125

ایک تھے جو کبھی، آج دو ہوگئے – مدیحہ صدیقی

اس قدر کمزور ،نہتے اور مظلوم مسلمانوں کے ہاتھوں اس قدر خوبصورت ملک کا وجود میں آنا، کلمئہ لا الہ کی روح کے بغیر ممکن نہ تھا۔قائد اعظم جیسے عظیم لیڈر کے عظیم ارادے ہر آزمائش سہتے رھے۔اللہ کے نام پر بننے والے اس ملک کے وجود میں آتے ہی سازشی ذہنوں نے جال بننا شروع کر دئے۔عصبیتوں کو ہوا دی جانے لگی، نفرتیں پروان چڑھائی گئیں
۔وہ لوگ جو ایک دوسرے سے بہت دور بسنے کے باوجود ایک پاکستان کے لئے ایک ہوئے تھے اپنی اپنی شناخت کی طرف حسساس ہونے لگے۔ اور یہ یونہی نہ تھا ملک کے غدار،مفاد پرست لوگوں کی سوچی سمجھی سازش تھی،اور پھر وہ سانحہ ھوا جس کا تصور بھی محال تھا۔سانحہ سقوط ڈھاکہ۔جسے نہ دل ماننے کو تیار تھا نہ ہی دماغ قبول کرتا تھا۔اس سانحہ نے ایک ہی مقصد کے لئیے تن من دھن لگا دینے والوں کو بہت دور دور کر دیا۔ایک عظیم مملکت کا ٹوٹ جانا کوئی چھوٹی بات نہ تھی۔لیکن کیا اس سانحے نے ہمیں ھوشیار کیا؟ کیا ہم یہ جان پائے کہ اس مملکت کے نظریہ اور وجود کے ساتھ کسقدر گھناونا اور نفرت انگیز وار کیا گیا ۔کیا ہم سنبھل گئے۔کیا ہم سازشی چہروں کو جان گئے۔کیا ہم نے ان کے عزائم پہچان لئے۔
اگر ایسا ہوتا تو سوچا جا سکتا تھا ہم نے سانحے سے سبق سیکھ لیا۔ لیکن افسوس صد افسوس آج پاکستان میں ہر طرف عصبیت اور نا انصافی کے شعلوں کو ہوا دی جا رہی ھے۔لال لال نظاموں کی بات ہوتی ھے۔لیکن یاد رکھیں جو نظریہ، پاکستان کے وجود کی روح تھا وہی اس کی بقا کا ضامن بھی ھے اور ان سازشوں کا توڑ بھی۔

اس بلاگ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں