی 6 عاتوں پر اندھا یقین اور بھروسہ ہے۔ زندگی کی کتنی بڑی بدقسمتی ہو گی اور بطور مسلمان ہم کتنے بدقسمت کہلائیں گے اگر ہمارا اپنے رب پر یقین اور توکل اتنا بھی نہ ہو جتنا ایرالڈ کا اپنی عادتوں پر ہے۔ ہمارا ایمان ہمیں صبح نہ اٹھا سکے، ہمارا یقین ہماری عادتوں کو نہ بدل سکے اور ہم جانوروں سے بدتر زندگی گزار کر مر جائیں۔ آئیے آپ بھی آج سے سورج کو شکست دیجیے، اپنے رب کی عبادت سے اور اس کے کلام سے دن کا آغاز کیجیے، ان 6 عادتوں کو زندگی میں پیدا کرنے کی کوشش کیجئے یقینا آپ کے لیے بھی ایک ٹینشن فری، حسین اور خوبصورت زندگی منتظر ہے۔

اس بلاگ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں