18

ایونٹ بیسڈ لرننگ – جہانزیب راضی

ایک چھوٹا بچہ کبھی بھی دھیان سے  اے – بی – سی ، حروفِ تہجی یا گنتی شوق سے نہیں پڑھے گا۔  یہ اس کی فطرت اور مزاج کے خلاف ہے۔ اللہ تعالی  نے انسان کو لامحدود صلاحیت یہ دی ہے کہ وہ ہر چیز کی تصویر اپنے دماغ میں بناتا ہے اور چاہتا ہے کہ اس کو سب سے پہلے اس چیز کا “نام” بتا دیا جائے۔

آپ نے حضرت آدم علیہ السلام کے واقعے پر کبھی غور کیا ہے؟ اللہ تعالی حضرت آدم علیہ السلام کی خصوصیت جو فرشتوں کے سامنے بیان کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ: “ہم نےآدم  کو نام سکھائے”۔ کسی بھی چیز کا نام اس کے کام کے آغاز کی بنیاد ہے، نام ہوگا تو کام ہوگا۔

 نام میں سب سے پہلی خوبی  یہ ہے کہ  اس کی وجہ  سے انسان اپنے دماغ میں کوئی نہ کوئی تصویر بنا لیتا ہے، نہیں بناتا تو خود بخود بن جاتی ہے۔ مثلا میرے بیٹے نے کتاب میں سب سے پہلی چیز جو دیکھی وہ “ٹرک” تھا اور اس نے ٹرک کے بارے میں جو تصویر قائم کی وہ یہ تھی کہ جس چیز کے چار پہیے ہوتے ہیں اور وہ سڑک پر چلتی ہے اس کو ٹرک کہتے ہیں، کیونکہ یہ خاکہ کا اس کے دماغ میں بن چکا تھا اس لئے وہ کسی بھی بس یا گاڑی کو دیکھ کر کر بھی “ٹرک” ہی بولتا تھا۔

 بچے کو چیزوں کے نام یاد کروانے کا سب سے بہترین طریقہ آپس میں گفتگو کرنا ہے۔ راستے میں جہاں بھی کوئی گاڑی نظر آتی یا بس نظر آتی تو میں فورا اپنی بیگم سے بولتاکہ دیکھو گاڑی جا رہی ہے دیکھو بس جا رہی ہے تو اس طرح اس کے ذخیرہء الفاظ میں تصویر کی صورت میں ایک اورلفظ کا اضافہ ہوگیا۔ ٹھیک اسی طرح اس نے اپنے دماغ میں یہ خاکہ بھی بنایا کہ ہر وہ چیز جو” گول” ہوتی ہے اسے “بال” کہتے ہیں حتی کہ اب اسے بلب کی گولائی بھی “بال” ہی محسوس ہوتی ہے۔

اسکول میں ایک بچے کا پہلی دفع داخلہ ہوا وہ جاکر کلاس میں بیٹھا تو ٹیچر نے تمام بچوں کو کاغذ، قلم اور کلر پینسلز دینے کے بعد “پھول” بنانے کا کہا۔ بچے نے فورا قلم اٹھا کر پھول بنانا شروع کر دیا ٹیچر ا اس کے پاس آئیں اور بولیں: “یہ کیا کر رہے ہیں آپ؟ ابھی میں نے بورڈ پر آپ کو بنا کر دکھایا کہ پھول کیسے بنتا ہے؟” نتیجہ یہ نکلا اب جب کبھی اس بچے کو آپ پھول بنانے کا بولیں گے وہ خاموش ہو کر بورڈ کی طرف دیکھنے لگتا ہے یا اگر خود سے بناتا ہےتو انھی مِس جیسا بنا دیتا ہے لیکن اس کی خود کی “تخلیقی صلاحیت” اس سے بچپن میں ہی چھین لی گئی ہے۔ اسی لیے میں والدین کو کہتا ہوں کہ بچے کبھی بھی “روکھے حروف” یا گنتی یاد کرنے میں دلچسپی نہیں لے سکتے ہیں۔ آپ انھیں بالکل “خشک حروف” یاد کرنے اور لکھنے کو دیتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس میں ان کی دلچسپی پیدا ہو جائے تو بھلا یہ کیسے ممکن ہے؟

بالکل اسی طرح وہ کام جس کی “لاجک” بچے کو سمجھ  نہیں آئے گی اس کام میں اس کی دلچسپی کبھی بھی پیدا نہیں ہوسکتی۔ 100 تک گنتی، الٹی گنتی، انگریزی کے حروف تہجی، اردو کے حروف تہجی اس کی دلچسپی کبھی نہیں بن سکتے ہیں۔

ہاں اگر آپ سے بولتے ہیں کہ ایک جگہ 100 کرسیاں رکھی ہیں، پچاس پر لوگ بیٹھ گئے ہیں تو بتاؤ کتنی خالی ہیں؟ اب اس کی دلچسپی بڑھ جائے گی لیکن اگر آپ چاہیں تو وہ سیدھی، الٹی اور اوپر نیچے سے گنتی یاد کرلے اور وہ بھی پورے شوق سے تو معذرت کے ساتھ یہ ممکن نہیں ہوگا۔

 ایک اہم ترین بات یہ بھی ہے کہ امتحان بچے کی سیکھنے کی صلاحیتوں کو روک دیتا ہے۔ کبھی آپ اپنے بارے میں ہی غور کر لیں جب تک گفتگو ہوتی رہتی ہے، مکالمہ ہوتا ہے یا ڈسکشن ہوتی ہے آپ کا دماغ بہت تیز کام کرتا ہے اور جیسے ہی آپ سے کوئی سوال پوچھ لیا جائے تو آپ کا سارا دھیان اس کے جواب پر مرکوز ہو جاتا ہے اور آپ کی مزید سیکھنے کی صلاحیت وہیں رک جاتی ہے۔ یہاں “پرابلم سولونگ” اور روایتی امتحان میں زمین آسمان کا فرق ہے وہ آپ کی “تخلیقی صلاحیتوں” میں اضافہ کرتی ہے اور محض رٹے رٹائے سوالات  تخلیقی صلاحیتوں کو کُند کردیتے ہیں۔

اسی لئیے فن لینڈ “ایونٹ بیسڈ لرننگ” کرنے والا پہلا ملک بن گیا ہے جہاں بچوں کو چھ مہینے یا سال بھر کے لیے ایک “ایونٹ” دیا جائے گا اور اس میں سے نکلنے والے مسائل او رسوالات کو تلاش کیا جائے گا۔

یعنی “دوسری جنگ عظیم” 2019 کے لیے ان کا ایونٹ ہے۔ سب سے پہلے تو بچوں کو مجموعی طور پر بتا دیا جائے گا کہ اس جنگ میں ہوا کیا تھا اس کے بعد کس تاریخ کو کس کی کس سے لڑائی ہوئی؟ اس کی پوری “ٹائم لائن” بنے گی۔ سیاسی، سماجی، معاشی اور معاشرتی کیا خرابیاں پیدا ہوئیں اس تمام گفتگو میں “معاشرتی علوم” کا بڑا حصہ مکمل کروایا جائے گا۔

 پھر ان ممالک کا جغرافیہ کیا تھا؟ آبادی کتنی تھی؟ کس ملک نے کہاں سے حملہ کیا؟ روس میں سردیاں ہونے کی وجہ سے جرمنی کی فوج وہاں زیادہ عرصہ نہیں ٹھہر سکی وغیرہ وغیرہ۔ اس گفتگو کے نتیجے میں “جغرافیہ” کور ہوجائیگا۔

 پھر اس زمانے کی ایجادات اور جنگ میں استعمال ہونے والے اسلحے کے بارے میں ان کی بناوٹ اور ساخت کے بارے میں تفصیل سے تبادلہ خیال کیا جائے گا  تو اس طرح  نہ صرف  “سائنس”  کے بارے میں دلچسپی  پیدا ہوگی بلکہ سائنس کا ایک بڑا حصہ بھی سمجھایا جاسکے گا۔

اس جنگ کے کیا نتائج نکلے اورکیا اخلاقی خرابیاں پیدا ہوئیں اس سے بچے اخلاقی تربیت لے پائیں  گے اور ان کے اندر لڑائی سے نفرت پیدا ہوگی۔ یہ سارا کام آپ یقینا کسی نہ کسی زبان میں کرینگے اور اس طرح سے تو ان کی “لینگویج” کا مسئلہ بھی خود بخود حل ہو جائے گا، نئے الفاظ اور محاورات ان کے پاس جمع ہو جائیں گے سینکڑوں جگہ سے معلومات اکٹھی کرتے کرتے وہ مزید معلومات حاصل کرتے چلے جائیں گے اور علم سیکھنے کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ اس سے بچوں کو دنیا کو دیکھنے کا ایک نیا زاویہ ملے گا۔ روز مرہ کے معمولات اور حالات سے دلچسپی پیدا ہو گی اور اور وہ محض گریڈ کے لیے تیار ہونے کی بجائے اپنی حقیقی زندگی کے لیے بھی تیار ہو سکیں گے۔

اس بلاگ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں