318

بچوں میں احساسِ محرومی – جہانزیب راضی

یہ پہلی دفعہ نہیں تھا۔ میں اس بچے کو پچھلے کئی مہینوں سے نوٹ کر رہا تھا اس کا رویہ دوسرے بچوں کے مقابلے میں بالکل مختلف تھا، آپ کو جو بچے بھی اپنے دانتوں سے ہونٹوں کو مسلتے اور چباتے نظر آئیں یا وہ بچے بچیاں جو اپنی انگلیاں اور ناخن دانتوں سے کاٹتے نظر آئیں، آپ سمجھ جائیں کہ ان کے ساتھ کوئی نہ کوئی “مسئلہ” ضرور ہے۔
اگر بچہ یا بچی ان حرکتوں کے ساتھ ساتھ مسلسل سہما ہوا یا ڈرا ہوا بھی نظر آئے اور کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے 36 دفعہ سوچے اور پھر بھی وہ قدم نہ اٹھا پائے تو اس کا مطلب ہے کہ اس کے اندر کوئی محرومی، شدید مایوسی اور شکست کا احساس ہے جو اس کو اندر ہی اندر گھلا رہا ہے۔
وہ تمام بچے جو ڈرے اور سہمے ہوئے ہوں، محفل میں بیٹھنا ان کے لئے دشوار ترین کام ہو، وہ لوگوں کو دیکھ کر بس ان سے بھاگنا چاہتے ہوں، جو مہمانوں سے راہِ فرار اختیار کرتے ہوں، یا پھر ہر شخص ان کو اپنا دشمن محسوس ہوتا ہو تو اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ ان بچوں کو ماں، باپ یا دونوں میں سے کسی کا بھی پیار اور وقت نہیں مل سکا ہے، خاص طور پر وہ اپنی ماں سے محروم رہے ہیں۔
آپ کو ایسے بچوں میں ایک چیز اور نمایاں نظر آئے گی۔ ان کے مزاج میں چغل خوری، یہاں کی بات وہاں اور وہاں کی بات یہاں کرنے کا بھی مزاج پروان چڑھتا چلا جاتا ہے، یہ لوگوں کے درمیان صرف” کن سُوئے” لینے کے لیے بیٹھتے ہیں تاکہ فوری طور پر کسی دوسرے کو اس کی “خامیاں” یا پھر گفتگو سنا سکیں، اس کا مقصد اس ہمدردی یا پیار کا حصول ہوتا ہے جو ماں اور باپ اسے نہیں دے پائے۔ اسی طرح خواہ مخواہ کا احساس برتری یا پھر شدید احساس کمتری بھی انہی وجوہات کے نتائج ہوتے ہیں۔
بچوں میں اس طرح کا رویہ دراصل چار اقسام یا ان میں سے کسی ایک قسم کی صورتحال کا نتیجہ ہوتا ہے۔
پہلی صورت حال یہ ہے کہ بچوں کی ماں بہت ہی کم عمری میں انتقال کر جائے اور پھر انہوں نے کبھی انھیں اپنی ماں اور ماں کا پیار نصیب نہ ہو سکا ہو۔ یہ بھی ذہن میں رہے کہ “باپ بھی ماں کی موجودگی تک ہی باپ ہوتا ہے، ماں کے مرنے کے بعد ہی باپ کی ترجیحات میں اولاد کہیں بہت نیچے چلی جاتی ہے”۔
دوسری صورت حال یہ ہے کہ ماں باپ کی طلاق ہوجائے اور بچے دربدر ہو جائیں۔ ایسے بچے اگر صرف اپنی ماں کے ساتھ رہیں تو ان کی شخصیت میں محرومی کا عُنصر تو موجود رہتا ہے مگر وہ بچہ اس بچے کی بہ نسبت زیادہ بہتر ہوتا ہے جو باپ کے پاس پلا ہو، کیونکہ باپ کا مقصد اپنی سابقہ بیوی سے “ٹسل” ہوتی ہے جو اسے بچے رکھنے پر مجبور کرتی ہے جبکہ ماں اپنی “ممتا” کی وجہ سے اپنے بچوں کو اپنے پاس رکھتی ہے، لیکن عام طور پر ہمارے معاشرے میں کم عمری میں بچوں کے ساتھ مطلقہ یا بیوہ لڑکی کو بھی لوگ بچوں کے ساتھ قبول کر کرنے پر رضامند نہیں ہوتے ہیں اسلئیے لڑکی کے والدین بچوں کو اپنے پاس رکھ کر اپنی بیٹی کی شادی کروا دیتے ہیں اور اس طرح ماں کے پاس آ جانے والے بچوں میں “احساس محرومی” دوبارہ پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہے۔
تیسری صورت حال یہ ہے کہ ماں باپ روز ایک دوسرے سے لڑتے ہوں، ایک دوسرے پر چیختے چلاتے ہوں، خصوصاً شوہرنامدار اپنی بیوی کو جوتے کی نوک پر رکھیں۔ میاں بیوی کی آپس کی تلخیاں، جھگڑے، شکوے شکایتیں، مارپیٹ، ہر وقت کی ناراضی اور نفرتوں کے ساتھ سمجھوتے کی زندگی بچوں کو گھر سے راہِ فرار اختیار کرنے پر مجبور کرتی ہے، کیونکہ انہیں گھر میں سکون نہیں ملتا، گھر سکون کے احساس کے بجائے ڈر اور خوف کے احساس کی جگہ بن جاتا ہے اس لیے یہ بچے کبھی کسی “لڑکی” میں اور کبھی کسی “باہر والے” میں اور کبھی “دوستوں، سہیلیوں” میں سکون تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
چوتھی اور آخری صورت حال یہ ہے کہ والدین اپنے گھریلو حالات یا پھر کسی بھی وجہ سے بچے کو خود سے دور کردیں، ہاسٹل میں ڈال دیں ، کسی دور دراز کے رشتہ داروں کے ہاں بھیج دیں یا پھر شہر اور گاؤں سے باہر کسی مدرسے میں ڈلوا دیں۔ ان تمام حالات میں بچے کی شخصیت تباہ ہو کر رہ جاتی ہے۔
ذہن میں رہے کہ 14 سال کی عمر تک بچے کی شخصیت مکمل ہوتی ہے اور یہ تمام واقعات اگر اس عمر سے پہلے ہوجائیں تو ان کے اثرات گہرے اور شدید ہوتے ہیں۔ بچے کا کردار، اس کی عادات، اس کے رویے، صحیح اور غلط کے معیارات، اچھے اور برے کی ترجیحات۔ یہ سب 14 سال کی عمر تک وہ بہت اچھی طرح اپنے دل و دماغ میں پیوست کر چکا ہوتا ہے اور اس کے بعد کسی کی دعا، کسی اچھے انسان کی صحبت یا پھر خالصتا اللہ کا فضل ہی اس کی شخصیت کو دوبارہ بحال کرتا ہے۔
میرا مشاہدہ مجھے یہ بتاتا ہے کہ اس سب کے باوجود بھی ان کی شخصیت میں کوئی نہ کوئی کمی یا احساس ضرور ایسا رہ جاتا ہے جو ان کے رویے یا گفتگو میں لازمی جھلکتا ہے۔ ایسے ماحول میں پرورش پانے والے لوگ کہیں نہ کہیں ہر مثبت چیز میں سے بھی کوئی نہ کوئی منفی پہلو نکالنے کے بھی عادی ہوچکے ہوتے ہیں۔
شعبہء تدریس سے وابستہ ہونے کے بعد میں بھی کلاس میں موجود ہر بچے کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکتا تھا، پھر مجھے آہستہ آہستہ احساس ہونے لگا کہ ہر بچے کی شخصیت، اس کا ماحول اور پس منظر دوسرے بچے سے مختلف ہے اور آپ ایک ہی فارمولا سب پر “اپلائی” کرکے یکساں نتیجہ کبھی بھی حاصل نہیں کر سکتے ہیں۔ ایک استاد کا کام بچے کی کلاس کے نتیجے سے کہیں زیادہ اس کی شخصیت کی تعمیر ہوتی ہے، اگر آپ کسی بچے کی زندگی میں تبدیلی لانے کا سبب بن جاتے ہیں تو ہی دراصل آپ “استاد” ہیں۔ خلافت عثمانیہ کے زمانے ان کے مدارس کی کلاسوں میں لکھ کر لگایا جاتا تھا کہ “یہاں مچھلی کو اڑنا اور پرندوں کو تیرنا نہیں سکھایا جاتا ہے”۔
مجھے تو زیادہ فکر اور درد والدین کے رویوں کا ہے۔ یہ بات ٹھیک ہے کہ کسی کی زندگی اور موت آپ کے اختیار میں نہیں ہے لیکن یہ تو ان چاروں میں سے صرف ایک صورتحال ہے کہ بچے کی ماں ہی مر جائے ورنہ باقی تو سب کچھ والدین کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ 14 سال تک بچہ آپ کے ہاتھ میں مٹی کا وہ گارا ہے جس کے کمہار آپ خود ہیں۔ یاد رہے اگر آپ کی وجہ سے بچے کی شخصیت اور کردار خراب ہوتا ہے تو اس کی ذمہ داری بھی والدین پر ہی ہے۔ طلاق دینے والے مردوں کو چاہئیے کہ بچوں کو ان کی ماں کے ہی پاس رہنے دیں، یہ وہ احسان ہوگا جس کا اجر نہ صرف یہ کہ اللہ کے پاس بھی آپ کو ملے گا بلکہ دنیا میں بھی کبھی نہ کبھی آپ کی اولاد ضرور آپ کی احسان مند ہوگی۔ اسی طرح مطلقہ، خلع یافتہ یا بیوہ خواتین اگر کریں تو کوشش کریں کہ ایسے شخص سے کریں جو ان کی اولاد کو بھی ساتھ رکھ سکے، ورنہ زندگی بھر کی کسک اور بچے کی تباہی کی ذمہ داری بھی آپ ہی کی ہوگی۔ حدیث کا مفہوم ہے کہ “اللہ اس عورت سے خوش ہوتا ہے جو اپنے بچوں کی تربیت کی خاطر دوسری شادی نہیں کرتی”۔ معاشرے میں اس رجحان کو بھی عام کریں کہ اگر آپ کو دوسری شادی کی “نیکی” کرنی ہی ہےتو اس عورت کو اس کی اولاد سمیت قبول کرلیں کیونکہ کسی بے سہارا کی سرپرستی کرنا دوسری شادی کی “نیکی” سے زیادہ بڑی نیکی ہے۔
المیہ تو ہمارے نظام تعلیم کے ساتھ بھی ہے جو ماں اور بغیر ماں کے بچوں کو ایک ہی کتاب اور ایک ہی سبق کے ساتھ تعلیم دے رہا ہوتا ہے۔ اردو اور انگریزی میں پڑھائے جانے والے وہ اسباق جس میں گھریلو ماحول اور منظر دکھایا جاتا ہے وہ ایک بے آسرا بچہ کبھی بھی نہیں سمجھ سکتا کیونکہ انسانی دماغ اپنے اندر “تصاویر” کی صورت میں چیزوں کو محسوس کرتا ہے، اور جس بچے نے کبھی ماں کا پیار اور ممتا نہیں دیکھی، جس نے کبھی اپنے ماں باپ ہی اپنے پاس نہیں دیکھے، جس کو لاڈ اور پیار کے معنی ہی معلوم نہیں ہیں، اس کے دماغ میں تو کبھی ماں کی تصویرہی نہیں بنی۔ اس کے جذبات، احساسات اور ردعمل کچھ بھی اس بچے کی طرح کیسے ہوسکتے ہیں جو کسی بھی “ماں والے” بچے کے ہوتے ہیں؟ دنیا کا سب سے بڑا اور سب سے مہنگا ترین اسکول جو کسی بچے کو اس دنیا میں مل سکتا ہے وہ 14 سال کی عمر تک اس کی ماں کا پیار، ممتا، شفقت اور محبت کی حدت ہے اگر اس کام میں شوہر اپنی بیوی کے شانہ بشانہ ہے تو یقینا آپ کا بچہ اس دنیا میں خوشیاں بکھیرنے اور آسانیاں پیدا کرنے والوں میں ضرور اضافے کا سبب بنے گا۔

اس بلاگ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں