69

ریٹیل انڈسٹری – جہانزیب راضی

الحمد  للہ میں پچھلے پانچ سالوں سے درس و تدریس سے وابستہ ہوں۔ پڑھنا، پڑھانا، لکھنا لکھانا اور تعلیم و تعلّم۔ صبح سے لے کر شام تک کوشش کرتا ہوں کہ کوئی بھی وقت ایسا نہ ہو جو ضائع ہوجائے۔

 2017 کے اواخر میں فرینکلن کوی کے تعلیمی سلسلے “لیڈر ان می” سے وابستہ رہا جہاں ٹریننگ اور لرننگ کی نئی راہیں کھلیں گئیں وہاں مجھے “لیڈر ان می” کی ٹریننگ سمیت ان کی گیارہ انگریزی کتابوں کا باقاعدہ  اردو ترجمہ کرنے کا موقع  ملا اور اس طرح “کانٹینٹ ڈیولپمنٹ” اور ترجمہ سے شناسائی ہوگئی۔

ستمبر 2020  میں مجھے ایک اور بڑا دلچسپ پروجیکٹ ملا، یہ پروجیکٹ اپنی نوعیت کا بالکل مختلف پروجیکٹ تھا جس میں “ریٹیل انڈسٹری” کے لئیے  پہلی دفعہ کوئی باقاعدہ “ٹریننگ کانٹینٹ” بنانا تھا۔

مینوئل تو پہلے سے موجود تھا جو نہ صرف یہ کہ  یورپی یونین، ناروے اور جرمنی کے تعاون سے بنایا گیا تھا بلکہ حکومت پاکستان کی وزارت تعلیم سے بھی منظور شدہ تھا  مگر اس کی کوئی “پریزیڈنٹیبل” شکل نہیں تھی جس کے ذریعے سے کوئی ٹریننگ کا سلسلہ بن سکے یہ  کوئی ڈیڑھ مہینے پر مشتمل کورس تھا جس میں چار ماڈیولز تھے۔

1) پروڈکٹ نالج

2) پرفارم اسٹاک

3)  پرفارم سیلز

4)  ہینڈل کیش کاونٹر

 ہر ماڈیول میں کم سے کم چار اور زیادہ سے زیادہ آٹھ لرننگ  یونٹس ہیں اور ہمیں ان تمام کو “پریزنٹیشنز” کی شکل میں لے کر آنا تھا۔ یہ تقریبا 72 گھنٹے کا کورس تھا مگر ہمارے دوست جناب یوسف منیر صاحب کی خصوصی دلچسپی کے باعث نہ صرف یہ کہ یہ سارا کورس اردو میں منتقل کروایا گیا بلکہ اس کو 122 گھنٹوں پر محیط کر دیا گیا جس میں فوڈ، نان فوڈ، گارمنٹس اور شوز سے لے کر کسٹمر کی نفسیات اور مارکیٹنگ کے طریقوں پر طویل اور دلچسپ پیرائے میں نہ صرف گفتگو کی گئی ہے بلکہ دیڈیوز، چارٹس، تصاویر اور دنیا بھر کی کیس   اسٹڈیز کےذریعے تربیت کا اہتمام  کیا گیا ہے۔ ہر لرننگ یونٹ کے آخر میں باقاعدہ اسسمنٹ بھی رکھا گیا۔ بہرحال ان 122 گھنٹوں پر مشتمل 23 پریزینٹیشنز  کے پروجیکٹ کو ہم نے اپنی ٹیم کے ساتھ مکمل کرکے دیا۔

بعد ازاں اسکل  ڈویلپمنٹ کونسل کراچی نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ “ریٹیل ٹریننگ” کے اس کورس کو طلباء کے سامنے پیش کیا اور خوش قسمتی سے اس کورس کا پہلا باقاعدہ “ٹرینر” بھی میں ہی بن گیا۔

 اس وقت ریٹیل انڈسٹری پاکستان کی تیسری بڑی انڈسٹری بن چکی ہے اور زراعت کے بعد جاب سیکٹر کے اعتبار سے دوسری بڑی انڈسٹری ہے۔

چیز اپ  کے سی-ای-او جناب سلمان بشیر صاحب سے ایک دفعہ کسی نے پوچھا؛ “آپ مارٹ وغیرہ کھولنے اور پروڈکٹ رکھنے سے پہلے سروے کرتے ہوں گے؟” تو انھوں نے جواب دیا کہ؛ ” اس کی ضرورت فی الحال اس لیے نہیں ہے کیونکہ  ملک میں  ڈیمانڈ اور سپلائی کا بہت بڑا گیپ ہے۔

 پاکستان  دنیا کی پانچویں اور نوجوانوں کی سب سے زیادہ آبادی رکھنے والا ملک ہے مگر یہاں پر سپلائی ابھی تک بے انتہا محدود ہے”۔

 آپ خودسوچیں چین، ہندوستان، امریکہ اور انڈونیشیا کے بعد پاکستان آبادی کے لحاظ سے پانچواں بڑا ملک ہے مگر ان تمام ممالک میں ریٹیل اسٹورز کی تعداد اور ان کی سروسز ملاحظہ کریں اور یہاں پر پاکستان کے سب سے بڑے سپر مارٹ کے دسویں اسٹور کا افتتاح ابھی ہوا ہے۔ اس لئے مارکیٹ میں ایک بہت بڑا گیپ ہے۔ سوسائٹی میں ریٹیل انڈسٹری کو تین بڑے مسائل درپیش ہیں:

1) ڈیمانڈ بہت ہے مگر سپلائی اس لحاظ سے نہیں ہے۔

 2) موجودہ انڈسٹری کے اندر بھی ٹرینڈ اسٹاف کی بے انتہا کمی ہے۔

 3) ابھی تک ریٹیل اور ٹیکنالوجی ایک دوسرے سے جڑ نہیں سکے ہیں۔

 پاکستان میں بہت ہی خوبصورت اور مہنگے ترین سافٹ ویئر ہاؤسز نے ریٹیل انڈسٹری کے لیے بہت خوبصورت سافٹ ویئرز اور ایپس بنائے ہیں مگر ان کو جنرل اسٹور، کریانہ اسٹور اور بڑے سپر اسٹورز کے مالکان کے مسائل، پریشانیوں اور چیلنجز کا کوئی ادراک نہیں ہے اور اگر ہے بھی تو انڈسٹری صرف “ایپس” اور “سافٹ ویئرز” پر بھروسہ کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔

 دوسری طرف مسئلہ یہ ہے کہ جو لوگ سافٹ ویئرز  اور ا”ایپس” بنا رہے ہیں وہ کبھی دو دن کے لیے بھی کریانہ اسٹور پر کھڑے نہیں ہوئے اس لیے وہ کبھی بھی ریٹیل اسٹور کے مالک کا اعتماد حاصل نہیں کرسکتے ہیں۔

ایسے میں  یہ کورس بہترین ٹول کا کام کرسکتا ہے۔ ایک عام دکاندار اور ریٹیلر سے لے کر سپر مارکیٹ اور سپر اسٹورز میں کام کرنے والے لڑکے، لڑکیوں کے لیے یہ بہت کارآمد ثابت ہوگا۔

 یہ کورس پاکستان میں آئے دن کھلنے والے مارٹس میں جہاں ٹرینڈ اسٹاف کی فراہمی کا سبب بنے گا وہیں پاکستان کے نوجوانوں میں “انٹرپرینیورشپ” کی نئی راہیں متعین کرے گا۔آج نہیں تو کل ہمارے اسٹورز کو بہت شدت کے ساتھ ٹرینڈ اسٹاف کی ضرورت پڑے گی اور محلے کے ایک کریانہ سٹور والے کو بھی خود کو اپ ڈیٹ کرنا پڑے گا ورنہ دوسری صورت میں نوکیا کے سی-ای-او کی آخری پریس کانفرنس ذہن میں رکھیں جس میں اس نے روتے ہوئے کہا تھاکہ؛ “ہم نے دنیا کے ساتھ کچھ غلط نہیں کیا، پھر دنیا نے ہمارے ساتھ ہی کیوں کیا؟”

 یہ اس لیے کیا کیونکہ آپ نے اپنے آپ کو دنیا کے لحاظ سے اپڈیٹ نہیں کیا تھا۔

اس بلاگ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں