709

“تزکیہ” یافتہ – جہانزیب راضی

آپ یورپی ممالک کی بدقسمتی ملاحظہ کریں، دنیا میں خودکشی کی سب سے زیادہ شرح یورپی ممالک میں ہے اور ان میں بھی Scandinavian ممالک سرفہرست ہیں۔ نیوزی لینڈ دنیا کا وہ پہلا ملک ہے جس نے خود کشی کی قانونی اجازت دے رکھی ہے اور جہاں باقاعدہ خودکشی کے سینٹرز قائم ہیں۔ نیوزی لینڈ کے بعد دیگر بھی کئی ممالک نے خودکشی کو Legalize کردیا ہے۔
ہم جیسے “ترقی پذیر” ممالک کے لوگ جن سہولیات اور آسائشوں کو خواب میں بھی نہیں دیکھ سکتے وہ تمام ہی ان ترقی یافتہ ممالک میں باآسانی دستیاب ہیں، لیکن سکون اطمینان اور چین جس “چڑیا” کا نام ہے وہ ان کے پاس تاحال ناپید ہے۔
جب یورپ انڈسٹری اور انفارمیشن ایج سے باہر نکلا تو اس کو خیال آیا کہ “سوشل اور ایموشنل انٹیلیجنس” اصل انسانی ضروریات ہیں۔ اس لئے انسانوں کو سماجی اور جذباتی ذہانت کے لئے تیار کرو۔ “تعلیم و تربیت” کی جو کیفیت اس وقت یورپ میں ہے ہم اور آپ اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے ہیں۔ صرف ان کے تربیت کے معیار کے حصول کے لیے ہی اگر ہم مخلصانہ کوششیں بھی کریں تو ہمیں کم سے کم پچاس سال یعنی دو نسلیں درکار ہونگی۔ساری ٹائم مینجمنٹ، ڈسپلن، نظم و ضبط، گول سیٹنگ، وژن اور مشن رکھنے کے باوجود مغرب کا معاشرہ روحانی سکون کی تلاش میں ہے۔ اشفاق احمد صاحب فرماتے ہیں کہ جب میں اٹلی گیا تو وہاں یونیورسٹی کے پروفیسرز صاحبان وقتاً فوقتاً مجھے اپنے پاس پکڑ کر بٹھا لیتے اور پوچھتے کہ ہمیں “مشرقی حکمت کی باتیں” بتاؤ یعنی Wisdom of East کے بارے میں بتاو۔
جب تک مغرب ہمیں بتاتا رہا کہ انسان کی کامیابی انڈسٹری میں ہے ہم انڈسٹریل ایج میں رہے، جب مغرب نے بتایا کہ اصل اہمیت انفارمیشن کی ہے تو ہم نے اس کو انسان کی “کامیابی کا معیار” سمجھا اور اختیار کیا۔ آج مغرب ہمیں بتاتا ہے کہ انسان کی اصل کامیابی سوشل ایموشنل انٹیلی جنس میں ہے تو ہم اس پر “آمنا و صدقنا” کہہ رہے ہیں۔ مغرب کے لیے کل بھی اہمیت کا حامل ان کا “جسم” تھا اور آج بھی ان کے لئے جسم ہی اہمیت کا حامل ہے، ان کے لیے کل بھی اصل اہمیت دنیا کی تھی اور آج بھی ان کا مطمح نظر دنیا ہے۔
لفظ عادت “عادی” سے نکلا ہے اور عادی جسم کو بنایا جاتا ہے روح کو نہیں۔ آپ 21 دن تک جسم کو کسی بھی کام عادی بنا دیں وہ آپ کی عادت بن جائے گی۔ عادتوں کی تبدیلی کا نام “تربیت” ہے۔ یہ بات ٹھیک ہے کہ آپ اپنا نصیب نہیں بدل سکتے ہیں لیکن عادت بدلنا آپ کے اختیار میں ہے اور رئیس عادتیں رئیس جبکہ غریب عادتیں غریب انسان ہی پیدا کرتی ہیں اور یہ بھی درست ہے کہ عادت دراصل “مائنڈ سیٹ” کا نام ہے۔
مگر اللہ اور اس کے رسول صلی وسلم کو “تزکیہ” مطلوب ہے۔ اللہ تعالی انبیاء اور خصوصاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا میں بھیجنے کے چار مقاصد بتاتا ہے۔
1) کتاب کی تلاوت کرتے ہیں۔
2) کتاب کی تعلیم دیتے ہیں۔
3) حکمت سکھاتے ہیں۔
4) اور تزکیہ کرتے ہیں۔
آپ یقین کر لیں، ہمارے تعلیمی ادارے، اسکولز، کالجز، یونیورسٹیز اور ڈگریاں پہلی دونوں باتوں سے نابلد اور آخری دونوں باتوں سے سرے سے “عاری” ہیں۔
دراصل یہ وہ Wisdom of East ہے جس کے لیے یورپ کے پروفیسرز اشفاق احمد صاحب جیسے “پینڈو” آدمی کی منتیں سماجتیں کیا کرتے تھے اور “تزکیہء نفس” وہ بنیاد ہے جو پورے کے پورے انسان کو ٹھیک کر دیتا ہے۔
ہم محض عادتیں تبدیل کر کے لوگوں کی تربیت کرنا چاہتے ہیں لیکن تزکیہ کا الٹی میٹ نتیجہ تربیت ہے۔
جس شخص کو یہ احساس ہوجائے کہ؛
1) عمر
2) جوانی
3) مال کے کمانے
4) مال کے خرچ کرنے
5) اور اپنے علم پر عمل کرنے کا جواب دہ ہونا ہے۔
جس انسان کو معلوم ہو کہ اسے اپنے دل، دماغ، آنکھ، کان، زبان، وقت اور صلاحیتوں کا حساب دینا ہے۔ آپ اس سے کیسے توقع کرتے ہیں کہ وہ ٹائم مینجمنٹ سیکھنے کے لیے علیحدہ سے کوئی “کورس” کرے گا؟ آپ کو تربیت کرنے کے لیے عادتیں ٹھیک کرنا پڑتی ہیں اور ان کے لئے جسم کو مختلف مشقوں کا عادی بنانا پڑتا ہے جب کے تزکیہ کے لیے آپ کو اپنے “تصورات” پر کام کرنا پڑتا ہے۔ “تزکیہء نفس” کے لیے آپ کو خدا، زندگی، وجہ اخلاق، کامیابی اور نجات کے تصورات 360 ڈگری پر تبدیل کرنا پڑتے ہیں۔
پھر آپ کی قوم میں غزالی، بخاری، سعدی، رومی، شیرازی، ابن رشد، بوعلی سینا، ابوحنیفہ اور خوارزمی خودبخود پیدا ہونے لگتے ہیں۔ جن کے کے لئے ٹائم مینجمنٹ، گول سیٹنگ، سوشل اور ایموشنل انٹیلیجنس سرے سے کوئی معنی نہیں رکھتی ہیں کیونکہ ان کا وژن اور مشن ہی اتنا واضح اور کلیئر ہوتا ہے، اور یہ سب کا سب عادتیں تبدیل کرنے، تربیتی ورکشاپس لینے اور کسی “خواہشات کے پجاری” مینٹور سے حاصل نہیں ہوتا ہے۔
آپ دلچسپ بات دیکھیں کہ قرآن اور حدیث جن اصطلاحات کا استعمال کرتے ہیں، مغرب کے لیے وہ سمجھنا تو کجا ان کا ترجمہ تک کرنے کے لئیے الفاظ نہیں ہیں۔
مغرب آپ کو مال و دولت میں کثرت کے طریقے سکھاتا ہے، جبکہ قرآن وحدیث رزق میں “برکت” کو اصل قرار دیتے ہیں۔ وہ ایک ایک مہینہ بغیر نہائے اور واش رومز میں پانی کی غیر موجودگی کے باوجود بھی صفائی پر زور دیتے ہیں جبکہ ہمارے پاس “طہارت اور پاکیزگی” دین کی بنیاد ہیں۔
وہ انفارمیشن، ڈگری اور نالج کو اہم سمجھتے ہیں جب کہ اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم حکمت اور بصیرت کو دین کی جڑ قرار دیتے ہیں۔ ان کی ساری فکر، سعی و جہد اور تگ و دو “تربیت جسمانی” پر ہے۔ جبکہ اسلام یہ چاہتا ہے کہ “تزکیہء نفس” کیا جائے پھر شراب چھڑوانے سے لے کر قبلہ تبدیل کروانے تک، دیوار کی اوٹ میں کھڑے ہوکر اپنی اوڑھنیاں منگوانے سے لے کر پاکی کے لیے مٹی تلاش کرنے تک، وعدہ پورا کرنے کے لئے جان تک داؤ پر لگانے اور اپنے نفس کے تزکیے کی خاطر “رجم” تک کے لئے خود کو پیش کرنا آسان اور سہل ہو جاتا ہے۔
بدقسمتی ہے کہ ہمارے “اسلامی تعلیمی ادارے” تک نفس، روح تزکیہ، حکمت، طہارت، برکت اور رحمت جیسے موضوعات سے “عاری” ہیں۔ نفس لوامہ، نفس امارہ اور نفس مطمئنہ کیا ہوتے ہیں؟ نصاب تو درکنار، یہ ہمارے “اسلامی تعلیمی اداروں” تک میں ڈسکشنز تک کا سرے سے موضوع نہیں ہے اور ہم “تعلیم یافتہ” قوم کی تلاش میں ہیں۔ اس “تزکیے” سے منہ موڑنے کا نتیجہ ہے کہ جو جتنے بڑے تعلیمی ادارے سے پڑھ کر نکلتا ہے انسانوں کو اذیت دینے، لوٹنے اور حقیر جاننے کے نت نئے طریقے سیکھ کر آتا ہے، جو اپنے ملک کے بجائے باہر کے کسی اور بڑے تعلیمی ادارے سے پڑھ کر آتا ہے، وہ ملک میں حکمران بن کر جھوٹ بول بول کر عوام کو بیوقوف بنانے کے اور جدید طریقے اپنی عوام پر آزماتا ہے۔
آپ ہر گلی میں یونیورسٹی کھولیں، ملک کے ہر بچے کو پی- ایچ- ڈی کروادیں لیکن یاد رکھیں “تزکیہ یافتہ” کیے بغیر آپ لوٹنے کھسوٹنے والوں کی ایک نئی فوج تو مزید تیار کر سکتے ہیں لیکن انسان سے محبت، ہمدردی اور ہمیشہ والی زندگی کے لئیے معمولی فائدوں کو قربان کرنے والوں میں اضافہ بہرحال نہیں کرسکتے ہیں۔بیوقوف بنانے کے اور جدید طریقے اپنی عوام پر آزماتا ہے۔
آپ ہر گلی میں یونیورسٹی کھولیں، ملک کے ہر بچے کو پی- ایچ- ڈی کروادیں لیکن یاد رکھیں “تزکیہ یافتہ” کیے بغیر آپ لوٹنے کھسوٹنے والوں کی ایک نئی فوج تو مزید تیار کر سکتے ہیں لیکن انسان سے محبت، ہمدردی اور ہمیشہ والی زندگی کے لئیے معمولی فائدوں کو قربان کرنے والوں میں اضافہ بہرحال نہیں کرسکتے ہیں۔

اس بلاگ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں