104

اسلامی فلم انڈسٹری – جہانزیب راضی

نوٹ: یہ مضمون 10 اکتوبر 2017 کو لکھا گیا تھا. “ارطغل” کی پذیرائی اور اسلامی تاریخ کو بطور فلم انڈسٹری متعارف کروانے کے حوالے سے جو بحث و تمحیث جاری ہے اس میں یہ مضمون خاصا کاآرمد اور معلوماتی ہوسکتا ہے مزید یہ کہ پچھلے 3 سالوں میں اس “انڈسٹری” میں جو تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں عین ممکن ہے کہ اس لحاظ سے اس مضمون میں کچھ چیزیں آپ کو کم یا زیادہ بھی محسوس ہوں.

پاکستان ٹی-وی کے معاملے میں بھی ہندوستان سے ایک سال بڑا ہے ۔ پاکستان میں ٹی-وی 1964 میں آیا جبکہ بھارت میں 1965 میں ۔ یہ وہ دور تھا جب پاکستان فلم انڈسٹری آسمان کو چھو رہی تھی ۔ پورے بر صغیر میں پاکستانی ہیروز کا دور دورہ تھا ۔ ادھر کو ئی پاکستانی فلم ریلیز ہوتی اور ادھر سارا ہندوستان اس فلم کا دیوانہ ہوجاتا ۔ پاکستان نے شوبز انڈسٹری کا آغاز بھی بڑی اسکرین سے کیا ۔ آہستہ آہستہ چھوٹی اسکرین پر بھی بہترین قسم کے ڈرامے نظر آنے لگے ۔
1970 اور 1980 کی دہائی پاکستانی فلم انڈسٹری کے لئیے کمال کا زمانہ تھا ۔ پورے ہندوستان تک میں پاکستانی فلموں اور ڈراموں کا طوطی بولتا تھا ۔ لیکن یہی وہ زمانہ تھا جب ہندوستان نے بھی فلم انڈسٹری میں نام بنانا شروع کردیا تھا لیکن چھوٹی اسکرین پر وہ ابھی تک بھی پاکستان کا مقابلہ کرنے سے قاصر ہے ۔
90 کی دھائی پاکستانی فلم انڈسٹری کے لئیے زوال کا پیغام لے کر آئی جبکہ یہی وقت ہندوستان کی فلم انڈسٹری کے لئیے عروج کا زمانہ تھا ۔ پاکستانی فلموں ڈراموں ، اداکاروں حتی کہ اشتہارات تک کا یہ عالم تھا کہ لوگ ہندوستان میں پاکستانی اشتہارات پورے ذوق و شوق سے دیکھا کرتے تھے ۔ 1989 میں میری والدہ کا ہندوستان جانا ہوا تو انھوں نے بتایا جب 8 سے 9 بجے والے ڈرامے کا وقت ہوتا تھا تو ہندوستان تک میں گلیوں میں سنا ٹا ہوجایا کرتا تھا ۔ فلم اور ڈرامہ انڈسٹری کی گہری چھاپ کا ندازہ آپ اس بات سے لگا لیں کہ شاہ رخ خان بارہا اس بات کا اعتراف کرچکے ہیں کہ انکا انداز اداکاری وحید مراد کا سا ہے کیونکہ میں ان کو کاپی کرنے کی کوشش کرتا ہوں ۔ پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کا ایک نام توقیر ناصر ہے کہ جن کا نام بھی شاید آج کی نسل نے نہیں سنا ہوگا لیکن اجے دیوگن نے اس بات کا برملا اظہار کیا کہ مجھے ان کا انداز اداکاری بھاتا تھا ۔ اور آپ توقیر ناصر کا انداز اداکاری دیکھ لیں آپ کو اجے دیوگن کی اداکاری سمجھ آجائیگی ۔
یہ بھی ہندوستان کا المیہ ہے کہ ایک ارب سے زیادہ آبادی رکھنے والا ہندوستان مزاح میں معین اختر اور عمر شریف جیسا ایک مزاحیہ آرٹسٹ بنانے تک سے قاصر تھا۔ آپ کو اکشے کمار کے سیدھے ہاتھ میں جو دھاگہ نظر آتا ہے وہ عمر شریف سے انھوں نے ان کی شاگردی میں آنے کے بعد بندھوایا تھا ۔
1994 کی نیویارک کی ایک کانفرنس میں ہندوستان کے وزیر اطلاعات نے ایک پاکستانی صحافی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اکیسویں صدی میں ہمیں اپنی بات پہنچانے کے لئیے صرف اپنی فلم انڈسٹری کافی ہوگی ہم اپنی فلم انڈسٹری کو اتنا مضبوط کردینگے کہ دنیا ہمارا موقف ہماری فلمیں دیکھ کر جانے گی ۔ اور ہندوستان نے یہ کر دکھایا آپ کوئی ہندوستانی فلم اٹھا کر دیکھ لیں آپ کو اس میں ٹرین ، اسٹیشن ، پٹڑیاں ، بوگیاں ضرور نظر آئینگی اور یہ بھارت کا دنیا کو پیغام ہے کہ ہماری ریلوے دنیا کی بہترین ریلوے میں سے ایک ہے ۔ بہرحال اور دوسری طرف ہماری فلم انڈسٹری ہے اور اس کے بے تکے موضوعات سوائے فحاشی و عریانی کے کوئی دوسرا پیغام دنیا کو نہیں دے رہے ہیں ۔ ہندوستان نے حال ہی میں اپنے کھیلوں کو پروموٹ کرنے کے لئیے کئی فلمیں بنائی ہیں جن میں دنگل، چک دے انڈیا اور سچن سر فہرست ہیں ۔ آپ ان فلموں کو دیکھیں آپ ہندوستانیوں کی محنت اور لگن کے دیو انے ہوجائیں گے چاہے وہ بطور اداکاری و ہدایت کاری ہو یا واقعی وہ کھیل ہو ۔
دوسری طرف ہم نے” شاہد آفریدی” کے نام سے فلم بنائی میں حیران ہوں کہ شاہد آفریدی نے اس کو برداشت کیسے کیا ۔ فلم دیکھنے کے بعد شاہد آفریدی سے بڑا عیاش آدمی آپ کو کوئی نہیں لگے گا اور اسکا ٹیلنٹ صرف بے حیائی ہی دکھایا گیا ہے ۔ آپ تعلیم کو لے لیں، تاریخ کو لے لیں کونسا موضوع ہے جس پر وہ کام نہیں کر رہے ہیں اور ان موضوعات پر بنائی جانے والی فلمیں دو دو سو اور تین تین سو کروڑ سے زیادہ کا کاروبار کر رہی ہیں اور ہم ابھی تک خاندانی پھڈوں ، گھر سے بھاگنے ، لاہور سے آگے اور پنجاب سے پیچھے نہیں جا سکے ہیں ۔ عاشر عظیم صاحب نے کرپشن کے موضوع پر ایک فلم بنائی تو اسے کسی نے اشتہار تک دینا گوارہ نہیں کیا اور بعد ازاں اس پر بھی پابندی لگا دی گئی ۔ یہ ہے ہماری سوچ اور اپروچ ۔
ہمارے ہاں فلمیں بنانے کا ایک بڑا مقصد مذہبی طبقے کو نشانہ بنانا بھی ہوتا ہے ۔ شعیب منصور صاحب پاکستان کا ایک بہت بڑا نام ہیں لیکن جب ان کو جنید جمشید سے دکھ پہنچا تو انھوں نے فورا “خدا کے لئیے ” اور ” بول” بنا کر اپنے دل کی بھڑاس مذہبی طبقے پر نکال دی اور اس میں حساس شرعی موضوعات کو نشانہ بنایا ۔ اور دوسری طرف آپ ہمارے مذہبی طبقے کی سادگی ملاحظہ کریں کہ اس فلم کے خلاف ہماری منبر و محراب سے صدائیں بلند ہورہی ہیں ۔ میں خود ایک مسجد میں تھا جس میں امام صاحب کا موضوع یہی “فلمیں” تھیں ۔ کوئی ہمارے مذہبی طبقے کو بھی سمجھائے کہ جناب ملک میں فلمیں اور ڈرامے دیکھنے والوں کی تعداد 90 فیصد سے زیادہ ہے جبکہ نماز کے لئیے بروقت جمعہ میں آنے والے 1 فیصد بھی نہیں ہیں ۔ جب کتاب کا جواب کتاب کی صورت میں دیا جاتا ہے تقریر کا جواب تقریر کی صورت میں ہوتا ہے ۔ یہ سارا مذہبی طبقہ اس کافر کیمرے کے سامنے بیٹھ کر حسین و خوبصورت اینکرز کے درمیان اسلام پر تبادلہء خیال کرتا ہے تو جناب فلم کا جواب بھی فلم سے ہی دیا جائیگانا!
آصف رضا میر صاحب نے اپنی اے – بی – سی پروڈکشن کے تحت ایک ڈرامہ سیریل ریلیز کیا تھا ” میں عبد القادر ہوں ” کے نام سے جس میں پہلی دفعہ مذہبی طبقے کو عزت دی گئی تھی اور انکا اپنا مزاج بھی شاید ایسا ہی ہے ۔ اخلاق باختہ ترکی ڈراموں کی پاکستان آمد پر انھوں نے پاکستان کی ایک مذہبی،سیاسی اور فلاحی تنظیم کے کراچی دفتر میں جاکر ان کے ذمہ داران سے مل کر تحفظات کا بھی اظہار کیا تھا اور مدد بھی مانگی تھی ۔
اسلئیے میرا خیال ہے کہ اب بڑی تعداد میں ہمیں ایسے پروڈیوسرز ، ڈائریکٹرز اور اسکرپٹ رائٹرز درکار ہیں جو اسلام ،قرآن اور اسلامی معاشرے کی صیح عکاسی کر سکیں ۔ اگر آپ اس ڈیجیٹل دنیا کی اکیسویں صدی میں بھی وہی انیس سو ڈیڑھ کے طریقے اپناتے رہے تو یقین کریں ہمارا حال بھی نوکیا کے سی – ای – او سے زیادہ اچھا نہیں ہوگا ۔ مولانا مودودی نے کہا تھا کہ ” کوئی چیز اچھی یا بری نہیں ہوتی بلکہ اسکا استعمال اس کو اچھا یا برا بنا تا ہے ۔ آپ مان لیں کہ اس دور میں ہمیں قلم کے ساتھ کیمرے کو بھی اپنا ہتھیار بنانا پڑیگا ۔

اس بلاگ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں