91

رمضان کا تعارف – محمد سُنین حسن

گذشتہ روز اپنے سوشل میڈیا میں ایک سوال شائع کیا کہ ماہِ رمضان کا سنتے ہی آپ کے ذہن میں کیا خیال آتا ہے؟ بہت اچھے جوابات دیکھنے کو ملے ۔
جیسے ہی ہمارے کانوں میں رمضان کی گونج آتی ہے تو ذہن غیر ارادی طور پر روزہ ، نماز اور صبر کی طرف جاتا ہے۔ کچھ کے ذہن میں پہلا خیال تقویٰ آتا ہے تو کچھ آنے والے دنوں میں لگنے والی بھوک اور پیاس کے بارے میں سوچتے ہیں۔ بہت بار گرمی ، افطار اور خاص طور پر تلے ہوئے کھانے کی پکار بھی ذہن کو تازہ کرتی ہے۔ خواتین کو فکر شروع ہوتی ہے کہ افطار اور کھانے کے کیا لوازمات ہونگے۔ بہت سے نوجوان افطار پارٹی اور سحری کی پر رونق محافل کے انتظار میں ہوتے ہیں ۔ اس سال تو کورونا وائرس نے بہت کچھ تبدیل کر دیا ہے لیکن عموماً رمضان کا چاند دیکھتے ہی اور تراویح کی نماز پڑھتے ہوئے یہ خیال ہوتا ہے کہ کل سے روزہ ہے!
دین ِ اسلام اتنا خوبصورت اور مکمل دین ہے کہ یہ نہ صرف انسان کو کرنے کے کام بتاتا ہے بلکہ سوچنے کا بھی مکمل طریقہ کار مہیا کرتا ہے۔ مطلب کس معاملے میں آپ نے کیسے سوچنا ہے اور کیسے نہیں سوچنا، کیا نظریہ رکھنا ہے اور کیا نہیں رکھنا، اس کی رہنمائی بھی ہمیں اللہ کی طرف سے ہی ملتی ہے۔ کیوں کہ یہ سوچ ہی انسان کے لیے عمل کی پہلی سیڑھی ہوتی ہے۔
قرآن مجید میں واحد جگہ جہاں ماہِ رمضان کا تعارف خود اللہ نے پیش کیا ہے، وہاں یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ رمضان کے ساتھ سب سے پہلے نہ روزہ کی بات کی گئی، نہ نماز کی ، نہ تقویٰ کی اور نہ صبر کی بلکہ کچھ اس طرح کہا گیا
” رمضان کا مہینہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل ہوا۔۔۔” (البقرہ 185(
سبحان اللہ! مطلب رمضان کا ذکر آتے ہی سب سے پہلا خیال جو میرے اور آپ کے ذہن میں آنا چاہیے وہ “قرآن” ہے۔ کیوں کہ اللہ نے سب سے پہلے اسی کا تذکرہ کیا ۔ اب کچھ گہرائی میں جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ بحیثیتِ امت قرآن ہمارے لیے بے انتہا اہمیت کا حامل ہے۔ اس کی عظمت یہ ہے کہ اس نے پوری بنی نوع انسان کو بدل کر رکھ دیا۔ ایک نئی تہذیب، امت کی بنیاد، طریقہ معاشرت، آدابِ انسانیت غرض ہر شئے کیلئے قرآن نقطہ تبدیلی ہے۔ اور رمضان کا مہینہ وہ مہینہ ہے جس میں اس قرآن کا نزول ہوا۔ گویا رمضان انسانیت کی تبدیلی کا مہینہ بن گیا۔ اگر آج ہم بھی اپنے آپ کو تبدیل کرنا چاہیں اور واقعی اللہ کے مسلم بننا چاہیں تو ہمیں رمضان کی حقیقی روح مطلب قرآن سے جڑنا ہوگا۔ یہ ہمارا مینیول (MANNUAL) ہے جس کے بغیر ہماری زندگی بے مقصد رہے گی۔ یعنی رمضان کی صورت میں ہمیں پورا ماحول مہیا کیا گیا کہ ہم دوبارہ اپنا مینیول پڑھیں اور جہاں جہاں مسئلے ہو رہے ہیں انہیں ٹھیک کرنے کی کوشش کریں۔ نیز یہ کہ روزہ کی حالت میں دل تک اللہ کا پیغام باآسانی پہنچایا جا سکتا ہے کیوں کہ انسان دنیا کی بہت ساری چیزوں سے ویسے ہی کٹا ہوا ہوتا ہے۔
اس رمضان اپنے آپ سے یہ عہد کریں کہ قرآن کو اس انداز سے پڑھیں گے جیسے آج سے پہلے کبھی نہیں پڑھا۔ اسے صرف ختم کرنے کے بجائے اس کے معنیٰ اور مفہوم سمجھنے کی کوشش کریں گے اور اس طرح قرآن سے اپنی محبت کا آغاز کریں گے۔ اور ہر دن اپنے آپ کو یہ یاد دہانی ضرور کروائیں گے کہ ” رمضان کا مہینہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل ہوا”۔
اس سلسلے میں ڈاکٹر شجاع الدین شیخ ، نعمان علی خان، عمر سلیمان اور دیگر بہت دل جمعی کے ساتھ امت کی خدمت کا فریضہ انجام دے رہے ہیں تاکہ ہمارے لئے قرآن کو سمجھنا آسان ہوجائے۔ ان کی خدمات سے بھی فائدہ اٹھائیں ۔ فیس بک اور یوٹیوب پر ان کی ویڈیو باآسانی دستیاب ہیں۔ اس کے علاوہ آپ تفاسیر سے بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔ ڈاکٹر اسرار احمد، مفتی تقی عثمانی ، سید ابو الاعلیٰ مودودی اور دیگر نے اس سلسلے میں بہت اچھا کام کیا ہوا ہے ۔لیکن سب سے پہلے اپنے آپ کو ذہنی طور پر تیار کریں کہ اس رمضان اپنے اوقات کار میں قرآن کی محبت کو شامل کرنا ہے۔ اللہ مجھے اور آپ کو قرآن سے جڑنے اور قرآن کے ذریعے اپنے آپ سے جڑنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

اس بلاگ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں