282

آزاد چھوڑ دیں – جہانزیب راضی

آپ کو معلوم ہے بچے کو سب سے زیادہ نفرت کس چیز سے ہوتی ہے؟ وہ بولیں “نہیں”۔ بچے کو سب سے زیادہ نفرت بن مانگے مشورے سے ہوتی ہے، ہر وقت کی نصیحت اور زبردستی سمجھانے سے ہوتی ہے۔ اگر آپ واقعی اپنے بچے سے محبت کرتی ہیں تو یہ تینوں کام چھوڑ دیں۔ انہوں نے اوپر سے لے کر نیچے تک مجھے بغور دیکھا اور فرمایا؛ “مطلب نہ میں اس کو اس کی بھلائی کے لئے کوئی مشورہ دوں، نہ کوئی نصیحت کروں اور نہ ہی اس کے بھلے کی کوئی بات اسے سمجھاؤں؟” میں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
“تو پھر وہ زندگی میں سیکھے گا کیسے؟” انہوں نے فورا اگلا سوال داغا۔ میں ہنسا اور بولا؛ “پہلے تو دماغ سے اس غلط فہمی کو بھی نکالئیے کہ بچہ آپ کے مشوروں، نصیحتوں اور سمجھانے سے کچھ سمجھتا ہے”۔ آپ ظلم کرتے ہیں جب آپ بچے کی ہر حرکت اور اس کے ہر کام میں ٹانگ اڑانے لگتے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا؛ “کیا آپ ساری زندگی اپنے بچے کو pamper میں رکھ سکتی ہیں؟” وہ زور سے ہنسیں اور بولیں “ایسا کیسے ہو سکتا ہے”۔ میں نے سنجیدگی سے جواب دیا لیکن ایسا ہو رہا ہے۔ آپ اپنے بچے کو ساری زندگی pamper میں ہی رکھتے ہیں بلکہ اس کی زندگی کو پیمپر کردیتے ہیں۔ جس طرح بچے کو pamper فری کرنے کی ٹریننگ دی جاتی ہے ٹھیک اسی طرح زندگی کے ہر مرحلے اور کام میں اس کو فری کرنے کی ٹریننگ دی جانی چاہیے، آپ ساری زندگی واش روم میں اس کے سر پر لوٹا لے کر نہیں کھڑے ہو سکتے ہیں تو پھر زندگی کے ہر فیصلے میں لوٹا لے کر کیوں کھڑے ہو جاتے ہیں؟
“تم نے فلاں لڑکے سے کیوں دوستی کر رکھی ہے؟”، “آئندہ تم اس سہیلی کے ساتھ نظر آئیں تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا”، “زیادہ دوستیاں کرنے کی ضرورت نہیں ہے، پڑھائی پر دھیان لگاؤ”، “ہر وقت دوستوں اور سہیلیوں میں وقت برباد کرنے کے بجائے شریفوں کی طرح اپنے کام سے کام رکھو”۔
دوستی کرنا، اپنے ہم عمر بچے یا بچیوں کے ساتھ وقت گزارنا، اپنی روزمرہ کی کہانیاں اور قصے شیئر کرنا ان کا بنیادی حق ہے اور آپ چاہے کتنے ہی مخلص اور دوستانہ مزاج کیوں نہ رکھتے ہوں بہرحال آپ ان کے والدین ہیں اور سب کچھ کے بعد بھی ایک فطری جنریشن گیپ آپ کے اور آپ کے بچوں کے درمیان موجود ہے اور وہ کبھی پورا نہیں ہوسکتا اس لئے بچے کو خود سے دوستیاں کرنے دیجیئے، سہیلیاں بنانے دیجئے۔ بس آپ بھی ان کے دوستوں سے دوستی اور سہیلیوں کی اپنی سہیلی بنا لیں تاکہ کہ آپ کو زیادہ فکر مند ہونے کی ضرورت نہ پڑے۔
دوسرا بڑا المیہ یہ ہے کہ بچے کے ساتھ ہونے والی چھوٹی موٹی یا بڑی باتوں پر بھی سر پر کھڑے ہو کر چیخنا چلانا، اپنی پرانی نصیحتوں کو دہرا نہ اور یہ وعیدیں سنانا کہ “یہ سب ماں کی نافرمانی یا باپ کی بات نہ ماننے کا نتیجہ ہے وغیرہ وغیرہ”۔ آپ کے خیال میں اس طرح کرنے سے کیا آپ کا بچہ یا بچی آئندہ سے پکی توبہ کر لیں گے اور پھر ہمیشہ آپ کے اطاعت گزار بن جائیں گے؟ ایسے کسی بھی موقع پر جب بچہ کتنا ہی بڑا نقصان کیوں نہ کر لے، امتحانات میں فیل ہو جائے، کسی چیز کا نقصان کر دے، راستے میں پیسے گم کر کے آ جائے یا پھر کوئی کام صحیح طریقے سے نہ کر پائے تو آپ نے صرف اس کے دکھ میں شریک ہونا ہے، اس کے ساتھ ہمدردی سے پیش آنا ہے، تعزیت کے جملے بولنے ہیں اور بس۔ اس سے زیادہ ایک لفظ بھی اس کی اپنی تخلیقی صلاحیتوں اور فیصلہ سازی پر اثر انداز ہوگا۔
“میرا مشورہ ہے کہ”، “میرا خیال ہے کہ”، “مجھے لگتا ہے کہ”۔۔۔ فی الحال ابھی آپ اپنا مشورہ، اپنا خیال اپنے پاس ہی رکھیں اور اس کو اپنے خیالات کو مجتمع کرنے دیں۔ “اگر تم ایسا کر لیتے”، “اگر تم ویسا کرلیتے”، “اگر تم ان سے پوچھ لیتے”۔۔۔ آپ نے پہلا کام اس سے ہمدردی کرنی ہے، اس کے زخم پر مرہم رکھنا ہے، اس کی تکلیف میں شریک ہونا ہے اور جب وہ ذرا بہتر کیفیت میں آ جائے تو اس سے پوچھنا ہے کہ ان حالات میں اب تمہارا کیا خیال ہے اور برائے مہربانی یہ سوال اپنا خیال پیش کرنے کے لئے نہ پوچھیے گا بلکہ اسی کے خیالات اس سے کُریدیں تاکہ وہ فیصلہ سازی سیکھے۔
آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ ذہین سے ذہین اور باتونی بچہ بھی کلاس روم میں آکر نکما اور خاموش بن جاتا ہے۔ اس کی وجہ ہمارا مصنوعی تعلیمی نظام ہے ہم ایک “فیک” ماحول میں زندگی بسر کرتے ہیں اور اسی ماحول کو ہم اپنے گھر میں بھی لاگو کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
آپ سب چھوڑیں صرف اسکولوں میں سلام کرنے کا طریقہ ہی دیکھ لیں۔ بچے جس طرح “کورس” میں کھینچ کھینچ کر اور جھوم جھوم کر ٹیچر کو سلام کرتے ہیں آپ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں ہم زندگی میں کب کیسے اور کس کو اس طرح سلام کرتے ہیں۔
پھر اسکول میں جب بچے کو کھڑا کرکے کسی بھی موضوع سے متعلق سوال پوچھا جاتا ہے تو بچہ گونگا بہرہ بن جاتا ہے کیونکہ زندگی میں جب بھی ہم کوئی بات کسی بھی موضوع سے متعلق سیکھتے ہیں تو “لیکچر” کے بجائے گفتگو، ڈسکشن اور مکالمے کے نتیجے میں سیکھتے ہیں۔ اسکول میں سوال پوچھنے کا عام طور پر طریقہ یہ ہوتا ہے کہ گویا بچے کو کچھ نہیں آتا۔
ہم بچے کو سکھانے کے بجائے اسے “پھنسانے” کی کوشش کرتے ہیں۔ امتحان کا اصل مقصد یہ ہونا چاہیے کہ ہمیں معلوم ہو کہ بچے نے اب تک کیا سیکھا ہے لیکن ہم مشکل سے مشکل پیپر بنا کر یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ بچے نے اب تک کیا نہیں سیکھا ہے، اور سچ بات تو یہ ہے کہ امتحان بچے کے سیکھنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہوتے ہیں چاہے وہ زبانی امتحان ہوں یا عملی امتحان۔
اگر آپ واقعی اپنے بچے کو کچھ سکھانا چاہتے ہیں اور حقیقی معنوں میں کچھ سمجھانا چاہتے ہیں تو گھر میں گفتگو کا ماحول بنائیے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ بچے چپل سیدھے اورصیح پاؤں میں پہنیں تو پھر والدین نے بچے کے سامنے چپل اور جوتے کو بار بار پہننا اور اتارنا ہوگا اور صبر کے ساتھ نتائج کو دیکھنا ہوگا۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ بچہ اپنی چیزیں جگہ پر رکھے تو آپ نے یہ کام اس کے سامنے کرکے دکھانا ہوگا اور بار بار کرنا ہوگا تاکہ وہ سیکھ سکے۔ میں نے اپنا معمول بنایا ہوا ہے کہ میں روز سونے سے پہلے قرآن کی تلاوت کرتا ہوں۔ بیچ بستر پر بیٹھ کر کرتا ہوں اور بآواز بلند کرتا ہوں اور اب اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ جب میں فریش ہو کر واش روم سے باہر آتا ہوں تو میرا بیٹا پہلے سے ہی قرآن ہاتھ میں لیے بیٹھا ہوتا ہے اور بابا بابا کہہ کر مجھے بیٹھنے کا اشارہ بھی کرتا ہے اور قرآن ہاتھ میں تھما کر ساتھ بیٹھ جاتا ہے۔
یہ سب میری زندگی کے تجربات ہیں جن سے میں گزر رہا ہوں اور آپ کو بھی دعوت دیتا ہوں کہ بہت غور سے اپنے بچوں کا مشاہدہ کریں۔ بچوں کو ان کے “کمفرٹ زون” سے نکالیں اور اپنی زندگی کے فیصلوں میں انہیں بہت حد تک آزاد چھوڑدیں۔ آپ کو ایک دلچسپ بات اور بتا دوں کہ جب بچے کو مشورہ چاہیے ہوتا ہے تو وہ خود آپ سے آکر مانگتا ہے یقین نہ آئے تو تجربہ کرکے دیکھ لیں۔

اس بلاگ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں