31

خرچ کیجئیے – جہانزیب راضی

وہ صاحب  ہنستے ہوئے بتانے لگے کہ ؛ “ان کے سینئر آفیسر نے جو پورے امریکہ کو ہیڈ کرتا تھا اور اس کی تنخواہ بھی سب سے زیادہ  تھی ۔ اس نے  ایک ٹور کے دوران آدھا کلو میٹر پہلے ہی “اوبر” کی رائیڈ کو اینڈ کر دیا۔ ہم نے حیران ہوکر اس کی طرف دیکھا اور  پوچھا ؛ “سر! یہ آپ نے کیا کیا؟” تو اس نے پوری سنجیدگی سے جواب دیا ؛ “یہ رائڈ میرے کریڈٹ کارڈ سے ہے، میرا خیال ہے کہ تمہیں اپنی رائیڈ کے پیسے خود ادا کرنے چاہیے”۔

 آپ اس سے بھی زیادہ دلچسپ منظر ملاحظہ کریں  کہ ایک کانفرنس سے ایک یا ڈیڑھ گھنٹہ پہلے ہوٹل پہنچنے والوں کو ان کے پورے یورپ کو ہیڈ کرنے والے ڈائریکٹر نے ہوٹل کے میس میں بلوا لیا کہ ہم سب مل کر ناشتہ کریں گے۔ سب کی پسند کی ڈشز منگوائی گئیں اور ناشتہ ختم ہونے کے بعد ڈائریکٹر صاحب بولے؛ “تمام لوگ اپنے ناشتے کا بل خود ادا کریں”۔

 انہوں نے ایک زور کا قہقہہ لگایا اور کہنے لگے؛ “ہماری ایک اور سینئر ڈائریکٹر پاکستان آئیں اور میں اس بات پر حیران رہ گیا کہ انہوں نے اپنی دو بیٹیوں اور شوہر کے لئے ایک “سادہ سا تحفہ” تک نہیں خریدا اور اپنے لئے ڈھیر ساری شاپنگ کرلی۔ جب میں نے ان سے پوچھا کہ؛ “آپ نے یہ تین “شالیں” خریدی ہیں شاید آپ  اپنی بیٹیوں کو تحفہ دیں گی؟” تو انہوں نے چہک کر جواب دیا؛ “یہ تینوں میری اپنی ہیں، وہ اپنے لئیے خود خریدیں گی”۔

 انہوں نے گفتگو کا سلسلہ پھر وہیں سے جوڑا اور بولے؛ “میں نے امریکہ میں یہ منظر بھی  دیکھا  کہ ایک ہی گاڑی سے دونوں میاں بیوی اترے، دونوں نے الگ الگ باسکٹ لی، ایک کھیرا، ایک سیب اور اسی طرح دو چار چیزیں ٹوکری میں ڈالیں اور الگ الگ کاونٹر پر جاکر اپنے اپنے کارڈز نکال کر پیمنٹ کردی۔

آپ ذرا غور کریں یہ ہے وہ دنیا جہاں رہنے کے لیے ہمارے لوگ “ترستے” ہیں۔ وہ لوگ جو امریکہ و یورپ کے قصیدے پڑھتے نہیں تھکتے، انہیں وائٹ ہاؤس پر چڑھے یہ “مہذب” لوگ نظر نہیں آتے؟

 پاکستانیوں کے اجڈ اور جاھل عوام کے سامنے انہیں وہ امریکی کیوں نظر نہیں آتے جنہوں نے پچھلے دنوں پورے امریکہ کی اینٹ سے اینٹ  اس لئے بجا دی تھی کیونکہ امریکہ کی “مہذب اور تربیت یافتہ پولیس” نے ایک سیاہ فام کی گردن پر گھٹنا رکھ کر ساری دنیا کے سامنے اسے جان سے مار دیا تھا اقبال نے کہا تھا؛

تمھاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی  خود کُشی کرے گی

جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا، ناپائیدار ہوگا

آپ کبھی امریکیوں اور یورپینز  کے  “وی لاگز” دیکھ لیں جو انہوں نے پاکستان میں بنائے ہیں۔ کبھی ان میں سے کوئی کسی پاکستانی سے شادی کر لیتا یا کرلیتی ہے، کبھی کوئی پاکستان کو “فری کنٹری” بولتا ہے اور کبھی یہاں کے لوگوں کے رویے دیکھ کر وہ خوشی سے رو پڑتے ہیں۔

آپ یقین کریں یہ اسلام کی دولت اور اس ملک کی روایات ہیں جو ہم نے اپنے دین اور اپنے بڑوں سے لی ہیں۔ مہمانوں کو کھانا کھلانا، بعض دفعہ خود بھوکا رہ کر کسی کے پیٹ بھرنے کی فکر کرنا، قربانی اور ایثار کی تصویر بن جانا، صلہ رحمی کرنا۔

میں نے ایک دفعہ اپنے ایک بزنس مین دوست سے پوچھا کہ؛ “آپ کی ترقی کا راز کیا ہے؟” وہ کہنے لگا؛”جہانزیب  صاحب! آپ اپنے نیچے والوں کو لکھ پتی بنانے کے بارے میں سوچیں، اوپر والا آپ کو خود کروڑ پتی بنا دے گا”۔

آج سے کچھ عرصہ پہلے ٹی وی پر کسی چائے بنانے والی کمپنی کا اشتہار آیا تھا اور اس میں دکھایا گیا تھا  کہ لوگوں کو بُلا کر اکیلے کمرے میں چائے پلائی گئی۔ کچھ دیر کے بعد انہیں پھر بلایا گیا مگر اس دفعہ  ادارے  کا کوئی نہ کوئی ایمپلائی ان کے ساتھ بیٹھ گیا اور گپ شپ بھی لگاتا رہا۔

 بعد میں ان لوگوں سے پوچھا گیا کہ؛ “آپ کو کون سی چائے زیادہ اچھی لگی؟” تو زیادہ تر لوگوں نے دوسری والی چائے کی تعریف کی پھر انہیں بتایا گیا کہ دونوں چائے ایک ہی تھیں بس اس دفعہ” کمپنی” آپ کے ساتھ تھی یعنی آپ سے گپ شپ کرنے والا موجود تھا۔ اس لیے آپ کو دوسری چائے میں زیادہ مزا آیا۔

جب بھی باہر سے آکر لوگ پاکستان کی ڈھیر ساری تعریفیں کرتے ہیں ہمیں لگتا ہے کہ شاید صرف ہمارے ملک کی خوبصورتی سے  ہی متاثر ہوئے ہیں جبکہ اصل بات یہ ہے کہ وہ یہاں کی “کمپنی” سے متاثر ہوئے ہوتے ہیں۔ یہاں کے لوگوں کے رویے اس ملک کی خوبصورتی کو چار چاند لگاتے ہیں۔

ہم اس نبی کے امتی ہیں س  کے گھر 40 دن تک  چولہا نہیں جلا  پھر بھی  اس نے کسی سائل کو خالی ہاتھ نہیں جانے دیا۔ ہم تو ان ہستیوں کے پیروکار ہیں جنہوں نے مہمانوں کو کھانا کھلانے کے لیے چراغ گل کر دیا اور خالی منہ چلاتے رہے تاکہ مہمان سکون سے کھانا کھا لیں اور شرمندہ نہ ہوں۔ اللہ کے نبی صلی اللہ وسلم کی حدیث کا مفہوم ہے کہ “مومن سب کچھ ہو سکتا ہے مگر بخیل نہیں ہو سکتا”۔

 پاکستان کے لئے بالعموم اور کراچی کے لئیے تو میں پورے دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ کراچی میں رات بھوکا صرف وہ سوتا ہے جو بھوکا سونا چاہتا ہے، ورنہ آپ اس شہر کے کسی بھی ریسٹورینٹ میں چلے جائیں اور کسی سے بھی اکیلے میں بول دیں کہ مجھے کھانا کھانا ہے وہ آپ کے لیے وہی آرڈر کرے گا جو وہ خود کھا رہا ہوگا یہ قربانی، ایثار، سخاوت، مہمان نوازی، صلہ رحمی اور کشادہ دلی کی نعمتیں ہیں جو ہمیں مسلمان ہونے اور اس معاشرے میں ہونے کی وجہ سے اللہ تعالی نے عطا کی ہیں۔

آخر میں آپ سے یہ تجربہ بھی شیئر کر دوں کہ میں نے اکثر ان لوگوں کو بدحال اور پریشان ہی دیکھا ہے جو دوسروں کے بجائے صرف اپنی ذات کی فکر کرتے ہیں، جو صرف اپنا رونا روتے ہیں، لوگوں کو رلا رلا کر پیسے دیتے ہیں، ہزاروں اور لاکھوں روپے تک کماتے ہیں مگر ان کا ہاتھ پھر بھی “لینے والا” ہی رہتا ہے اس لیے خرچ کیجئے کیونکہ کون سا آپ نے اپنے پلے سے دینا ہے خدا کے دیے ہوئے میں سے ہی تو دینا ہے۔

اس بلاگ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں