83

انٹرنیٹ اسکولنگ – جہانزیب راضی

1728میں پہلی دفعہ دنیا میں “ڈسٹنس لرننگ” کا آغاز ہوا۔ کلیب فلپس وہ پہلا استاد تھا جس نے “بوسٹن گزٹ” کے ذریعے ہر ہفتے اپنے شاگردوں کو اسباق بھیجنے کا سلسلہ شروع کیا۔ وہ ہر ہفتے اپنے شاگردوں کو پورا سبق پوسٹ کرتا، اگلے ہفتے اس کے شاگرد دئیے گئے اسباق کی مشقیں حل کر کے بھیج دیتے، وہ ان کے مسائل اور الجھنوں کو پڑھتا اور جوابات کے ساتھ مزید نئے اسباق پوسٹ کردیتا۔ اسے “شارٹ ہینڈمیتھڈ” کہا جانے لگا۔
1840میں اساک پٹمن نے بھی پوسٹل تعلیمی سروس کا باقاعدہ آغاز کر دیا، اور ہر آنے والے دن کے ساتھ اس کے شاگردوں میں اضافہ ہونے لگا۔ اس “ڈسٹنس لرننگ” کی پذیرائی کو دیکھتے ہوئے یونیورسٹی آف لندن نے 1858 میں پہلا باقاعدہ آفیشل کورس متعارف کروا دیا۔ اس سے پہلے جتنے “ڈسٹنس لرننگ” کے طریقہ کار تھے اس میں ایک خرابی یہ تھی کہ طلبہ کو کسی بھی قسم کا سرٹیفکیٹ یا ڈگری نہیں ملتی تھی اور “یونیورسٹی آف لندن” نے طلبہ کے اس مسئلہ کو بھی حل کردیا۔ 1892 میں “شکاگو یونیورسٹی آف امریکہ” نے بھی ایک ایسا ہی ڈگری پروگرام متعارف کروادیا اور اس طرح اٹھارویں ویں صدی کے آخر میں ان پروگرامز اور کورسز میں داخلہ لینے والوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہونے لگا۔
1969میں برطانیہ میں پہلی “اوپن یونیورسٹی” کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ یہ ایک ایسی یونیورسٹی تھی جس میں طلبہ صرف امتحانات دینے آتے تھے، ان کو کتابیں اور لیکچرز گھر بیٹھے کیسٹس یا نوٹس کی صورت میں مل جاتی تھیں۔ اس وقت ٹی – وی نے بھی خاصی ترقی کر لی تھی، اس لیے بہت سے تعلیمی پروگرامات ٹی- وی کے ذریعے بھی نشر کئے جاتے تھے لیکن وہ سب کے سب کسی ڈسپلن کی شکل میں نہیں تھے۔
پاکستان اس سلسلے میں دنیا کا وہ خوش قسمت ملک تھا جہاں دنیا میں دوسری جبکہ افریقہ اور ایشیا میں پہلی “اوپن یونیورسٹی” کا سنگ بنیاد سنہ 1974 میں رکھا گیا۔ اس وقت اس کا نام “پیپلزاوپن یونیورسٹی” تھا۔ 1977 میں اس کا نام “علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی” رکھ دیا گیا۔ سن 2000 کے بعد پاکستان میں انٹرنیٹ کا “بوم” آیا تو اس یونیورسٹی کی انرولمنٹ میں اچھا خاصا اضافہ ہوگیا۔ اپنی جاب یا کاروبار کرنے والے لوگ اب باآسانی خود کو کسی بھی ڈگری پروگرام میں رجسٹر کروا کر چار سالہ ڈگری حاصل کر سکتے تھے خاص طور پر وہ خواتین بھی جو گھر سے باہر جا کر تعلیم حاصل نہیں کر سکتی تھیں یا نہیں کرنا چاہتی تھیں وہ بھی اس سے فائدہ اٹھا سکتی تھیں۔
اس کے بعد پاکستان مں “ورچوئل یونیورسٹی” وجود میں آئی اور اس کا مقصد بھی لوگوں کے معمولات زندگی کو چھیڑے بغیر ان کی مرضی کی تعلیم ان کے گھر تک پہنچانا تھا۔ جیسے جیسے دنیا ترقی کرتی چلی گئی، مصروفیات زندگی میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ وقت کم اورمقابلہ سخت ہوا تو لوگوں نے بڑی تعداد میں خود کو “ورچوئلی موو”کر لیا۔ یونیورسٹی ہی نہیں بلکہ اسکولز سے لے کر کالجز تک سب کے سب آن لائن ہونا شروع ہوگئے۔ یوٹیوب اور گوگل نے لوگوں کی زندگیوں میں مزید آسانیاں پیدا کر دیں۔ اب ڈگری پروگرامز سمٹ کر چند منٹس یا گھنٹوں کی ویڈیوز تک محدود ہو چکے تھے۔ مگر پاکستان جیسے ملک میں اسکول اور کالج تک تو خیر کسی آن لائن پروگرام کی کوئی خاطر خواہ پذیرائی نہیں تھی البتہ گریجویشن یا ماسٹرز لیول پر کسی حد تک لوگ استفادہ کر رہے تھے پھر اچانک لوگوں کی زندگیوں میں 11 فروری 2020 آگیا۔ جب موجودہ وباء کو باقاعدہ “کورونا وائرس” قرار دیدیا گیا۔
اب ہم آتے ہیں دنیا کی موجودہ صورتحال پر اس وقت دو مہینے سے زیادہ ہوچکے ہیں لگ بھگ ساری دنیا ہی بند پڑی ہے اور اب جا کر کسی درجے میں عالمی برادری تمام تحفظات کے ساتھ” کچھ” کھولنے پر تیار ہوئی ہے لیکن تعلیم کا شعبہ بہرحال ابھی کسی بھی درجے میں کھلنے کی پوزیشن میں نہیں ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ تعلیم وہ آخری “شعبہ” ہوگا جو دنیا میں کھولا جائے گا تو شاید غلط نہیں ہے۔ اس وقت دنیا کے ڈیڑھ ارب اسکول جانے والے بچے گھروں میں “خوش” ہیں البتہ ان دو مہینوں میں زوم نے اپنا بزنس 10 ملین ڈالرز سے 200 ملین ڈالرز تک پہنچا دیا ہے۔ ارجنٹینا دنیا کا واحد ملک ہے جس نے اپنے سرکاری ٹی وی کے چودہ گھنٹے صرف تعلیم کے لئے وقف کر رکھیں ہیں اور پرائیویٹ چینلز کو بھی اس بات کا پابند کیا ہے کہ وہ روز کم از کم دو گھنٹے کسی نہ کسی تعلیمی پروگرام کے لیے مختص کریں گے۔
یہ وہ ساری صورت حال ہے جو پوری دنیا کو یا تو انٹرنیٹ اور “ڈسٹنس لرننگ” پر لے آئی ہے یا پھر آہستہ آہستہ لے آئے گی۔ میرے نزدیک اگر موجودہ اسکول سسٹم “آن لائن” یا “انٹرنیٹ اسکولنگ” کی طرف جاتا ہے تو اس میں کئی ایک قباحتیں ہیں۔ آپ پاکستان کو بھی ایک طرف کردیں اسوقت جو ممالک سر کے بالوں سے لے کر پاؤں کے ناخن تک ٹیکنالوجی میں ڈوبے ہوئے ہیں انہوں نے بھی 11 فروری 2020تک اپنی تعلیم اور اپنے سکولوں کو “ورچؤ ل یا آن لائن” نہیں کیا تھا اور نہ ان کا آگے کرنے کا ارادہ ہے۔ ان تمام ممالک میں اسکولز اپنی عمارتوں کے ساتھ جوں کہ توں قائم ہیں، اساتذہ بھی موجود ہیں اور اسکول وینز بھی اپنی جگہ پر کھڑی ہیں اور اس کی سب سے بڑی وجہ “بچوں کا استاد سے تعلق”،” تربیت بذریعہ ماحول” اور “توجہ” ہے۔
انٹرنیٹ اسکولنگ کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ بچہ “فوکسڈ” نہیں ہوسکتا ہے۔ انٹرنیٹ اصل میں معلومات کا ایک نہ ختم ہونے والا “گٹر” ہے اور اس وقت دنیا میں انٹرنیٹ کا فائدے سے زیادہ نقصان ہورہا ہے۔ “سچ اورحقیقت” نام نہاد معلومات کے سیلاب میں کہیں ایسی دب چکی ہے کہ آپ چاہ کر بھی اسے تلاش کرنے سے قاصر ہیں اور اس کے لئے آپ کے بچے ہی کیا ہمیں اور آپ کو بھی کسی نہ کسی “مربی” کی ضرورت ہے۔ اسی لئے قرآن کہتا ہے “اہل علم سے پوچھو! اگر تم کسی بارے میں نہ جانتے ہو” اور فرمایا “کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہو سکتے ہیں؟”۔
دوسرا بڑا مسئلہ جو انٹرنیٹ اسکولنگ کا ہے وہ تربیت کے بغیرتعلیم کاہے۔ آپ نے کبھی غور کیا سگریٹ کے ڈبے پر جلی حروف میں لکھا ہوتا ہے “تمباکو نوشی صحت کے لیے مضر ہے- وزارت صحت حکومت پاکستان” اور اب تو اس پر کٹا ہواجبڑا بھی بنا ہوتا ہے مگرآپ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے اس ملک میں کتنے سگریٹ پینے والے ایسے ہیں جنہوں نے اس “مفید معلومات” سے استفادہ کیا ہواور سگریٹ نوشی چھوڑ دی ہو؟ کیونکہ معلومات کبھی بھی صحبت اور ماحول کی جگہ نہیں لے سکتی ہے، دنیا میں جتنے لوگ بھی سگریٹ نوشی کرتے ہیں اس کی وجہ ان کی صحبت اور ماحول ہوتا ہے نہ کہ معلومات۔
جب رسول اللہ صلی وسلم دنیا میں تشریف لائے تو یہود و نصاریٰ کو اچھی طرح معلوم تھا کہ یہ وقت کا رسول اور نبی ہے بلکہ قرآن تو کہتا ہے وہ اس (نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن) کو ایسے پہچانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں” مگر کیا فائدہ ہوا ان اہل کتاب کی کتاب اور معلومات کا؟ جب انہوں نے صحبت ہی اختیار نہیں کی؟ اور دوسری طرف معلومات سے بے بہرہ وہ عرب چرواہے صرف صحبت ، ماحول او رتعلق کی بنیاد پر دنیا کے عظیم ترین لوگ بن گئے۔
اس لیےنری معلومات لاحاصل ہے اگر اس میں تربیت، تعلق اور صحبت شامل نہ ہوں۔ یاد رکھیں آپ انٹرنیٹ سے کوئی ہنر سیکھ سکتے ہیں، معلومات حاصل کر سکتے ہیں مگر تربیت اور تجربے کے لیے بہرحال یا تو گھر کو تعلیم و تربیت کا مرکز بنانا پڑیگا یا پھر اسکول کو تربیت کی جگہ ورنہ دوسری صورت میں ہمارے بچے صرف انفارمیشن اور انسٹرکشنز سے بھرے “روبوٹس” بن کر رہ جائینگے۔

اس بلاگ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں