116

آج نہیں توکبھی نہیں – حفصہ افضل

دو دن پہلے ہی کولا نیکسٹ کا اشتہار نظر سے گزرا دیکھنے کے بعد دل اداس ہو کر رہ گیا اور ذہن یہ سوچنے پہ مجبور ہو گیا کہ لیول بڑھاؤ اور نیکسٹ پہ آؤ۔ اس کا کیا مطلب نکالوں کہ ایک ماڈل جو انتہائی چست اور بے ہودہ لباس زیب تن کرتے ہوۓ اچھلتے کودتے ناچتے ہوۓ نوجوان لڑکیوں کو اس بات کا پیغام دے رہی ہیں کہ لیول بڑھاؤ نیکسٹ پہ آؤ۔ اگرچہ یہ سب کولا کی اشتہار بازی تھی لیکن ساتھ ہی بے ہودگی اور بے حیائی کا کھلم کھلا مظاہرہ ہے۔ یہ عورت کی تعظیم نہیں بلکہ تحقیر ہے۔ کیا اس طرح کے اشتہارات کو کور کرتے ہوۓ نوجوان نسل میں بہادری ہمت اور اعتماد پیدا ہوگا؟ ہرگز نہیں۔ ایسے اشتہارات صرف اور صرف قوم کی اور نوجوان نسل کی بربادی کا سبب ہیں۔ کیا یہ ہمارا اسلامی معاشرہ ہے؟ کہ جہاں عورتوں کے پاس لباس مہیا ہوتے ہوۓ بھی عورتیں برہنہ نظر آئیں؟ ایک مسلم معاشرے کے اندر ایسے بے ہودہ اشتہارات کی تکمیل کرنی چاہیۓ؟ کیا ان بے ہودہ اشتہارات کی تکمیل کرتے ہوۓ مسلم معاشرے کی عورتوں کے تقدس کی پامالی نہیں کی جا رہی؟ کیا ایسے بے ہودہ اشتہارات کو کور کرتے ہوۓ خدا کے عذاب کو دعوت نہیں دی جا رہی؟ جہاں میڈیا بے ہودہ پراڈکٹس کے کلچر کو متعارف کراۓ گا تو وہاں جوانوں میں سلطان صلاح الدین ایوبی جیسی نسل پروان نہیں چڑھے گی۔ آخر کونسا طریقہ کار استعمال کیا جاۓ کہ جس سے اس فحاشی کو ختم کیا جاۓ کہ جس فحاشی نے عورتوں کو برہنہ کردیا ہے استغفراللّٰہ۔ آخر کونسی تہذیب سامنے لائی جاۓ جس کی بدولت فحاشی ختم ہو جاۓ۔ عورتوں کو برہنہ سامنے لاکر ہمارا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ ہمارے ملک کی نوجوان نسل میں اس چیز کی خوب ذہن سازی کی جا رہی ہے جس سے نوجوان نسل کا ذہنی توازن نفسیاتی ہونے کی طرف مائل ہے۔ کیا فحش اور بے ہودہ اشتہارات کے علاوہ تمھارے پاس پراڈکٹس ختم ہوگئیں ہیں؟ خدارا اس پہ غور کیجیۓ کیونکہ نہ اسکا دنیا میں کوئی فائدہ ہے نہ آخرت میں،اگر تم مسلمان ہو تو تم پر یہ بلکل گوارا نہیں اور اگر تم مسلمان نہیں بھی ہو تو ہمارا مسلم معاشرہ ہمیں اس بے حیائی و فحاشی کی اجازت نہیں دیتا۔ میں یہ سوال کرونگی کہ ایسے تمام بے ہودہ اشتہارات جو میڈیا پہ نشر کیۓ جا رہے ہیں مسلمان ہونے کے ناطے کیا اپنا صحیح کردار ادا کر رہے ہیں؟؟ سوچیۓ غور کیجیۓ اپنے آپ سے سوال کیجیۓ کہ ہم جس بے حیائی کو پھیلانے میں ہمہ تن مصروف ہیں تو اسکے بارے میں کوئی پوچھ گچھ نہیں کی جاۓ گی؟ پیمرا ہو یا میڈیا ایک مسلم معاشرے کے اندر دونوں کا کردار مثالی ہونا چاہیۓ۔
اشتہارات ہوں یا ڈرامہ ہو یا کوئی بھی پروگرام ہو اخلاقیات پر مبنی ہونا چاہیۓ تاکہ نئی نسل بہترین طریقے سے جنم لے سکے۔ خدارا اس وبائی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوۓ میڈیا پہ ایسی چیزیں نشر کی جائیں جس سے عوام میں امید جاگے ناکہ مایوسی پھیلے۔ بے ہودہ اشتہارات پر پابندی لگائی جاۓ۔ دنیا کے چند پیسوں کی خاطر اپنے ایمان کو نہیں بیچیں کیونکہ یہ مت بھولیۓ کہ ہم امت محمدیہﷺ ہیں اور امت محمدیہﷺ پر یہ بات فرض ہے کہ برائیوں کے فتنوں کو روکا جاۓ اور نیکیوں کو پھیلایا جاۓ۔
آپ تمام عوام الناس سے بھی گزارش ہے کہ بے حیائی کے خلاف آواز اٹھائیں اس بات کی فکر نہ کریں کہ کوئی بات سننے والا نہیں ہے بس اپنا حق ادا کرتے ہوۓ اپنے اللّٰہ کے حکم کی تعمیل کیجیۓ تاکہ کل اپنے اللّٰہ کے سامنے ہم جواب دہی کر سکیں۔۔
“اگر آج نہیں تو کبھی نہیں”

اس بلاگ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں