103

آہ! نسیم صدیقی صاحب – جہانزیب راضی

“آپ کے خیال میں یہ سی وی کسی استاد کی سی وی ہے؟” میں نے کچھ گھبراتے ہوئے کہا؛ “سر! دراصل مجھے موقع نہیں مل سکا مجھے بالکل اچانک معلوم ہوا کہ آج آپ کے ساتھ انٹرویو ہے اس لیے جیسی سی وی بنی ہوئی تھی، ویسے ہی لے آیا”۔
میری سی وی ایک خالص نیٹ ورک انجینئر کی سی- وی تھی، جس نے دو سال تک آئی –ایس- پیز( انٹرنیٹ سروس پرووائیڈرز) میں جاب کر رکھی تھی۔ دلچسپ بات تو یہ تھی کہ میری سرٹیفیکیشنز تک اسی میں تھیں اور میں اپنے دوست اور استاد محترم عبید احمد خان(موجودہ پرنسپل عثمان پبلک اسکول کیمپس 9)کے اچانک فون پر بھاگا دوڑا ماڈل کالونی سے نارتھ ناظم آباد پہنچا تھا۔
“اچھا یہ بتائیں کہ آپ کو درس و تدریس کا کتنا تجربہ ہے؟” میں نے ایک دفعہ پھر لجلجاتے ہوئے کہا؛ “سر! میں نے ٹیوشنز پڑھائی ہیں، گھر پر بچوں کو جمع کر کے تربیتی پروگرامز کیے ہیں لیکن کسی اسکول کا تجربہ مجھے نہیں ہے”۔ سی- وی تو وہ پہلے ہی اٹھا کر ایک طرف رکھ چکے تھے البتہ انہوں نے مجھے بہت گہری نظروں سے دیکھا اور بولے؛ “ٹھیک ہے آپ جائیں آپ کو بتا دیا جائے گا”۔ یہ میری پہلی اور آخری باقاعدہ اور باالمشافہ ملاقات تھی جو عثمان پبلک اسکول کے سابق اور اس انسپریشن اسکول کے موجودہ ڈائریکٹر جناب نسیم صدیقی صاحب سے ہوئی۔
کیونکہ میں کیمپس 9 میں ہی پڑھاتا تھا اور نسیم صاحب اکثر وہاں آتے اور دفتر میں بیٹھے تھے اس لیے چلتے پھرتے ان سے سلام دعا ہو جاتی تھی۔ ایک دو دفعہ اسکول میں ہی ٹیچرز کی ورکشاپ ہوئی تو ان سے پھر ملاقات کا شرف حاصل ہو گیا۔
2016 کی گرمیوں کی چھٹیوں کے اختتام پر تمام کیمپسسز کے اساتذہ کی ایک مشترکہ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا “محترم اساتذہ اکرام! عثمان پبلک اسکول کوئی جنگل میں ایک اور درخت کا اضافہ نہیں ہے، بلکہ ہمیں باکردار، بااخلاق اور زمین پر خلیفۃ اللہ فی الارض کی تیاری مطلوب ہے”۔ 1989 میں قائم ہونے والے عثمان پبلک اسکول کو 1996 میں نسیم صدیقی صاحب جیسا ڈائریکٹر نصیب ہو گیا۔ اہم بات یہ ہے کہ کسی ادارے کو اگر کوئی مخلص قیادت مل جائے تو اس کی خوش نصیبی ہے۔ نسیم صدیقی صاحب نے ایک عرصہ بینک میں گزارا تھا اس لئے ان کی انتظامی صلاحیتیں کمال کی تھیں، کچھ ہی عرصہ میں محترمہ صفورہ نعیم صاحبہ نے عثمان جوائن کرلیا اور اس طرح اکیڈمک اور انتظامی صلاحیتوں کی انتہاؤں پر مشتمل ان دو پرخلوص ہستیوں نے 25، 26 سال لگا کر اپنا خون جگر عثمان پبلک اسکول پر نچوڑ دیا۔
دیکھتے ہی دیکھتے ایک سے دو، دو سے چار اور پھر اٹھارہ کیمپس کھڑے کردیے مگر اس طرح کہ ان کے تعلیمی اور تربیتی معیار پر کوئی آنچ نہ آئے۔ میں تقریبا دو سال تک عثمان پبلک اسکول کا حصہ رہا ہوں اور مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ آج کے اس دور میں بھی دوسرے تعلیمی اداروں اور ان کے بے لگام طلبہ و طالبات کے مقابلے میں عثمان پبلک اسکول کے طلبہ و طالبات میں آج بھی اساتذہ کا احترام اور تربیت کا عمل دوسرے بہت سے نام نہاد “اسلامی” اسکولوں سے بھی کہیں زیادہ اور بہتر ہے اور اس میں بہت بڑا ہاتھ نسیم صدیقی صاحب کا تھا۔
اس دور میں جب اسکولز صرف کمانے کے بارے میں سوچتے ہیں اس وقت بھی عثمان پبلک اسکول کی فیسیں متوسط طبقے اور ان علاقوں میں موجود دیگر اسکولوں کے مقابلے میں نہایت مناسب تھیں۔ عثمان کی ایک ایک سیٹ کے لیے کانٹے کا مقابلہ ہوتا تھا اور والدین اس حسرت کو لے کر چلے جاتے تھے کہ کاش ہمارے بچے کا داخلہ بھی عثمان میں ہو جائے۔ میں نے خود تین دفعہ عثمان نے ٹیسٹ دیا اور تینوں دفعہ داخلہ نہ مل سکا مگر پھر خوش قسمتی سے اسی کیمپس میں بطور استاد دو سال تک درس و تدریس کا موقع مل گیا۔
عثمان پبلک اسکول کی کامیابی کی اصل خاصیت اس کا اوپر سے لے کر نیچے تک جائزے اور انتظامی معاملات کا وہ نظام ہے جس نے اسے کبھی کمزور نہیں ہونے دیا اور اس نظام کی تخلیق میں بھی بہت بڑا ہاتھ نسیم صدیقی کا تھا۔ میں بالکل ایک کورے کاغذ کی طرح تھا جب میں عثمان پبلک اسکول میں بطور استاد گیا لیکن دو سال کے بعد مجھے اندازہ ہوا کہ صرف طلبہ کے لئے ہی نہیں خود اساتذہ کے لئے عثمان پبلک اسکول ایک بہت بڑا انسٹیٹیوشن ہے اور پھر چاہے وہ شاہد وارثی (آفاق) ہوں، سلمان آصف صدیقی(ای – آر – ڈی –سی) ہوں یا شہزاد قمر(اتالیق) ان تمام لوگوں نے کبھی نہ کبھی عثمان سے ہی اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور ایک سوچ لے کر وہاں سے نکلے۔
ان تمام سالوں میں جتنے بھی طلبا و طالبات، اساتذہ کرام اور مربین عثمان سے تیار ہو کر نکلے ہیں یقینا ان سب کا صدقہ جاریہ نسیم صدیقی صاحب کے کھاتے میں ہے۔ کل رات سونے سے قبل جب میں نے موبائل پر آخری نظر ڈالی تو یہ افسوسناک خبر آنکھوں کے سامنے آگئی کہ نسیم صدیقی صاحب اس دار فانی سے کوچ کر گئے ہیں۔
بے شک موت ہی ہے جو وقت مقررہ تک انسان کی حفاظت کرتی ہے مگر اصل بات یہ ہے کہ موت کے بعد کتنے لوگ زندہ رہتے ہیں؟ اور نسیم صدیقی صاحب ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے موت کے بعد کی زندگی کو ترجیح دی اور اپنے لئے ایک ایسا درخت تیار کرکے چلے گئے جو نہ صرف ان کی قبر پر سایہ دیتا رہے گا بلکہ ان شاءاللہ ایک مدت تک ان کے نام کو بھی زندہ و تابندہ رکھے گا۔ اللہ ان سے راضی ہو اور ان کی مغفرت فرمائے آمین۔

اس بلاگ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں