245

تم کیوں نہیں کرسکتے؟ – جہانزیب راضی

میں یہ تو نہیں جانتا تھا کہ وہ لوگ پہلے کہاں رہتے تھے لیکن یہ کوئی 2006 یا 2007 کی بات ہوگی کہ وہ ہماری گلی کے بالکل پیچھے بنے چار منزلہ مکان کی چوتھی منزل پر دو کمروں کے مکان میں شفٹ ہو گئے۔ تین بہن بھائی تھے، والد صاحب نہ جانے کیا کرتے تھے البتہ اس کی والدہ لوگوں کے گھروں میں کام کرتی تھیں اور اس طرح گھر کا گزارا ہوتا تھا۔
کچھ ہی دنوں بعد اس کے ابا بھی خاصے بیمار رہنے کے بعد چل بسے اور اس طرح ابو بکر حالات کی ان بے رحم موجوں پر تیرنے لگا۔ ایک طرف اس کی ماں تھی جو روز صبح گھر سے نکلتی لوگوں کے گھروں میں محنت کرتی اور اپنے بچوں کا پیٹ سفید پوشی سے پالنے کی کوشش کرتی، دوسری طرف اس کے دو چھوٹے بہن بھائی تھے اور وہ خود بھی ابھی نویں کلاس میں ہی تو تھا۔
ہمیں بھلا اس سب کی کیا پرواہ ہونی تھی۔ ہمارے سروں پر تو ہمارے باپوں کا سایہ سلامت تھا، نہ گھر کرائے کا تھا اور نہ ہی ماؤں نے کہیں جا کر ہمارے لئے کام کاج کرنا تھا۔ زندگی عیش میں گزر رہی تھی “ہماری” ابوبکر کی نہیں۔
کیونکہ وہ جس مکان میں رہتا تھا وہ بھی کرائے کا تھا اسلئیے اس نے اسکول کے ساتھ ساتھ ہی ایک کمپنی میں نوکری شروع کر دی۔ جب ہم سب لڑکے بستر توڑ کر اٹھتے اور گپے لگاتے اس چبوترے سے اس چبوترے پر بیٹھ کر ہلا گلہ کرتے تو وہ صبح نو بجے ہی کام پر نکل چکا ہوتا تھا۔ ایک آئی-ٹی کمپنی میں اس کو کسی کے توسط سے ملازمت مل گئی تھی، اس زمانے میں ہی اس کو ونڈوز کرنا، سافٹ وئیرز انسٹال کرنا، ڈرائیورز ڈالنا آگیا تھا وہ صیح اور خراب کمپیوٹرز کی پہچان بھی وہ بخوبی کرنا سیکھ گیا تھا۔
شام میں وہ کسی کمپیوٹر کی دوکان پر پارٹ ٹائم کام بھی کرتا تھا۔ ابوبکر کا دوسرا شوق باڈی بلڈنگ تھا، وہ روز جم جاتا اور سلمان خان کی طرح نظر آنے کے لیے سخت محنت کرتا تھا۔ اس شوق میں وہ انتہائی تنگ اور چست شرٹس اور کُرتے بھی پہنتا تھا، پوری گلی میں اس کا خوب مذاق بنتا لیکن وہ اپنی ہٹ کا پکا تھا۔ غمِ روزگار نے اس کو کبھی کسی سے “پکی والی دوستی” کرنے کا موقع ہی نہیں دیا۔
نویں اور دسویں کا امتحان بھی اس نے نقل کرکے اور ڈی گریڈ سے پاس کیا تھا۔ جو بندہ صبح شام اپنا گھر چلانے کے لئے محنت کرتا ہو اس کے پاس اس نام نہاد “پڑھائی” کا ٹائم بھلا کہاں سے آئے گا؟ اچھا پڑھنا اور اچھی جگہ پڑھنا یہ سب پیٹ بھروں کے چونچلے ہیں۔
بہرحال وقت گزرتا چلا گیا۔ یاد نہیں وہ پہلے وہاں سے شفٹ ہوا یا ہم لیکن دیکھتے ہی دیکھتے پورا ایک عشرہ بیت گیا ہم لیاقت آباد سے ماڈل کالونی آگئے اور وہ گلشن میں کہیں شفٹ ہوگیا۔ آج 11 سال بعد مجھے ایک دوسرے دوست کے ذریعے سے اس کے بارے میں پتہ چلا تو میں اس سے ملنے کے لئیے گلشن اقبال اس کے آفس پہنچ گیا۔ مجھے معلوم ہوا کہ اس نے اپنی ماں کے نام سے ایک پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی بنا لی ہے، اس کے آفس میں داخل ہونے سے پہلے نیچے سڑک پر میں نے اس کی چمچماتی ہوئی ہونڈا گاڑی پر نظر ڈالی اور اس کے دفتر میں داخل ہوگیا۔
ایک بہترین سے آفس کے باہر وہاں کے چوکیدار نے دروازہ کھول کر مجھے اندر جانے کا اشارہ کیا۔ سامنے ریسیپشن پر ایک اور بندہ بیٹھا تھا۔ ایسا کارپوریٹ قسم کا آفس میں نے دیکھا تو سینکڑوں بار تھا لیکن میں کبھی اس آفس کو دیکھتا اور کبھی ابوبکر کو یاد کرتا تھا۔ ابھی میں اسی تذبذب میں تھا کہ سامنے سے سے “ابوبکرصاحب” تشریف لے آئے، اس نے گرم جوشی سے میرا استقبال کیا اور اپنے آفس میں اس کے ساتھ موجود میرے ایک اور دوست کے کمرے میں بٹھا کر خود ایک میٹنگ میں چلا گیا۔
خاصی دیر بعد “باس” نے میٹنگ روم میں بلایا۔ میں کبھی اوپر سے لے کر نیچے تک اس کو دیکھتا اور کبھی اس کے آفس کو دیکھتا اور کبھی اس کے آگے پیچھے گھومتے اس کے ملازمین کو دیکھتا۔ محض تیس سال کی عمر میں اتنی بڑی کامیابی کا راز جاننے کے لیے میں پہلے ہی بہت بے تاب تھا۔ میں نے فورا ابوبکر کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا تو وہ ہنسا اور بولا:
“جہانزیب بھائی! 2016 میں اپنی کمپنی سے اختلافات کی وجہ سے میں نے استعفی دے کر اپنی دکان کھول لی تھی لیکن خواب یہی تھا کہ زندگی بھر دوکان کا شٹر ہی نہیں اٹھانا ہے۔ میں مسلسل کارپوریٹ اداروں میں کام کی تلاش میں تھا حتی کہ 2018 میں ایک موقعہ میرے ہاتھ آگیا جب میں نے اپنا نقصان برداشت کرکے صرف اس ادارے میں گھسنے کے لیے کام لیا۔
آج میں پاکستان کے دوسرے بڑے بینک کا سب سے بڑا وینڈر ہوں جو ان کو آئی- ٹی سے متعلق ہر سامان فراہم کرتا ہے، اس کے علاوہ پانچ چھ اور کلائنٹس ان دو سالوں میں بن چکے ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ پیسوں کا تھا پہلے کسی سے پچاس ہزار روپے ادھار لئے، پھر ایک لاکھ روپے کا انویسٹر آ گیا اور اب 50 لاکھ تک انویسٹ کرنے والے میرے ساتھ کھڑے ہیں اب تو لوگ ہاتھ میں پیسے لیے کھڑے ہوتے ہیں مجھے ان تمام سرمایہ کاروں کو مینج کرنے کے لئے بھی کوئی بندہ چاہئے”۔
وہ کچھ دیر کی خاموشی کے بعد دوبارہ بولا؛ “راضی بھائی! یہ چوائس آپ کی ہوتی ہے کہ آپ نے ساری زندگی لوگوں پر پلنا ہے یا آپ نے لوگوں کو پالنا ہے، میں نے دوسرے کام کا فیصلہ کیا میں نے دن اور رات سے بے پرواہ ہو کر اپنی ہستی کو مٹا دیا اس لئے میں آج یہاں کھڑا ہوں۔ یقینا یہ سب اللہ کا کرم ہوتا ہے ورنہ محض محنت کی کیا اوقات ہے”۔
میں حیرت کی تصویر بنانا کئی سارے خواب اور احساسات لئے اس کے آفس سے باہر نکل آیا لیکن میں سوچنے لگا کہ کاش میں اپنے ملک کے ڈگری زدہ، بے روزگار اور شکوے شکایتوں کے انبار لیے اپنے نوجوانوں کو ابوبکر سے ایک دفعہ ضرور ملواؤں کہ اس کا باپ نہایت کم عمری میں انتقال کر گیا، جس کی ماں نے گھروں میں کام کرکے اپنے بچوں کو پالا اور جس نے نویں کلاس سے محنت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا۔
اس کے پاس کاروبار کرنے کے لیے اپنا پیسہ تھا اور نہ ہی اچھی نوکری کے لیے ڈگری، مگر جب وہ اپنے حالات کو شکست دے سکتا ہے جب ابوبکر یہ سب کر سکتا ہے تو ذرا سوچو تو سہی کہ تم کیوں نہیں کر سکتے؟

اس بلاگ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں