103

اسباب کی دنیا – جہانزیب راضی

تم کہہ رہے ہو کہ تم نے زندگی میں پہلے بھی ایک دفعہ جمعہ چھوڑا تھا کیونکہ تم بیمار تھے؟ “جی بالکل” میں نے جواب دیا۔ اچھا مجھے ذرا بتاؤ کہ اگر ڈاکٹر تمہیں بتاتا ہے کہ بار بار اٹھنے، بیٹھنے اور چلنے، پھرنے سے پرہیز کریں۔ گھر میں ہی نماز ادا کرلیں تو کیا کروگے؟ “واقعی کوئی سنجیدہ بیماری ہوئی تو گھر میں پڑھ لوں گا” اگر ڈاکٹر کہتا ہے کہ جھک کر نماز پڑھنا آپ کی آنکھوں کے لیے خطرناک ہے تو کیا پھر بھی بار بار رکوع اور سجدہ کرو گے؟ “شاید نہیں” میں نے کچھ سوچتے ہوئے جواب دیا۔
چلو ایک لمحے کے لئے مان لو کہ تم کسی وی- آئی – پی ایئر لائن کی بزنس کلاس میں کراچی سے امریکہ کا سفر کر رہے ہو تو قصر کرنا افضل ہوگا یا پوری نماز پڑھنا؟ اور اگر آپ میں تقوی کا بخار آبھی گیا تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر قصر کون اور کب کرے گا؟ اور وہ قابل عمل کب ٹھہرے گا؟ چلئیے آپ اسی ایئرلائن میں ہیں اور رات 3 بجے کراچی سے نیویارک کیلئے محو پرواز ہیں، رمضان المبارک کا مہینہ ہے تو سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 182 اور 183 کی رو سے اس فائیو اسٹار “سفر” میں آپ کا روزہ رکھنا افضل ہوگا یا چھوڑ دینا افضل ہوگا؟
ایک لمحے کے لیے مان لیں کہ آپ نے روزہ رکھ لیا اور قصر بھی نہیں کی تو سوال یہ ہے کہ قصر کرنے والے اور روزہ نہ رکھنے والے کے لئے آپ جیسے اہل علم و دانش کی کیا رائے ہوگی؟ میں خاموشی سے ان کی بات سمجھنے اور مسلسل ہضم کرنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن مجھے میرے جمعہ نکل جانے کا بے حد قلق اور افسوس تھا۔
حضرت بازار سارے کھلے ہیں، مارکیٹیں چکاچوند ہورہی ہیں۔ آپ مارکیٹوں میں تو جائیں کھوے سے کھوا لگ رہا ہے اور کرو نا صرف مسجدوں میں ہی پھیلے گا؟ وہ مسکرائے میرا ہاتھ گرم جوشی سے دبایا اور بولے؛ “برخوردار! ایک کام کرو پہلے طے کر لو” کیا طے کرلوں؟ میں نے حیرت سے پوچھا۔ “یہی کہ دین پر عمل ردعمل کی بنیاد پر ہوگا یا قرآن و حدیث کی تعلیمات کی بنیاد پر؟
چلیں دین کی تعلیمات ہی لے لیں۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کبھی ایسا ہوا کہ لوگ مساجد سے دور ہوگئے ہوں؟ “ہاں ہوا ہے” وہ فورا بولے۔ میں نے قدرے چیخ کر کہا؛ “یہ کیا بات کر دی آپ نے؟ وہ سخت لہجے میں برہم ہوتے ہوئے بولے؛ “بحث کے دوران اپنی آواز کے بجائے دلائل کو بلند کرنا سیکھو کیونکہ زمین پر پھول بادلوں کے گرجنے سے نہیں بلکہ برسنے سے اگتے ہیں، اور انسان کے ناحق ہونے کے لیے یہ کافی ہے کہ وہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھے، اپنی عقل کو بے لگام چھوڑ دے، منہ سے جھاگ اڑائے اور دلائل کے بجائے جذبات کی روشنی میں فیصلہ کرتا پھرے”۔
میری ساری جذباتیت جھاگ کی طرح بیٹھ گئی۔ وہ دوبارہ گویا ہوئے “ہاں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں آپ نے شراب پی کر آنے والوں کو مسجد میں آنے سے منع کیا، جب تک شراب کی حرمت کا حکم نہیں آ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ “پیاز، لہسن اور ادرک کھا کر مسجد میں نہ آیا کرو، اس سے تمہارے دوسرے مسلمان بھائیوں کو تکلیف پہنچتی ہے اور رحمت کے فرشتے دور چلے جاتے ہیں”، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب سخت بارش ہو یا خوف ہو تو گھر میں رہ کر نماز پڑھنا زیادہ بہتر ہے اور “خوف” ایک ایسی اصطلاح ہے جس کا اطلاق ہر دور میں اس دور کے حساب سے ہی ہوگا۔
آپ کی بیماری کس نوعیت کی اور اس میں کتنا پرہیز کرنا ہے، اس کا فیصلہ آپ خود کرتے ہیں یا آپ کا ڈاکٹر؟ “یقینا میرا ڈاکٹر کرتا ہے” میں نے پرسکون انداز میں جواب دیا۔ تو پاکستان سے لے کر دنیا کے 194 ممالک کے ڈاکٹرز، اطباء اور حکماء آپ سے کہہ رہے ہیں کہ ایک دوسرے کے قریب مت آؤ، فاصلہ اختیار کیے رکھو، دوررہو، ہاتھ نہ ملاؤ، احتیاط کرو تو ٹھیلہ لگانے والے سے لیکر، پروگرامنگ کرنے والے تک اور صبح سے شام تک سیلز مینی کرنے والے سے لے کر دوکان چلانے والے تک وہ تمام لوگ جو دو روپے کی دوا بھی ڈاکٹر کی مرضی کے بغیر نہیں کھاتے ہیں ان کے اندر کا ڈاکٹر بار بار کیوں جاگ جاتا ہے میں سمجھنے سے قاصر ہوں۔
میں نے اپنی ہنسی پر بمشکل قابو پایا اور اگلا سوال داغ دیا، لیکن “حضرت! مسجد میں آنے یا نہ آنے کا فیصلہ ڈاکٹرز اور طبیبوں نے نہیں کرنا ہے، یہ ہمارے ایمان کا مسئلہ ہے”۔ ویسے تو ایمان کا تعلق صرف باجماعت نماز یا جمعہ کی نماز سے نہیں ہے لیکن چلے اگر مان بھی لیں تو اس کا فیصلہ بھی علماء ہی کریں گے نا! جن کے پیچھے آپ لوگ آنکھیں بند کرکے چلتے ہیں۔ نہ کبھی قرآن کھول کر پڑھنے کی زحمت کرتے ہیں، نہ ہی اس کو سیکھتے ہیں اور نہ ہی دین پر وقت لگاتے ہیں۔ تو یقینا اس کا فیصلہ بھی وہی لوگ کریں گے جنہوں نے اپنی زندگی دین سیکھنے پر لگائی ہے۔ میں یہاں بھی حیران ہوتا ہوں کہ اس وقت پوری امت مسلمہ کے تمام مکاتب فکر کے تقریبا تمام ہی علماء اس بات پر متفق ہوگئے ہیں کہ اجتماعات سے پرہیز کریں لیکن ان کے پیروکاروں نے خود عالم، مفتی اور شیخ المشائخ بننے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
اس حادثہء وقت کو کیا نام دیا جائے؟
سید ابوالاعلی مودودی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا تھا کہ؛ اس امت کا مسئلہ یہ بھی ہے کہ دین پر “مرنا” جانتی ہے لیکن دین پر “جینا” نہیں جانتی۔ سوائے جہاد کے دین اسلام کا کوئی رکن ایسا نہیں ہے جس کے لیے انسانی جان خطرے میں ڈالی جائے لیکن قربان جائیے اس قوم کی”دینی ناسمجھی” پر کہ یہ قوم ہیٹ اسٹروک کے باوجود اپنا روزہ نہیں توڑتی ہے کیونکہ اس “معصوم” قوم کو معلوم ہی نہیں ہے کہ جان اصل میں دینی کہاں ہے اور خون بہانا کہاں پر ہے۔
آپ جمعہ کے خطبہ ثانی میں ہر ہفتے اپنے امام سے سنتے ہیں کہ اس “السلطان المسلم ظل للہ فی الارض من اھان سلطان اللہ فی الارض اھانہ اللہ(ترجمہ: مسلمان حکمران زمین پر اللہ کا سایہ ہے اور جس نے حکمران کی نافرمانی کی اس نے گویا اللہ کی نافرمانی کی)”۔ یہاں لفظ پکا مسلمان حکمران یا عادل حکمران نہیں ہے بلکہ صرف اور صرف “مسلمان حکمران” کے الفاظ ہیں جس کو ملک کی 84 فیصد مسلمان عوام نے بخوشی منتخب کیا ہے اور نہ صرف منتخب کیا ہے بلکہ “ریاست مدینہ” کے خواب کے ساتھ لے کر آئی ہے، اب اس کی حکومت میں کیے گئے ہر فیصلے پر عمل کرنا بہرحال آپ کی ذمہ داری ہے۔
1952میں قرارداد مقاصد پاس ہوجانے اور 1973کے متفقہ اسلامی آئین کی رو سے اس ملک کا حکمران “سلطان المسلم” ہے اور اس کی اطاعت کرنا آپ پر واجب ہے۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم امام عالی مقام حضرت حسینؓ کی طرح ایک ہی دفعہ اٹھنے کے بجائے انہی چندی باتوں پر سیخ پا ہوتے ہیں، احتجاج کرتے ہیں، چیختے چلاتے ہیں، روتے ہیں مگرمچھ کے آنسو بہاتے ہیں مگر جب واقعی کسی “سلطان المسلم” کو منتخب کرنے کا وقت آتا ہے تو ہم پھر انہیں نمازوں پر پابندی لگانے والے “سلطان المسلم” کو منتخب کر لیتے ہیں۔
جتنی تکلیف آپ کو جمعہ کے نکل جانے پر ہے اور جتنا غم مسجدوں میں چھپ چھپ کر نماز پڑھنے کا ہورہا ہے اس کا دسواں حصہ بھی اگر سودی نظام معیشت، فاسق نظام سیاست اور کافرانہ نظام عدالت پر ہوتا تو شاید آپ کی اس پیوند شدہ اور کہیں مٹی کہیں کے روڑے سے ملی دینی سمجھ اور فقہی سوجھ بوجھ شاید ذرا زیادہ ہوتی۔
وہ جذباتی انداز میں بولے؛ “جب حضرت عیسی علیہ السلام آسمان سے جامع مسجد دمشق کے مینار پر آئیں گےتو نیچے اترنے کے لیے سیڑھی مانگیں گے، کہنے والے کہیں گے کہ آپ آسمان سے زمین پر بغیر کسی سہارے کے آ سکتے ہیں تو مینار سے فرش پر کیوں نہیں آ سکتے؟ حضرت عیسی علیہ السلام نہایت خوبصورت جواب دینگے وہ فرمائیں گے، میں اب اسباب کی دنیا میں آ چکا ہوں اور یہاں مجھے ہر کام اسباب کے ساتھ ہی کرنا ہے”۔ بر خوردار! ہم سب اسباب کی دنیا میں رہتے ہیں اور یہاں ایمان، توکل، یقین اور توحید جتنے اہم ہیں، احتیاط، علاج اور اسباب بھی اتنے ہی اہم ہیں میں نے ان کا ہاتھ چوما اور تیزی سے باہر نکل آیا۔

اس بلاگ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں