79

بے بس مائیں – جہانزیب راضی

وہ اپنے 7 یا 8 سال کے بچے کو اپنے ساتھ لے کر آئی تھیں، انہوں نے بیٹھتے ہی اپنی “دکھ بھری کہانی” شروع کر دی جو تقریبا ہر ماں کے ساتھ برابر ہی ہے۔ وہ کہنے لگیں “آپ اسے سمجھائیں، یہ میرا کہنا نہیں مانتا، اس کو اپنے بہن بھائیوں اور والدین سے کوئی ہمدردی نہیں ہے، دن بھر یا تو شرارتیں کرتا ہے یا پھر روتا رہتا ہے، بات بے بات ضد کرتا ہے، نا پوری کرو تو کھانا پینا چھوڑ دیتا ہے، دنیا کی کسی دھمکی کا اس پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔
بچہ اس تمام گفتگو میں اپنی ماں کی طرف حیرت اور پریشانی سے دیکھتا رہا۔ مجھے ایسے موقع پر بچوں کے چہرے دیکھنا پسند ہیں نہ کہ ان کی ماؤں کے۔ انھوں نے اپنی کہانی کا سرا ایک ٹھنڈی سانس لے کر پھر وہیں سے جوڑا جہاں سے چھوڑا تھا، وہ دوبارہ بولیں؛ چلیں بندہ کسی ایک کام میں تو بہتر ہوتا ہے نا؟ نہ ہی پڑھائی میں اس کا دل لگتا ہے، نہ ہی اسکول جانے میں۔ یا تو باہر کھیلتا رہے گا یا پھر گھر میں شرارتیں کرتا رہے گا، کچھ نہیں تو کم بخت یہ “موبائل” ہے جس میں یہ ہر وقت گھسا رہتا ہے۔
میں ان کی یہ ساری گفتگو پورے تحمل اور دھیان سے سنتا رہا اور خاصی دیر بعد ان سے پوچھا “محترمہ! آپ مجھ سے کیا چاہتی ہیں؟” انہیں شاید زور کا جھٹکا لگا حیرت سے بولیں؛ “میں چاہتی ہوں کہ آپ میرے بیٹے کو سمجھائیں” میں نے مسکراتے ہوئے انہیں جواب دیا کہ؛ میں 15 سال سے کم عمر کسی بھی بچے کو نہیں سمجھاتا، اس لئے آپ بچے کو کمرے سے باہر بھیج دیں”۔ انہوں نے ایک دفعہ پھر حیرت سے میری طرف دیکھا اور بچے کو باہر جانے کا اشارہ کر دیا بچے کے باہر نکلتے ہی ایک دفعہ پھر شروع ہوگئیں لیکن اس دفعہ میں نے انہیں روک دیا اور پوچھا آپ کی عمر کتنی ہے؟ وہ ادھر ادھر دیکھنے کے بعد انگلیوں پر کچھ گننے میں مصروف ہوگئیں، میں نے ہنستے ہوئے کہا خیر آپ اتنی بڑی لگتی نہیں ہیں جتنا گن رہی ہیں۔ بس میرے پوچھنے کا مقصد آپ کو یہ بتانا تھا کہ جب اپنے بچے کے مقابلے میں آپ اتنی زیادہ تجربہ اور عمر رکھ کر کسی بات کو نہ سمجھیں تو میں چھوٹے بچے کو کیسے سمجھا سکتا ہوں؟
میں نے ان سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا؛ پہلا اصول: یہ ہے کہ 7 سال کے بعد بچے کا زیادہ وقت اپنے باپ کے ساتھ گزرنا چاہیے، وہ مردوں میں زیادہ سے زیادہ رہے گا باپ کی سختی اور ڈانٹ بھی برداشت کرے گا اور مردانگی بھی سیکھے گا 7 سال کے بعد بچے کے زیادہ تر معاملات نمٹانے کی ذمہ داری باپ کی ہوگی۔ آپ نے اس کے 60 سے 70 فیصد معاملات اس کے ابا کی طرف بھیجنے ہیں اور اپنے شوہر کو بھی صبر، حکمت اور تحمل کی نصیحت کرتے رہنا ہے۔ میرا جملہ یاد رکھیے گا “نصیحت اور ڈکٹیٹ” کرنے میں بہت فرق ہوتا ہے۔
دوسرا اصول: بچے کو ہمیشہ”دھمکی” نہ لگایا کریں۔ بلکہ اس کے سامنے زیاہ تر “چوائسسز” رکھا کریں۔ اس میں خود آپ کے لئے بھی کبھی کوئی راستہ بند نہیں ہوتا ہے جب آپ بچے کو کسی کام کا حکم دیتے ہیں تو گویا آپ اسے مقابلے پر اکساتے ہیں اور جواب میں بچہ آپ کی برداشت کی آخری حد دیکھنا چاہتا ہے۔ دھمکی لگانے کے بعد آپ کے پاس دو راستے ہیں یا تو آپ دھمکی پر عمل کر گزریں یا پھر “معافی اور درگزر” کا سہارا لے کر بچوں کے ہاتھوں بلیک میل ہوجائیں۔
یاد رہے دھمکی بھی مارنے کے علاوہ ہونی چاہیے۔ مارنا وہ عمل ہے جو آپ کی انتہا کو ظاہر کرتا ہے۔ ہمیشہ وہ شخص ہاتھ اٹھاتا ہے جو بے بس ہوجاتا ہے تھپڑ کوئی اتنی حقیر اور گری ہوئی چیز نہیں ہے جسے آپ روز دس دفعہ استعمال کرلیں اگر آپ نے اپنا آخری اور سب سے مضبوط ہتھیار مار سب سے پہلے اور انتہائی معمولی باتوں پر ہی استعمال کرلیا تو سوال یہ ہے کہ آپ کے پاس پیچھے بچتا ہی کیا ہے؟ “تھپڑ کا خوف” تھپڑ سے زیادہ بڑی چیز ہوتی ہے جس دن آپ نے یہ مار دیا اس دن اس کا خوف بھی بچے کے دل سے نکل جائے گا کیونکہ وہ آپ کی انتہائی طاقت کو دیکھ لے گا۔
مگر عام طور پر مائیں دوسرا راستہ اختیار کرتی ہیں یعنی “چلو جانے دو یا یہ آخری دفعہ ہے” آپ کبھی غور کر لیں بچّے سب سے زیادہ ماؤں سے پٹتے ہیں لیکن سب سے زیادہ باپ سے ڈرتے کیوں؟ اسلئیے کیونکہ ماں دن میں 36 مرتبہ دھمکی دیتی ہے اور 6 مرتبہ بھی اس پرعمل نہیں کر پاتی ہیں یا اتنی دفعہ عمل کرلیتی ہیں کہ اس کی وقعت ہی ختم ہوجاتی ہے اور باقی 30 ویسے ہی ان کی “مامتا” کی نظر ہو جاتی ہے جسے “درگزر” کرنا کہتے ہیں وہ دراصل بچے کو اپنی کمزوری ہاتھ میں دینا ہوتی ہے۔ بچہ اچھی طرح سمجھ جاتا ہے کہ ماؤں کو بلیک میل کیسے کرنا ہے۔ وہ آپ کی کمزوری کو اپنے ہاتھ میں لے کر آپ سے معافی مانگتا ہے، آئندہ نہ کرنے کے وعدے کرتا ہےاور آپ ہر دفعہ خود کو پہلے سے زیادہ کمزور کرتی چلی جاتی ہیں۔ اس لئے پوری کوشش کریں کہ کبھی دھمکی کی نوبت نہ آئے معاملہ “انتخاب” کی صورت میں نکل جائے جیسے؛ “بیٹا! آپ نے ابھی کھیلنا ہے یا شام میں؟”،” کھلونے ابھی سمیٹنے یا ہوم ورک کرنے کے بعد؟”
80 فیصد کیسز میں بچہ کوئی ایک آپشن منتخب کر لیتا ہے مگر اگر 20 فیصد کیسز میں آپ کو دھمکی کی طرف جانا پڑتا ہے تو یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ جب آپ نے بچے کو کوئی بھی دھمکی ایک دفعہ دے دی پھر چاہے جان چلی جائے، بچہ ناک رگڑ دے یا پھر سارا گھر مل کر اس کی معافی کی درخواست آپ کے پاس لے آئے آپ نے دھمکی پر عمل کیے بغیر واپس نہیں ہونا۔
تیسرااصول: آپ سے کتنی ہی بڑی غلطی اپنے بچوں کے معاملے میں کیوں نہ ہو جائے اور آپ کو اس کا کتنا ہی ددر کیوں نہ ہو مثلا آپ نے بچے کو کسی بات پر خوامخواہ زیادہ ڈانٹا ہو یا پھر اس کا کوئی کام کرنے سے رہ گیا ہو جیسے کپڑے دھونا، لنچ بنانا یا اسکول جاتے وقت کتابوں کا میز پر پڑا رہ جاناوغیرہ وغیرہ اور بچہ آپ پر آکر چاہے کتنا ہی ناراض کیوں نہ ہو جائے آپ نے اپنے دل میں اپنی غلطی تسلیم کرنی ہے زبان پر نہیں۔ آپ بچے سے ہمدردی کر سکتی ہیں، اس کے احساسات اور جذبات کو دہرا سکتی ہیں، اسے گلے لگا سکتی ہیں یا اس کی بانہوں میں ہاتھ ڈال کر پیار کرسکتی ہیں لیکن کسی بھی حال میں بچے کے سامنے خود کو کمزور نہیں کر سکتیں۔آپ اس سے پوچھ سکتی ہیں کی کپڑے کس کے تھے؟لنچ کس نے کھانا تھا؟ بیگ میں کتابیں رکھنا کس کی ذمہ داری تھی؟ اس سے بچے کو اندازہ ہوگا کہ یہ سب ان کے کام ہیں جو والدین بطور احسان ان پر کرتے ہیں اور پھر اپنی نااہلی اپنے کاموں کا ذمہ دار ہر کسی کو ٹھہرانے کے بجائے ہمیشہ اپنی غلطی ڈھونڈنے کی عادت ان اندر پیدا ہوجائیگی۔
مگر اس طرح تو بچے کبھی معافی مانگنا نہیں سیکھیں گے؟ خاتون نے گہری سوچ سے باہر آتے ہوئے سوال کیا۔ معافی کے لئے بہت سارے بڑے لوگ آپ کے اطراف میں موجود ہیں آپ کی ساس سے لے کر آپ کی ماں تک اور آپ کے شوہر سے لے کر آپ کی بہن تک ۔ان سے معافیاں مانگیں اور بچے کے سامنے مانگیں تاکہ اسے معلوم ہو کہ معافی بڑوں سے مانگی جاتی ہے اور چھوٹوں کا احساس کیا جاتا ہے۔
بچے تو کچے گارے کی طرح ہوتے ہیں۔ وہ بیچارے تو کچھ بھی نہیں جانتے ہاں بس انسانی فطرت کے مطابق کچھ چیزیں کرتے ہیں لیکن اگر بروقت آپ نے ان کی ذہن سازی کردی تو آہستہ آہستہ ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ سب سے اہم بات دنیا میں کوئی ایسا فارمولا نہیں ہے جس میں “بچہ دوبارہ نہ کرے” بولا جاسکتا ہو۔ غلطیاں کرنا اور دہرانا انسانی فطرت ہے آپ کے روویوں اور ٹھیک کرتے رہنے کے نتیجے میں ان غلطیوں کے کرنے اور دہرانے کا وقفہ بڑھتا چلا جائے گا اور کوئی بھی کام کرنے سے پہلے اس کام کے تمام پہلوؤں کے بارے میں سوچے گا اور پھر وہ کام کر دے گا۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہئیے کہ غلطیوں پر ٹوکنا ہے مگر نظر اصلاح پر رکھنی ہے۔
یہ مستقل مزاجی کا کام ہے، خلیفۃ اللہ فی الارض کو بار بار درست راستے پر لانے اور اعلی کردار کا انسان بنانے کے لیے آپ کو کبھی بھی بچوں کے سامنے اپنا کمزور پہلو نہیں رکھنا ہے۔ آپ ایک ماں ہیں اور”ماں” کسی بےبس، لاچارے، مجبور اور بےکس چیز کا نام نہیں ہے بلکہ جنت کو اپنے پاوں تلے رکھنے اور دنیا میں سینکڑوں فتوحات کرنے والے عظیم سپہ سالاروں کو سیدھا رکھنے والی ہستی کا نام” ماں” ہے۔ اپنی حیثیت اور اسٹیٹس کو پہچانیں تا کہ آپ نسلِ نو کو صحیح معنوں میں تیار کر سکیں ورنہ دوسری صورت میں بے بس ماں تو بے بس انسان ہی تیار کرے گی۔

اس بلاگ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں