160

اسکولز کھولئیے – جہانزیب راضی

قیام پاکستان کے وقت پاکستان میں نجی اور پرائیویٹ اسکولز نہ ہونے کے برابر تھے۔ اس کی بہت بڑی وجہ برٹش گورنمنٹ کا برصغیر میں بڑی حد تک کیا گیا تعمیری کام تھا، کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج سے لے کر این – ای- ڈی یونیورسٹی تک اور سینٹ پیٹرکس سے لے کر سینٹ پال تک یہ تمام اور ان جیسے سینکڑوں اسکولز، کالجز اور یونیورسٹیز “سرکار برطانیہ” کے زیر انتظام تھیں۔ ہمیں تمام تعلیمی ادارے “ورثے” میں ملے تھے، صدر ایوب خان کے دور تک کچھ مشنری ادارے تھے جو کہ پرائیویٹ طور پر چلائے جارہے تھے مگر اکثریت سرکاری اسکولوں، کالجز اور یونیورسٹیز کی تھی۔
1972 میں بھٹو صاحب کے “قومیانے” کی پالیسی نے جہاں پاکستان کی صنعت و تجارت کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیا وہیں پاکستان کے تعلیمی ادارے اور خصوصا اسکولز سب سے زیادہ اس پالیسی کی زد میں آئے۔ اس نقصان کے حوالے سے آپ کو تفصیل اخوت فاؤنڈیشن کے چیئرمین جناب ڈاکٹر امجد علی ثاقب صاحب کی کتاب “کامیاب لوگ” میں بآسانی مل سکتی ہے۔
80 اور 90 کی دہائی میں پاکستان میں پرائیویٹ اسکولوں کا کلچر بڑھنا شروع ہوگیا لیکن پھر بھی ابھی تک سرکاری اسکولز نہ صرف بہت بہترین پرفارم کر رہے تھے بلکہ ان میں تعلیم بھی مفت تھی۔ نجی تعلیمی اداروں کا “چسکا” ابھی تک پاکستان کی ایلیٹ کلاس کو لگا تھا۔ مڈل کلاس اور لوئر مڈل کلاس کو نہ “چسکا” لگا تھا اور نہ ہی ضرورت تھی لیکن حکومتوں کے مسلسل بننے بگڑنے اور تعلیم کو کسی بھی درجے میں ترجیح میں نہ رکھنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ 1999 اور 2000 تک ملک بھر میں سینکڑوں پرائیویٹ تعلیمی ادارے اور خصوصا اسکولز وجود میں آگئے اور دیکھتے ہی دیکھتے اسکولوں کے جنگل کے جنگل آباد ہوگئے۔
1975میں پہلے پاکستانی پرائیوٹ اسکول “بیکن ہاؤس” کی بنیاد رکھی گئی پھر 1978میں “سٹی پبلک اسکول” وجود میں آگیا۔ یہ دونوں اسکولز پاکستان میں اچھا نام بنانے میں کامیاب ہوگئے اگرچہ ان اسکولوں کے ساتھ ساتھ اور دوسرے پرائیوٹ سکولز بھی مسلسل اپنا نام اور کام کر رہے تھے مگر ان دونوں پرائیویٹ اسکولز کا معیار کیونکہ خاص طور پر پاکستانی ایلیٹ کو اپیل کرتا تھا اس لئے یہی دونوں اسکولز پرائیوٹ سیکٹر میں پوری طرح چھائے رہے۔ ابھی تک مسئلہ یہ تھا کہ یہ دونوں اسکولز پاکستان کے بائیں بازو کے طبقے کی نمائندگی کر رہےتھے اور اس زمانے میں دائیں بازو اور بائیں بازو کی کشمکش اپنے عروج پر تھی اسلئے 1991 میں جاکر کہیں “دارِارقم” کے نام سے دائیں بازو کی شناخت رکھنے والے اسکول کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا اور “اسلامی فکر” رکھنے والوں میں دیکھتے ہی دیکھتے اس کی پذیرائی ہونے لگی۔ بیسویں صدی کے اواخر تک پہنچتے پہنچتے پاکستان کے خصوصا اور صوبہ سندھ کے عموما سرکاری اسکولز بے حال ہو چکے تھے، اسلئیے سن 2000 کے بعد سے بہت تیزی سے “فرنچائز سسٹم” موجود میں آگیا۔ “بیکن ہاؤس” ابھی تک اپر کلاس کو ڈیل کر رہا تھا مگر اب اسے مڈل کلاس میں بھی اپنے قدم جمانے تھے اس لیے سن 2000 میں “ایجوکیٹرز” کی بنیاد ڈالی گئی جس کے اب تک 900 سے زیادہ کیمپسس پورے پاکستان میں کام کر رہے ہیں۔2001 میں “دارِارقم” نے بھی اپنا فرنچائز ماڈل متعارف کروا دیا اور اس طرح اس کی بھی فرنچائز کی تعداد 700 کا ہندسہ اب تک پار کرچکی ہیں۔ سٹی اسکول کو فرنچائز کا خیال تھوڑی دیر سے آیا اس لیے بھی “اسمارٹ اسکول” 153 فرنچائز کے ساتھ تیسرے نمبر پر پاکستان میں موجود ہے۔
2000-1999کی آئی – سیپ کی سروے رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پرائیویٹ سکولوں کی تعداد اُسوقت 35889تھی یہی تعداد 2005 میں 70365 جبکہ 2007 اور 2008 میں 73529 تک پہنچ گئی جبکہ “آل پاکستان پرائیوٹ اسکول فیڈریشن” کی ویب سائٹ پر اِسوقت رجسٹرڈ پرائیوٹ اسکولوں کی تعداد 197000سے زیادہ ہے جس میں پڑھانے والے اساتذہ 15لاکھ اور پڑھنے والے بچوں کی تعداد دو کروڑ کے لگ بھگ ہے میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ کم و بیش اتنے ہی مزید اسکول ایسے ہوں گے جو کہ کہ “آل پاکستان پرائیویٹ سکول فیڈریشن” سے رجسٹرڈ بھی نہیں ہونگے۔ سینکڑوں کی تعداد میں ایسے اسکولز ہیں جو آٹھویں جماعت تک ہیں جبکہ نویں اور دسویں کا امتحان کسی اور اسکول سے دیتے ہیں۔
آپ پاکستان کے پرائیویٹ اسکولوں کو بھی تین حصوں میں تقسیم کرسکتے ہیں:
1) پہلے مرحلے میں وہ اسکولز ہیں جن کی فیسیں 1000سے 3000کے درمیان ہیں اور لوئرر مڈل کلاس طبقہ اپنے بچوں کو ان ہی اسکولوں میں پڑھواتا ہے۔
2) دوسرے مرحلے میں وہ اسکولز ہیں جن کی فیسیں 3000 سے 6000کے درمیان ہیں مڈل کلاس طبقہ اپنے بچوں کو ایسے ہی تعلیمی اداروں میں بھیجتا ہے۔
3) جب کہ تیسرے مرحلے میں وہ اسکولز ہیں جن کی فیسیں 6,000 سے زیادہ ہیں اور وہ 30000 سے 50000 تک بھی ہوسکتی ہیں۔ ملک کے اپرمڈل کلاس اور ایلیٹ کلاس طبقے نے اپنے بچوں کو ان ہی اسکولوں میں داخل کروا رکھا ہے۔
10مارچ 2020سے یعنی دو مہینے سے زائد ہوچکے ہیں اور یہ تمام اسکولز بند پڑے ہیں یا صرف فیسیں وصول کرنے کے لئے کھل رہے ہیں۔ سچ بات تو یہ ہے کہ “آن لائن” سروس کے نام پر اسکولوں کے پاس جو کچھ بھی موجود ہے اس سے ایک 110 گناہ زیادہ اعلی ترین معیار کا مواد انٹرنیٹ پر گوگل اور یو ٹیوب پرموجود ہے، اس کے علاوہ ہزارہا مفت تعلیمی ویب سائٹس الگ ہیں۔
اسکول کا اصل کام ہی بچوں کے ساتھ “انٹرایکشن” ہے۔ عام حالات میں بھی دو مہینے کی چھٹیاں ہوتی ہیں لیکن اس وقت تک تعلیمی سال کا آغاز ہو چکا ہوتا ہے بچے کچھ نہ کچھ لکھ پڑھ چکے ہوتے ہیں اور اساتذہ جیسا بھی سہی گھر کے لئے بھی اچھا خاصا “بوجھ” بچوں پر لاد ہوچکے ہوتے ہیں۔ موجودہ تعلیمی نظام اور امتحانی سسٹم سے ہزارہا اختلاف کے باوجود بھی میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کے تمام اسکولوں میں کام کرنے والے اساتذہ جن کی دال روٹی اور دلیا پانی ان ہی اداروں سے چل رہا ہوتا ہے وہ گھروں پر موجود ہیں۔
90 فیصد اسکولز کرائے کی عمارتوں میں قائم ہیں۔ بڑے اسکولوں کو چھوڑیں گلی محلے کے چھوٹے اسکولز تو بہرحال ریگولر فیسوں پر ہی چل رہے ہوتے ہیں اور نہ بھی چل رہے ہوں تو بھی وہ اتنے سخی داتا نہیں ہیں کہ اپنی جیب سے اپنے اساتذہ کو تنخواہیں ادا کریں بے شمار اسکولوں نے جن میں بڑے اسکولز بھی شامل ہیں نے اپنے اساتذہ کو بغیر تنخواہوں کے گھر بھجوا دیا ہے اور دو ٹوک الفاظ میں بول بھی دیا ہے کہ اسکولز کھلیں گے تب سے آپ کی تنخواہ جاری کی جائے گی۔
میری عرض اتنی ہے کہ جس طرح آپ نے کچھ ایس او پیز کے ساتھ کاروبار کھلوادیا ہے اسی طرح اسکولز بھی کھلوادئیے جائیں۔ اس میں درج ذیل تجاویز کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے؛
1) تمام اسکولوں میں ہینڈسینیٹائزر لازم کردیا جائے یا پھر سینیٹائزرز گیٹس لگا دیے جائیں۔
2) کلاسوں کو دنوں پر تقسیم کردیا جائے بلکہ چھوٹے بچوں کو جو چھ سال سے کم عمر ہوں فی الحال گھر بٹھایا جا سکتا ہے ورنہ دوسری صورت میں ہفتے میں دو دن ان کے لئے بھی مقرر کر دیئے جائیں۔
3) پرائمری سیکشن کے لیے دو دن کلاسیں رکھی جائیں۔
4) سیکنڈری سیکشن کو بھی دو دن بلا لیا جائے۔
5) کلاسوں کا انعقاد صبح اور شام کے اوقات میں بھی کیا جاسکتا ہے۔
6) لڑکے لڑکیوں کو الگ الگ دنوں اور وقتوں میں بھی بلایا جاسکتا ہے۔
7) اسکول کے اوقات کار بھی کم کیئے جا سکتے ہیں۔
8) بچوں کو فاصلے سے بٹھا کر دستانے اور ماسک لازم کیا جاسکتا ہے۔
جبکہ اسکولوں میں بچوں “کورونا آگاہی مہم” بھی فراہم کی جاسکتی ہے۔
لیکن اس طرح تعلیمی اداروں کو بغیر کسی گائیڈ لائن کے بند کر دینا والدین، اساتذہ، بچوں اور خود اسکولوں کے ساتھ بھی زیادتی ہے۔ اول تو اسکولوں کے کرائے معاف کروانے کا کوئی انتظام نہیں ہے، اسی طرح اسکول بھی والدین سے باقاعدہ اور پوری فیس بچوں کو بغیر کوئی تعلیم فراہم کئیے وصول کر رہے ہیں اور پھر بھی اساتذہ کرام اور اسٹاف تنخواہوں سے محروم ہیں۔
یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہے اور ایک بڑی تعداد ان سکولوں کی بھی ہے جو اپنے اسٹاف کا خیال پہلے سے بڑھ کر رہے ہیں مگر اسکولوں کو اکثریت اسکول کو کمرشل بنیادوں پر چلاتی ہے نہ کہ انسانی ہمدردی اور خدمت خلق کی نیت سے اور جب نیتوں میں فتور ہو تو چاہے فیکٹریاں اور کارخانے ہوں، دکانیں ہوں یا پھراسکولز استحصال بہرحال سب کا ہی ہوتا ہے۔

اس بلاگ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں